تحریر:رشید احمد نعیم
اکیسویں صدی کی تیز رفتار دنیا میں جب انسان نے ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوا، مشینوں نے زندگی کو سہل بنایا اور صنعتوں نے خوش حالی کے در کھولے، تب کہیں فطرت نے خاموشی سے اپنا انتقام تیار کرنا شروع کر دیا۔ یہ انتقام کسی آندھی، طوفان یا زلزلے کی صورت میں نہیں بلکہ ایک دھندلے پردے میں چھپا ہوا ہے جسے ہم سموگ کہتے ہیں۔ سموگ ایک خاموش قاتل ہے جو نہ صرف ہمارے ماحول کو آلودہ کر رہا ہے بلکہ ہماری سانسوں کو بھی زہر آلود بنا رہا ہے۔سموگ دراصل دو الفاظ ”سموگ“ یعنی دھواں اور ”فوگ“ یعنی دُھند کا مجموعہ ہے۔ یہ اُس وقت بنتی ہے جب فضا میں موجود دھواں، مٹی کے ذرات، گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج اور دیگر کیمیائی اجزاء فضا میں جمع ہو کر سورج کی روشنی کے ساتھ کیمیائی تعامل کرتے ہیں۔ یہ مرکب فضا میں ایک زہریلی تہہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو زمین کے قریب معلق رہتی ہے۔بظاہر یہ ایک معمولی دھند کی مانند لگتی ہے مگر حقیقت میں یہ سانس لینے کے قابل ہوا کو زہر بنا دیتی ہے۔سموگ کی پیدائش کی وجوہات میں سب سے بڑا کردار انسان ہی کا ہے۔ جب ہم کھیتوں میں باقیات کو جلانے کو ایک معمول سمجھ لیتے ہیں جب صنعتوں کے دھوئیں کو صاف کیے بغیر فضا میں چھوڑ دیتے ہیں جب شہر بھر کی گاڑیاں بغیر کسی معائنے کے سڑکوں پر دوڑتی ہیں جب تعمیراتی کاموں سے اُڑنے والی گرد کو کنٹرول نہیں کرتے اور جب درختوں کو کاٹ کر کنکریٹ کے جنگل اُگا دیتے ہیں تو پھر فضا میں آلودگی کے ذرات کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ اِس کے ساتھ جب سردیوں کا موسم آتا ہے درجہ حرارت گر جاتا ہے اور ہوا کی رفتار کم ہو جاتی ہے تو یہ زہریلے ذرات فضا میں پھنس کر ایک دبیز چادر بنا لیتے ہیں۔یہی چادر ہماری زمین پر سموگ کے نام سے اترتی ہے۔یہ سموگ صرف فضا کی خوبصورتی کو ماند نہیں کرتی بلکہ انسانی صحت کے لیے ایک بھیانک خطرہ بن چکی ہے۔ سب سے پہلے یہ ہمارے سانس لینے کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ سموگ میں موجود ذرات پھیپھڑوں میں داخل ہو کر سوزش پیدا کرتے ہیں جس سے کھانسی، سانس کی تنگی، دمہ اور برونکائٹس جیسی بیماریاں بڑھتی ہیں۔ جن افراد کو پہلے سے سانس کے امراض لاحق ہوں،اُن کے لیے سموگ موت کے مترادف ثابت ہو سکتی ہے۔ بچوں اور بزرگوں کے پھیپھڑے خاص طور پر زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ اُن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔سموگ میں موجود نائٹروجن آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور اوزون جیسے کیمیائی مرکبات خون میں شامل ہو کر دل کے امراض کو جنم دیتے ہیں۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور طویل عرصے میں دل کے دورے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ آنکھوں میں جلن، پانی آنا، ناک اور گلے کی خشکی، جلد پر خارش اور الرجی جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں۔ طبی تحقیق بتاتی ہے کہ سموگ نہ صرف سانس کے نظام بلکہ دماغ پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ آلودہ ہوا میں موجود مائیکرو پارٹیکلز خون کے ذریعے دماغ تک پہنچ کر اعصاب کو متاثر کرتے ہیں جس سے تھکن، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں اضافہ ہوتا ہے۔سموگ کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اِس کے اثرات فوری نہیں بلکہ بتدریج ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ ایک خاموش قاتل ہے جو نہ دکھائی دیتا ہے نہ شور مچاتا ہے مگر آہستہ آہستہ انسان کے جسم میں زہر پھیلاتا ہے۔ صرف انسان ہی نہیں، پودے، جانور اور پرندے بھی اِس کے زہریلے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔ سورج کی روشنی کم ہونے سے فصلوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے درختوں کے پتوں پر زہریلے ذرات جم جاتے ہیں جن سے اِن کا فوٹوسنتھیسس کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ پیداوار کم ہو جاتی ہے، خوراک کی قلت پیدا ہوتی ہے اور بالآخر پوری معیشت پر اَثر پڑتا ہے۔سموگ کے نقصانات صرف صحت یا ماحول تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتے ہیں۔ سڑکوں پر حد نظر کم ہونے سے حادثات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسکول بند ہو جاتے ہیں کاروبارزندگی مفلوج ہو جاتا ہے۔ فضائی اور زمینی سفر متاثر ہوتا ہے۔ اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ ایک ایسا ماحول پیدا ہو جاتا ہے جہاں سانس لینا بھی جرم لگنے لگتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اِس قاتل دھند سے بچا کیسے جائے؟ اِس کا پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اِس کے اسباب کو ختم کریں، کھیتوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کا عمل بند کیا جائے اور اِس کے متبادل زرعی طریقے اپنائے جائیں۔ صنعتوں میں ایسے فلٹر لگائے جائیں جو دھوئیں اور زہریلی گیسوں کو صاف کر کے فضا میں چھوڑیں۔ گاڑیوں کی فٹنس کو یقینی بنایا جائے، پرانے انجنوں پر پابندی ہو اور پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جائے۔ تعمیراتی کاموں کے دوران گرد و غبار کو کنٹرول کرنے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے۔سب سے ضروری قدم درخت لگانا ہے۔ درخت فطرت کے سب سے مؤثر فلٹر ہیں۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ اگر ہر شخص سال میں صرف ایک درخت بھی لگا دے تو سموگ کے خلاف ایک بڑی جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ شہری حکومتوں کو چاہیے کہ وہ سڑکوں کے کنارے، پارکوں اور خالی جگہوں پر زیادہ سے زیادہ شجرکاری کریں۔فردکی سطح پر بھی احتیاط لازمی ہے جب سموگ کا زور ہو تو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کیا جائے اگر باہر جانا ضروری ہو تو ماسک کا استعمال کیا جائے جو آلودگی کے ذرات کو رُوکنے میں مدد دیتا ہے۔ گھروں میں کھڑکیاں بند رکھیں، ایئر پیوریفائر کا استعمال کریں، زیادہ پانی پیئیں اور وٹامن سی سے بھرپور غذائیں استعمال کریں تاکہ مدافعتی نظام مضبوط رہے۔ بچوں، بوڑھوں اور سانس کے مریضوں کو خاص طور پر اِس دوران احتیاط کرنی چاہیے لیکن سب سے بڑھ کر ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ ہم نے ترقی کو فطرت کی تباہی سے جوڑ لیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ زیادہ فیکٹریاں، زیادہ گاڑیاں اور زیادہ عمارتیں ہی کامیابی کی علامت ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ حقیقی ترقی وہ ہے جس میں انسان کی صحت، ماحول کی پاکیزگی اور فطرت کا توازن برقرار رہے۔ اگر ہم نے اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی نہ کی تو آنے والی نسلیں شاید آسمان کا نیلا رنگ صرف تصویروں میں دیکھ سکیں گی۔سموگ ایک علامت ہے ہماری غفلت، لالچ اور لاپرواہی کی، یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زمین پر انسان کا وجود فطرت کے احترام سے مشروط ہے۔ ہم اگر فطرت کے ساتھ انصاف نہیں کریں گے تو فطرت ہمیں جینے نہیں دے گی۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں، اپنی ترجیحات بدلیں اور اجتماعی طور پر وہ اقدامات کریں جن سے ہماری فضا صاف ہو سکے۔یہ جنگ کسی ایک حکومت یا ادارے کی نہیں، یہ ہم سب کی جنگ ہے۔ ہر شہری کا کردار ہے جس دن ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرے گا، اُس دن ہم اِس زہریلی چادر کو چاک کر کے نیلے آسمان کو واپس لا سکیں گے۔ صاف ہوا کوئی عیاشی نہیں، یہ ہمارا بنیادی حق ہے اور اِس حق کے تحفظ کے لیے ہمیں خود میدان میں آنا ہوگا۔

