کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ بہبود آبادی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد نواز کبزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں ممبران مجلس میر اسد اللہ بلوچ، شاہدہ رؤف، سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری محکمہ بہبود آبادی ظفر علی بلیدی، اسپیشل سیکرٹری اسمبلی عبدالرحمان اور ایڈیشنل سیکرٹری قانون سعید اقبال نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ بہبود آبادی نے صوبے میں آبادی کے حوالے سے موجودہ صورتحال، ترقیاتی کارکردگی، اہداف اور درپیش چیلنجز پر ممبران کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کی آبادی 2023 میں 1 کروڑ 49 لاکھ ہے جبکہ 2050 تک اس کی 3 کروڑ 58 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ آبادی دوگنی ہونے کا وقت 22 سال ہے جبکہ صوبے میں شرح پیدائش (TFR) 4 ہے جو ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ مزید بتایا گیا کہ 2006-07 سے 2017-18 کے دوران بلوچستان میں مانع حمل استعمال کی شرح 14.4 فیصد سے بڑھ کر 19.8 فیصد ہوئی ہے، زچگی کے دوران اموات کی شرح 785 سے کم ہو کر 298 فی ایک لاکھ زندہ پیدائش تک پہنچ گئی ہے۔محکمہ نے فیملی پلاننگ 2030 کے قومی ایکشن پلان کے اہداف سے بھی آگاہ کیا، جس کے مطابق بلوچستان میں مانع حمل شرح کو 19.8 فیصد سے بڑھا کر 46 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔محکمہ نے اپنی حالیہ کامیابیوں سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا جن میں 37 لیڈی میڈیکل آفیسرز اور 36 فیلڈ آفیسرز (گریڈ 17) کی بھرتی، سوشل موبلائزرز کی کنٹریکٹ پالیسی کی منظوری، مانع حمل ادویات کی خریداری کے لیے عمل درآمد، اور یو این ایف پی اے کی معاونت سے فراہمی فنڈز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ریجنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (RTI) کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جہاں اب تک 1,900 سے زائد افراد کو تربیت دی جا چکی ہے جن میں 63 فیلڈ آفیسرز، 900 سروس پرووائیڈرز، 230 علما کرام، 320 رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنرز اور 387 محکمہ صحت و پی پی ایچ آئی کے اہلکار شامل ہیں۔محکمہ نے کمیٹی کو بتایا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے نفاذ میں متعدد چیلنجز درپیش ہیں جن میں جغرافیائی رسائی کی کمی، نجی و صحت کے شعبے کے ساتھ محدود انضمام، مانع حمل ادویات کی قلت، فنڈز کی کمی، اور تربیت یافتہ عملے کی قلت شامل ہیں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی ڈاکٹر محمد نواز کبزئی نے کہا کہ صحت اور بہبودِ آبادی جیسے شعبوں میں درپیش چیلنجز کے باوجود ہم اداروں کی بہتری کے لیے پرعزم ہیں۔ کمیٹی کے اراکین محکمہ کی ہر ممکن معاونت جاری رکھیں گے تاکہ صوبے میں آبادی کے توازن اور عوامی صحت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- پنجگور کے نوجوان شہاب نے رضاکارانہ طور پر سرینڈر کر دیا
- عالمی ہنگر انڈیکس میں پاکستان کی صورتِ حال تشویش ناک، مؤثر حکومتی اقدامات سے غذائی تحفظ بہتر بنایا جا سکتا ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر
- عوام کو ریلیف فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے،مہراللہ بادینی
- مراکز صحت میں عملے کی حاضری، ادویات دستیابی،عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوئٹہ
- پیپلز پارٹی عوام کی نمائندہ جماعت،مسائل حل کرنے کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے، میر ریاض احمد شاہوانی
- کوئٹہ میں موسم سرد ہونے کیساتھ ہی گیس پریشر میں کمی،بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے،لالہ یوسف خلجی
- خواتین کے تحفظ،حقوق کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، میر ضیاء لانگو
- بلوچستان پورے پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،گورنر بلوچستان
- خاران: چوری کی کوشش کے دوران فائرنگ سے پولیس کانسٹیبل خان غلام رسول جاں بحق، ملزمان فرار، پولیس کی تفتیش جاری
- امریکی اسکول میں 16 سالہ لڑکے کی فائرنگ، 3 معصوم بچے اور استاد ہلاک

