سانچ (تشدد پسندی کے خلاف اجتماعی عزم)

تحریر: محمد مظہر رشید چودھری
دنیا کے موجودہ حالات اس حقیقت کی عکاسی کر رہے ہیں کہ امن کی ضرورت اب صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ بقا کی ضمانت بن چکی ہے۔ انتہا پسندی، تشدد اور عدم برداشت نے معاشروں کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ کسی خطے میں مذہب کے نام پر خون بہایا جا رہا ہے تو کہیں قومیت، زبان یا نظریے کی آڑ میں انسانیت کو قتل کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں جب سماج کا ہر فرد عدم تحفظ کا شکار ہو، تو اس ماحول میں تشدد پسندی کے خلاف اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ای لائبریری اوکاڑہ میں منعقدہ ایک فکر انگیز سیمینار میں اسی موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے مقررین نے نہ صرف انتہا پسندی کے اسباب پر روشنی ڈالی بلکہ معاشرتی ذمہ داریوں کی بھی نشاندہی کی۔ یہ سیمینار ڈسٹرکٹ پروبیشنر آفیسر اوکاڑہ خاور وحید کی زیرِ نگرانی منعقد ہوا، جنہوں نے تقریب کے آغاز میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’تشدد پسندی کسی فرد کا نہیں بلکہ ایک سوچ کا مسئلہ ہے، جس کا علاج بندوق سے نہیں، تعلیم، برداشت اور مکالمے سے ممکن ہے‘۔ خاور وحیدنے کہا کہ ہمیں معاشرتی انصاف، تعلیم، اور مکالمے کے فروغ پر توجہ دینی ہوگی۔ کیونکہ جہاں ناانصافی، غربت، اور محرومی ہوتی ہے، وہاں شدت پسندی کے بیج آسانی سے بوئے جاتے ہیں۔تقریب کے مہمانِ اعزازپرنسپل ایگریکلچر یونیورسٹی اوکاڑہ کیمپس، ڈاکٹر طاہر منیر بٹ نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کی کردار سازی اور تعلیم کے ذریعے امن کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا’ہماری نئی نسل کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ اختلافِ رائے دشمنی نہیں ہوتا۔ اگر ہم اپنے تعلیمی اداروں میں برداشت اور مثبت مکالمے کو فروغ دیں تو انتہا پسندی کی جڑیں خود بخود کمزور پڑ جائیں گی‘۔ڈاکٹر طاہر منیر بٹ نے مزید کہا کہ دنیا میں جہاں بھی علم، تعلیم اور اخلاقیات کو اہمیت دی گئی، وہاں امن نے جنم لیا۔ جنوبی افریقہ کے رہنما نلسن منڈیلا نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ انتقام نہیں بلکہ معافی ہی حقیقی بہادری ہے۔ انہوں نے قیدی بننے کے باوجود اپنے دشمنوں کو گلے لگایا اور اپنے ملک کو تشدد سے نکالا یہی رویہ ہمیں بھی اپنانا ہوگا۔مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ آفیسر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ اوکاڑہ، مہر محمد یوسف نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشرتی تشدد صرف بندوق یا دھماکے تک محدود نہیں، بلکہ نفرت انگیز گفتگو، تحقیر، اور الزام تراشی بھی ایک ذہنی دہشت گردی ہے۔ انہوں نے کہا’جب ایک معاشرہ اپنے ہی لوگوں کو مشکوک سمجھنے لگتا ہے تو امن کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔ قانون اور اخلاق دونوں کا تقاضا ہے کہ ہم تشدد کے ہر مظہر کو روکیں چاہے وہ جسمانی ہو یا ذہنی‘۔مہر محمد یوسف نے نوجوانوں کو خاص طور پر پیغام دیا کہ سوشل میڈیا کے دور میں نفرت اور جھوٹ سب سے تیزی سے پھیلنے والا ہتھیار بن چکے ہیں، اس لیے آن لائن رویوں میں بھی ذمہ داری اور احتیاط لازم ہے۔راقم الحروف (محمد مظہر رشید چودھری) نے اپنے خطاب میں کہا کہ بدقسمتی سے آج کے دور میں تشدد پسندی کے ساتھ ساتھ خواتین کے خلاف ہراسمنٹ اور تشدد بھی بڑھتا جا رہا ہے، جو انتہا پسندی کی ایک اور شکل ہے۔ ”کسی بھی معاشرے کی ترقی اس وقت ممکن ہے جب اس کی خواتین محفوظ ہوں۔ عورت کمزوری نہیں، طاقت اور عزت کی علامت ہے۔ گھر ہو یا دفتر، تعلیمی ادارہ ہو یا بازار عورت کا احترام ہر جگہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے بیٹوں کی تربیت ایسے کرنی ہوگی کہ وہ عورت کو برابری کی بنیاد پر دیکھیں، نہ کہ کمزور جنس کے طور پر۔ کیونکہ تشدد صرف جسمانی نہیں ہوتا، الفاظ سے دیا گیا زخم بھی انسانیت کے خلاف جرم ہے‘۔سانچ کے قارئین کرام! آج جب دنیا کے 193 ممالک اور تقریباً 4200 مذاہب، عقائد اور روحانی تعلیمات میں سے کوئی بھی تشدد کو نیکی نہیں سمجھتا، تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر یہ شدت اور نفرت کہاں سے جنم لیتی ہے؟ ان کے مطابق یہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم دوسروں کو سننے کے بجائے خود کو مکمل درست سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب معاشرے میں اختلاف کی جگہ نفرت لے لیتی ہے“۔سیمینار میں مقررین نے متفقہ طور پر کہا کہ انتہا پسندی ایک ذہنی کیفیت ہے جو ابتدا میں ایک نظریے کی شدت سے جنم لیتی ہے۔ پہلے انسان خود کو حق پر سمجھتا ہے، پھر دوسروں کو غلط ٹھہراتا ہے، نفرت بڑھتی ہے، تشدد کو نیکی کا درجہ ملتا ہے، اور یہی سوچ بالآخر دہشت گردی میں بدل جاتی ہے۔تقریب کے آخر میں مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تشدد پسندی کے خلاف جدوجہد صرف اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی کوشش سے ہی ممکن ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، اسکولوں، دفتروں، حتیٰ کہ روزمرہ گفتگو میں بھی برداشت اور احترام کو فروغ دینا ہوگا۔سیمینار سے سی ای او النسا ویلفیئر سوسائٹی رائے محمد یاسین، سائیکالوجسٹ محمد آکاش نے بھی خطاب کیا،سانچ کے قارئین کرام! کہ امن صرف ایک خواب نہیں بلکہ ایک رویہ ہے۔ اگر ہم نفرت کے بجائے محبت بانٹیں، دوسروں کو سننے اور سمجھنے کا حوصلہ پیدا کریں، تو تشدد خود بخود مٹ جائے گا۔امن ہی ترقی کی کنجی ہے، اور برداشت ہی انسانیت کی اصل پہچان۔٭

محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)

اپنا تبصرہ بھیجیں