ڈاکٹر توصیف احمد خان
کراچی کو اگر روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے تو لیاری کو ان روشنیوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ علم، ترقی اور مواقع کے اس دور میں جب دنیا خلاؤں کو تسخیر کر رہی ہے، لیاری جیسے پسماندہ علاقے کے نوجوان آج بھی بنیادی تعلیمی ڈھانچے کے منتظر ہیں۔ اس کی تازہ مثال شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کی نئی عمارت کا برسوں سے تاخیر کا شکار منصوبہ ہے، جو نہ صرف تعلیم بلکہ لیاری کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کی کلاسیں آج بھی اُس عمارت میں چل رہی ہیں جو کبھی لیاری ڈگری کالج ہوا کرتا تھا۔ ایک عمارت جو کالج کے لیے بھی ناکافی تھی، آج ایک پوری یونیورسٹی کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔ تنگ کلاس روم، گنجان ماحول، ناکافی سہولیات، اور جدید تعلیم کے تقاضوں سے کوسوں دور انفراسٹرکچر، یہ سب ایک ایسے ادارے کی شناخت بن چکے ہیں جو کسی بھی پسماندہ علاقے کے لیے روشنی کا مینار بن سکتا تھا۔
یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اختر بلوچ، پیپلز پارٹی لیاری کے رہنما حاجی قاسم بلوچ، اور رکن سندھ اسمبلی لیاقت علی آسکانی کی مشترکہ کوششوں سے چار سال قبل دیھہ گابوپٹ میں دو سو ایکڑ اراضی حاصل کی گئی۔ یہ ایک بڑا سنگ میل تھا۔ اتنی وسیع زمین کسی بھی جدید یونیورسٹی کے قیام کے لیے ایک نایاب موقع تھی، لیکن افسوس، یہاں کہانی رک گئی۔
سندھ حکومت، جو کہ پیپلز پارٹی کے پاس ہے، وہی پارٹی جو لیاری کو اپنا قلعہ سمجھتی ہے، وہی پارٹی جو ہمیشہ یہاں سے قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستیں جیتتی آئی ہے۔ اب یونیورسٹی کی عمارت کی تعمیر کے لیے فنڈز کی منظوری میں تاخیر کر رہی ہے۔ یہ تاخیر صرف ایک عمارت کی نہیں، بلکہ علم، ترقی، اور لیاری کے خوابوں کی تاخیر ہے۔
یہ صورت حال صرف ایک تعلیمی بحران نہیں، بلکہ سیاسی بے حسی کا مظہر ہے۔ لیاری کو ہمیشہ محبت، وفاداری اور نظریاتی وابستگی کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن افسوس کہ یہی علاقہ 75 سالوں سے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ لیاری کے باسی سوال کرتے ہیں کہ جب ہم ہر الیکشن میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں، جب ہم شہید بے نظیر کے نام پر قائم یونیورسٹی کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں، تو پھر ہمیں تعلیم جیسی بنیادی سہولت سے محروم کیوں رکھا جا رہا ہے؟
یہ اندھیرا، جیسا کہ کہا جاتا ہے، اللہ کا عذاب نہیں بلکہ حکمرانوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ تعلیم سے محرومی، فنڈز کی عدم فراہمی، اور منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر، دراصل لیاری کے نوجوانوں کے خلاف ایک غیر اعلانیہ جنگ ہے۔
لیاری کے نوجوان صرف ایک تعلیمی عمارت نہیں مانگ رہے، وہ اپنے مستقبل کا حق مانگ رہے ہیں۔ ایک ایسی جامعہ جو اُنہیں غربت، بے روزگاری اور جرائم سے نکال کر تحقیق، ترقی اور قیادت کی جانب لے جا سکے۔ ایک ایسی درسگاہ جو لیاری کے بچوں کو محض گریجویٹ نہیں بلکہ ایک باوقار شہری بننے کا موقع دے۔
سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ فنڈز کی منظوری میں تاخیر کے اس عمل کو فوری طور پر ختم کرے۔ لیاری کے باسیوں کا صبر اب امتحان کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ شہید بے نظیر بھٹو کا نام محض ایک تختی پر نہیں بلکہ عمل، خدمت اور ترقی کے نشان کے طور پر زندہ رہنا چاہیے۔ اور اس کا آغاز شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کی مستقل عمارت کی تعمیر سے ہو سکتا ہے۔
لیاری کو آج کسی امداد، کسی “ریلیف چیک”، یا جھوٹے وعدے کی نہیں، بلکہ ایک مکمل “تعلیمی پیکج” کی ضرورت ہے۔ اسکول، کالج، یونیورسٹیز، ووکیشنل سینٹرز، لائبریریاں، یہ سب وہ بنیادیں ہیں جن پر لیاری کے تباہ حال سماج کو دوبارہ کھڑا کیا جا سکتا ہے۔
خاص طور پر شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کی مستقل اور جدید عمارت کا قیام، اس تعلیمی پیکج کا نقطۂ آغاز ہونا چاہیے۔ یہ کوئی احسان نہیں، یہ اس قوم کا قرض ہے جس نے ہر سیاسی تحریک میں اپنا خون دیا۔ اور اگر آج بھی لیاری کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو یہ محض لاپروائی نہیں بلکہ تاریخی جرم ہوگا۔
آج سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ اور پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جو ہمیشہ لیاری سے ووٹ لے کر اقتدار میں آئی۔ قومی اسمبلی ہو یا سندھ اسمبلی، لیاری کے باسیوں نے ہمیشہ تیر کے نشان پر مہر لگائی۔ یہ وہی لیاری ہے جہاں بے نظیر بھٹو شہید کو ماں کہا جاتا تھا۔ مگر افسوس! آج اسی بے نظیر بھٹو کے نام پر قائم یونیورسٹی کی مستقل عمارت فنڈز کی منظوری نہ ملنے کے باعث تعطل کا شکار ہے۔
یہ کیسی بے حسی ہے کہ چار سال قبل حاصل کی گئی دو سو ایکڑ زمین اب بھی خالی پڑی ہے اور نوجوان اب بھی پرانی ڈگری کالج کی تنگ عمارت میں گھٹ گھٹ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟
لیاری کو نظر انداز کرنا محض ایک سیاسی بھول نہیں، بلکہ تاریخی غلطی ہے۔ جس علاقے نے جمہوریت کی بقا کے لیے ہر دور میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں، اگر آج بھی وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے تو یہ نہ صرف حکومتی نااہلی ہے بلکہ عوام کے اعتماد سے غداری بھی۔
یونیورسٹی کی عمارت کی تعمیر اب “اختیار” نہیں، “ذمہ داری” ہے۔ شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری کی نئی عمارت کی تعمیر میں تاخیر صرف تعلیمی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ لیاری کے نوجوانوں سے ان کے خواب چھیننے کے مترادف ہے۔ یہ تاخیر علم دشمنی ہے۔ یہ ایک ایسے زخم پر نمک چھڑکنے جیسا ہے جو برسوں کی محرومیوں سے ابھی تک بھرا نہیں۔
لیاری کا سفر لاشوں سے کتابوں کی طرف شروع ہو چکا ہے، لیکن یہ سفر تبھی مکمل ہوگا جب ریاست اور حکمران اسے تسلیم کریں گے، جب شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کی نئی عمارت بنے گی، اور جب لیاری کے نوجوان ہتھیار نہیں بلکہ قلم تھامیں گے۔
یہ وقت ہے عمل کا، ورنہ تاریخ خاموش نہیں رہے گی۔

