کوئٹہ (این این آئی) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے بارڈر بچاؤ تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارڈر کی بندش نے پنجگور، تربت، مند اور دیگر سرحدی علاقوں کے ہزاروں خاندانوں کو معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ غیر دانشمندانہ فیصلہ روزگار کے دروازے بند کر رہا ہے اور عام عوام کو بھوک و افلاس کی طرف دھکیل رہا ہے۔میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ سرحدی تجارت بلوچستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جہاں سے ہزاروں لوگ اپنے گھروں کا نظام چلاتے ہیں۔ بارڈر بند کرنے کے بجائے حکومت کو اس نظام کو شفاف اور منظم بنانا چاہیے تاکہ عوام کو بھی روزگار ملے اور ریاستی مفادات بھی محفوظ رہیں۔میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی ہمیشہ عوام کے معاشی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے صفِ اول میں رہی ہے اور آئندہ بھی بارڈر سے وابستہ مزدوروں، تاجروں اور عام شہریوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بارڈر بندش کے فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کریں، عوامی نمائندوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد بارڈر ٹریڈ کے لیے ایک جامع اور پائیدار پالیسی مرتب کریں تاکہ خطے میں پائیدار معاشی استحکام اور امن قائم ہو سکے۔

