کوئٹہ،ایرانی قونصل جنرل کی کوششوں سے ایران ایئر نے کوئٹہ، زاہدان اور مشہد کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز کردیا

کوئٹہ(این این آئی)کوئٹہ میں متعین اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل محمد کریمی تودیشکی کی کوششوں سے ایران ایئر نے کوئٹہ، زاہدان اور مشہد کے درمیان براہ راست پروازوں کا باقاعدہ آغاز کردیا۔گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کوئٹہ ایئرپورٹ پر منعقدہ ایک شاندار تقریب کے دوران کوئٹہ، زاہدان اور مشہد کے درمیان ایران ایئر کی پہلی براہ راست پروازوں کا افتتاح کیا۔شیخ جعفر خان مندوخیل نے کوئٹہ، زاہدان اور مشہد کے درمیان براہ راست پروازوں کے آغاز کو اقتصادی ترقی اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے اور تاجروں، زائرین اور مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے اس پرواز کے آغاز میں ایران کے قونصل جنرل کے نمایاں کردار کی تعریف کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ جناب کریمی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید اضافے کے لیے زیادہ سے زیادہ اقدامات کریں گے۔تقریب میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، پارلیمانی لیڈر برائے فشریز میر برکت علی رند، ایئر پورٹ مینیجر وحید ملک، کوئٹہ چیمبرز آف کامرس کے صدر حاجی ایوب مریانی، پاک،ایران مشترکہ چیمبرز آف کامرس کے پیٹرن ان چیف حاجی ولی محمد نورزئی، کوئٹہ چیمبرز آف سمال انڈسٹریز کے نائب صدر تاج محمد بڑیچ سمیت ایئر پورٹ سیکورٹی فورس کے آفیسران اور دیگر عملہ بھی موجود تھاجنہوں نے قونصل جنرل محمد کریمی کی کاوشوں کے نتیجے میں اس فلائٹ کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا جس کے آغاز کا بلوچستانی عوام طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔اس تقریب سے اپنے خطاب میں صوبہ بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ جو کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی نمائندنگی کررہے تھے، نے دونوں دوست اور برادر ممالک کے مسافروں کی سہولت کے لیے آمد و رفت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کی ترقی کو عوام کے دیرینہ مطالبات میں سے ایک قرار دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل محمد کریمی نے تاجروں، زائرین اور مسافرین کے دیرینہ مطالبے اور درخواست کے پیش نظر، دونوں ممالک کے مشترکہ دشمنوں کی طرف سے پیدا شدہ دراڑوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دو ہمسایہ صوبوں سیستان و بلوچستان اور صوبہ بلوچستان کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے اور سفر کو مضبوط اور آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: “آج دونوں ممالک کے درمیان بالخصوص دو ہمسایہ صوبوں کے تعلقات، جو گہری ثقافتی، اقتصادی اور سیاسی مشترکات سے بندھے ہوئے ہیں، زمین سے سمندر تک اور سمندر سے آسمان کی بلندیوں تک پہنچ چکے ہیں۔ “انہوں نے کہا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان زمینی، سمندری اور فضائی راستے سے آمد و رفت جاری ہے جو کہ اطمینان کا باعث ہے۔ دونوں ممالک کو درپیش معاشی چیلنجز کے پیش نظر دو طرفہ تجارت کے حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تعین شدہ اہداف کے حصول کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت پڑنے پر ایران ایئر کی جانب سے اس روٹ پر براہ راست پروازوں کو ہفتے میں ایک سے بڑھا کر دو یا تین کر دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں