کوئٹہ (این این آئی) علی اصغر بلوچ کی جبری گمشدگی کو آج 24 سال مکمل ہوگئے۔ علی اصغر بلوچ کو مبینہ طور پر 18 اکتوبر 2001ء کو لاپتہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ لواحقین کے مطابق دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ریاستی ادارے اور حکومتی کمیشن ان کی بازیابی میں ناکام رہے ہیں۔
علی اصغر بلوچ کے اہلِ خانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انصاف اور انسانی حقوق کے تقاضوں کے تحت تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 24 سال گزرنے کے باوجود نہ کوئی معلومات دی گئیں اور نہ ہی کسی عدالت میں پیش کیا گیا، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان، سپریم کورٹ اور انسانی حقوق کمیشن سے اپیل کی کہ جبری گمشدگیوں کے تمام کیسز کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے۔

