کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تاحال بحرانی صورتحال برقرار ہے. غزہ کیلئے آنے والی امداد پر اسرائیلی پابندیاں ختم نہیں ہو سکیں دو سال کی تباہ کن اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے سارا غزہ زمین بوس ہو چکا ہے 30 ہزار ملین ٹن سے زائد ملبہ ہٹانے کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس مشینری درکار ہو گی جو غزہ میں دستیاب نہیں بھاری مشینری نہ ہونے کی وجہ سے ملبہ ہٹانے اور لاشوں کی تلاش کا کام بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے مزید کہا ہے کہ اسرائیل تمام مطلوبہ قیدیوں کی لاشیں واپس ملنے تک کوئی امداد غزہ پہنچانے کیلئے تیار نہیں رفح گزرگاہ کھولنے, مدد اور تعمیر نو کے لئے شدید مشکلات کا سامنا ہے ثالث ممالک جنگ بندی پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود اب تک انسانی بحران میں کوئی کمی نہیں آئی رفح گزرگاہ کو دونوں سمتوں سے کھولا جائے، مطلوبہ مقدار میں امداد داخل ہونے دی جائے اور غزہ کی تعمیرِ نو کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے ثالثی کرنے والے ممالک اور امریکہ ملکر غزہ کی بحالی اور امدادی سرگرمیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں تاکہ طویل جنگ کی وجہ سے تباہی سے دوچار ہونے والے فلسطینیوں کے لئے آسانیاں پیدا ہو سکیں۔

