تنظیم تاجران بلوچستان نے گیس لوڈشیڈنگ کے نئے اوقات مستردکرتے ہوئے ظلم قرار دے دیا

کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے گیس فراہمی کے نئے اوقات کو مکمل مسترد اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے دروانیہ کو 6 گھنٹوں سے اچانک بڑھا کر 15 گھنٹوں سے زائد کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں، مہنگے بلز آسمان سے باتیں کررہی’ عوام پہلے ہی بنیادی سہولیات سے محروم’ کمپنی عوام دشمن پالیسوں سے باز رہ کر گیس کی بلاتعطل فراہمی جاری رکھے’ یہ بات انہوں نے گز شتہ روز اپنے دفتر ہزا رہ ٹاؤن میں مختلف علاقوں کے آئے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہی’ اس موقع پر ٹرانسپورٹر ایسوسی ایشن کے جان محمد ہزارہ’ عزت اللہ کاظمی’ ناصر حیدری سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے’ انہوں نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی ہمیشہ عوام دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا رہی ہیں جو کہ کسی سے پوشیدہ نہیں ‘ عوام اور تاجر پہلے ہی بنیادی سہولیات سے محروم ہے’ گھنٹوں گھنٹوں کی بجلی لوڈشیڈنگ’ بجلی اور گیس کے بلز آسمان سے باتیں کررہی ہیں ایک درمیانہ گھرانے کا بل ہزاروں سے لیکر لاکھوں تل بھیجا جاتا ہے مگر جب سہولیا ت دینے کی بات آتی ہے تو گھونگے بہرے بن جاتے ہیں ‘ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر سمیت صوبے بھر میں گیس لوڈ شیڈنگ کو 6 گھنٹے سے بڑھا کر اچانک 15 گھنٹوں سے زائد کردیا گیا ہے جو کہ ان کی عوام دشمن پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے’ انہوں نے کہا کہ پوری سردی میں عوام گیس لی فراہمی کیلئے سراپا احتجاج رہی مگر نااہل کمپنی کیجانب ایک بھی نہ سنا گیا’ اب ایک اعلامیہ جاری کرکے 15 گھنٹے کے زائد گیس لوڈ شیڈنگ کو قانونی شکل دیدیا گیا ہے اور عوام کے مسائل میں خاطر خواہ اضافہ کیا جارہا ہے جو کہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے’ انہوں نے کہا کہ گیس کمپنی کی جانب سے گیس فراہمی کے اوقات میں مسلسل گیس پریشر میں کمی بھی روز کا معمول بن چکی’ عوام دشمن پالسیاں بند کی جائیں اور عوام کو سڑکوں پر نکلنے کیلئے مجبور نہ کی جائے’ انہوں نے بلوچستان ہائیکورٹ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گیس کے نئے اوقات کے معاملے میں ازخو د نوٹس لیکر گیس کی بلاتعطل فراہمی کا حکم دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں