ملک میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول،مواقع موجود ہیں، وزیر خزانہ

واشنگٹن(این این آئی)وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ بہتر معاشی نظم و نسق، مالیاتی و بیرونی استحکام اوراصلاحات کے مؤثر اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت میں بہتری آئی ہے، ملک میں سرمایہ کاری کیلئے سازگارماحول اورمواقع موجودہیں،آئی ایم ایف سے سٹاف سطح کے معاہدہ اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری سے حکومت کے اصلاحات کے ایجنڈے پر عالمی اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے،ایف بی آرسمیت معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کاعمل جاری ہے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اورعالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پرمختلف ممالک کے وزرائے خزانہ،اعلی عہدیداروں سے ملاقاتوں اوربین الاقوامی مالیاتی اداروں کے زیراہتمام منعقدہ سیمیناروتقاریب سے خطاب کے دوران کیا۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اورعالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پروزیر خزانہ نے چین کے نائب وزیرِ خزانہ لیاؤ مِن سے ملاقات کی جس میں اقتصادی اصلاحات اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال ہوا،وزیرِ خزانہ نے چینی ہم منصب کو حال ہی میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے سٹاف لیول معاہدے بارے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ معاہدہ حکومت پاکستان کے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عالمی اعتماد کامظہرہے۔وزیر خزانہ نے چین کی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ کے اجرا سے متعلق تازہ پیش رفت سے بھی انہیں آگاہ کیا۔انہوں نے پاکستان کی نیو ڈیویلپمنٹ بینک میں رکنیت کے لیے چین کی حمایت کی درخواست بھی کی۔ وزیر خزانہ نے چین کے نائب وزیرِ خزانہ کو ملک میں کاروبار اورسرمایہ کاری کیلئے سازگارماحول کی فراہمی سے متعلق حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت اور معدنیات کے شعبوں میں چینی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے بورڈ میٹنگز کے دوران مکمل تعاون فراہم کرنے پر آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے دفتر کا شکریہ ادا کیا۔وزیر خزانہ نے چینی نائب وزیرِ خزانہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔وزیرِ خزانہ نے امریکی کانگریس کے رکن اور فنانشل سروسز کمیٹی کے چیئرمین فرنچ ہل سے ملاقات کی،ملاقات میں پاک امریکا معاشی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا۔فریقین نے پاک امریکا اقتصادی اور مالیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کی۔ملاقات میں خاص طور پر مالیاتی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن، نئی معیشت کی ترقی، معدنیات کے شعبے میں شراکت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں وسیع تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔فریقین نے پائیدار معاشی ترقی اور اختراعات پر مبنی شراکت داری کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔وزیرخزانہ نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے خصوصی نمائندے لطفی وائی صدیقی سے بھی ملاقات کی۔وزیرِ خزانہ نے اگست 2025 میں پاکستان کے نائب وزیراعظم کے ڈھاکا کے دورے کا تذکرہ کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان علاقائی معاشی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے نجی شعبہ کی قیادت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ سرکاری شعبہ کی ذمہ داری سرمایہ کاری اور جدت کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ملاقات کے دوران فریقین نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ کی بطور گیم چینجر حیثیت پر اتفاق کیا اوربتایا کہ آئی ٹی کا شعبہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے معیاری روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔وزیرخزانہ نے دونوں ممالک کے درمیا ن علم کے تبادلہ اور باہمی استعداد میں اضافہ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔وفاقی وزیر خزانہ نے جے پی مورگن انویسٹمنٹ سیمینار سے اپنے خطاب میں پاکستان کی اقتصادی اور مالیاتی پالیسی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے شرکا کو مالیاتی، زری اور بیرونی شعبوں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا اورکہاکہ معیشت کے کلیدی اشاریوں میں بہتری آئی ہے،ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔ وزیر خزانہ نے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے سٹاف لیول معاہدے کا ذکرکرتے ہوئے بتایا کہ توسیعی فنڈسہولت(ای ایف ایف) کے دوسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے پہلے جائزے سے متعلق ہے۔انہوں نے ملکی معیشت میں مثبت رجحانات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ بہتر معاشی نظم و نسق، مالیاتی و بیرونی استحکام اور مؤثر اصلاحاتی اقدامات کے نیتجے میں بہتری آئی ہے،وزیرِ خزانہ نے اس موقع پر سرمایہ کاروں کے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔وزیر خزانہ نے جاپان بینک برائے بین الاقوامی تعاون کے گورنر نوبومیتسو ہایاشی سے ملاقات میں ریکو ڈک منصوبے کے لیے قرض دہندگان کے گروپ میں جاپان بینک برائے بین الاقوامی تعاون کی شمولیت کے باضابطہ اعلان کو سراہا۔انہوں نے کہاکہ اس اقدام سے جاپانی کاروباری حلقوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے مثبت پیغام ملے گا۔وزیر خزانہ نے ملاقات کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ حال ہی میں کیے گئے سٹاف لیول معاہدے کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عالمی اعتماد کی علامت ہے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور تحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے پاکستان اور جاپان کے درمیان تعاون کے دیگر ممکنہ شعبوں کو بھی مشترکہ طور پر تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر خزانہ نے حکومت کے پائیدار معاشی استحکام اور اصلاحات کے عزم کو اجاگر کیا۔وزیرخزانہ نے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں بھی شرکت کی اور فورم سے اختراعات کے ذریعے پائیدار اور جامع ترقی کواپنے خطاب کاموضوع بنایا۔ اجلاس میں ”اختراعات کے ذریعے جامع اور پائیدار ترقی کا فروغ“کے موضوع پر بحث کی گئی،وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب میں ٹیکنالوجی کی ترقی کو شمولیت اور استحکام پر مبنی حکمت عملیوں سے جوڑنے پر زور دیا۔ انہوں نے شرکا کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت معیشت کے مختلف شعبوں میں میں جاری صلاحات سے آگاہ کیا اوربتایاکہ ایف بی آر اصلاحات میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے نظام سے کارکردگی اور پیداواریت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دیکھا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ترقی پذیر ممالک میں چھوٹے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مختلف شعبوں میں خدمات کی فراہمی کے معیار میں بہتری آئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں