پاکستان ہمسایہ ملک میں قابض توسیع پسندانہ سوچ و ذہنیت رکھنے والے گروہ شدت پسندانہ طرز عمل کا متحمل نہیں ہوسکتا،ایچ ڈی پی

کوئٹہ(این این آئی)ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے بیان میں خطے میں جاری کشیدگی، ہمسایہ ملک میں رجعت پسند اور انتہا پسند رجیم کی جانب سے جارحیت کو خطے کے امن اور خوشحالی کیلئے نا عاقبت اندیشانہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ خطہ اور بطور خاص پاکستان ایک ہمسایہ ملک میں قابض توسیع پسندانہ سوچ و ذہنیت رکھنے والے گروہ کے معاندانہ شدت پسندانہ طرز عمل کے متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے خطے میں دائمی امن و خوشحالی کیلئے ضروری ہے کہ ہمارے پالیسی ساز ادارے ایڈہاک ازم کی بجائے دور اندیشی کی بنیاد پر ملک اور بیرون ملک رجعت پسندی اور شدت پسندی کی بیخ کنی کیلئے عاقلانہ طرز عمل پر مبنی ایسی دائمی پالیسی اپنائیں جس سے خطے کے عوام مسلسل بد امنی اور افلاک کی زندگی سے نجات پا سکیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمسایہ ملک میں عوام کی منتخب حکومت قائم نہیں بلکہ ایک شدت پسند گروہ قرون وسطی کے دور کے خود ساختہ قانون کے تحت وہاں کے عوام پر مسلط ہے جہاں صدیوں سے آباد اقوام بنیادی انسانی اور معاشرتی حقوق سے محروم کردیئے گئے ہیں، خواتین کی تعلیم پر مکمل پابندی عائد ہے بطور خاص ہزارہ قوم کی سرزمین، جائیدادوں پر جبری قبضہ گیری اور ان کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں ایسے میں پاکستان کی مہاجرین کے حوالے سے نئی پالیسی کی بدولت ہزارہ مہاجرین کی پاکستان بدری سے انہیں ہمسایہ ملک کے شدت پسند گروہ کے معاندانہ رویہ سے شدید خطرات درپیش ہے جو انسانی المیہ اور بحران پر منتج ہوسکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلسل بحران کا شکار جنگ زدہ افغانستان میں دائمی امن اور سیاسی و سماجی استحکام ایک وسیع البنیاد حکومت کے قیام میں مضمر ہے جہاں ملک کے عوام اور اقوام کو اپنے نمائندوں کے انتخاب کی مکمل آزادی حاصل ہو،پاکستان سمیت عالمی برادری کو وہاں کی تمام اقوام پر مشتمل وسیع البنیاد حکومت کے قیام کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں