کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ جب تک دولت مند طبقے سے اسکی آمدنی کے تناسب سے ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا ملک مالی مشکلات سے نہیں نکل سکے گا. ملک کے مجبور تنخواہ داروں نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں قومی خزانے میں 130 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرایا ہے جو کہ تاجروں، تھوک فروشوں اور برآمد کنندگان کی ٹیکس ادائیگی سے دو گنا ہے جبکہ حکومت نے جائیدادوں کے انتقال کی مد میں 60 ارب اور برا?مد کنندگان سے 45 ارب روپے حاصل کیے. قومی خزانے میں تنخواہ داروں کی جانب سے ڈالے جانے والا یہ حصہ تاجروں، تھوک فروشوں اور برآمد کنندگان کی ادائیگی سے زیادہ،برا?مد کنندگان کے مقابلے میں تین گنا اور ریٹیل و ہول سیل کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ ٹیکس وصولی پر معمور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا محکمہ ٹیکس وصولی کے اہداف حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکا۔یہاں جاری ہونے والے چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوارسینیٹر محمد عبدالقادر نے کہاکہ جب تک ملک کے پسے ہوئے تنخوادار طبقے پر ٹیکس کا غیر ضروری بوجھ کم نہیں کیا جاتا ملک سے غربت کم ہونے کا کوئی امکان نہیں تنخواہ دارطبقے نے گزشتہ برس حکومت کو 545 ارب ٹیکس دیا رواں سال ٹیکس ہدف 600 ارب روپے ہے برآمد کنندگان، تھوک و پرچون فروش اور پراپرٹی ٹائیکونز کی ٹیکس ادائیگی تنخواہ دار طبقے کی نسبت شرمناک حد تک کم ہے اسی وجہ سے بوسیدہ ٹیکس نظام میں انصاف سے متعلق ہمیشہ سوالات جنم لیتے ہیں۔ جائیداد کی خریداری پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 24 ارب روپے جمع کییجو کہ گذشتہ سال کی اسی مدت میں 18 ارب روپے تھے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تنخواہ دار طبقے سے 130 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا. برآمد کنندگان، تھوک و پرچون فروش اور پراپرٹی ٹائیکونز کی ٹیکس ادائیگی تنخواہ دار طبقے کے مقابلے میں ناقابل یقین حد تک کم ہے. اس بار بھی ٹیکس وصولی میں اربوں روپے کا شارٹ فال رہا جو ایف بی آر کی ناقص کارکردگی کا منہ بو لتا ثبوت ہے حکومت کا ٹیکس وصولی کرنے کا ذمہ دار محکمہ پی دولت مند طبقے کو ٹیکس چوری کے راستے بتاتا ہے۔

