وزارت صحت کا سیفٹی میڈیسن تقریب کا انعقاد، ادویات کا نظام بہتر کرنے کا عزم

کراچی (این این آئی)وزارت صحت کی جانب سے سیفٹی میڈیسن تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر صحت نے کہاکہ پاکستان میں ادویات کا سسٹم آئیڈیل نہیں اسکو بہتر بنانا ہے۔ ہم آ پ کے فلاح و بہبود کا خیال رکھنا چاہتے ہیں۔ دنیا میں لوگ لائف اسٹائل میڈیسن پر جارہے ہیں۔ بغیر دوا دیئے علاج کیا جارہا ہے، اب ہسپتالوں کے مشکلات بتانے کا وقت گزر گیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج ہورہا ہے ہیلتھ کیئر کا نہیں، سرکار اداروں کو برا کہنے سے مریضوں کی جان نہیں بچ سکتی،ہمیں ہیلتھ کیئر میں جانا ہے بیمار سسٹم سے دور رہنا ہے۔ ہمارے پاس 70 فیصد بیماریاں پینے کے صاف پانی کے استعمال نہ ہونے کی وجہ سے پھیل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں کینسر سے بچنے کی ادویات پر تجربات چل رہے ہیں۔ جب دنیا میں کینسر سے اموات ختم ہونگی پاکستان میں تب بھی لوگ اس بیماری سے مریں گے کیوں کہ اس دوا میں حلال حرام کا مسئلہ پیدا کرکے دوا کے استعمال پر پابندی لگا دی جاتی ہے، ملک میں لاکھوں لوگ بیماریوں سے مر رہے ہیں،ہمارے یہاں دس ہزار مائیں ہر سال زچگی میں مر رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم دنیا میں ہیپاٹائٹس میں پہلے نمبر پر آگئے ہیں،ہیپٹائٹس میں پاکستان بدقسمتی سے سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہاکہ ویکسین بچانے کے لیے حکومت مؤثر اقدامات کررہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پانچ سو بلین روپے کی ویکسین سالانہ استعمال ہوتی ہے جبکہ ایک ارب ڈالر ویکسین امپورٹ پر خرچ ہوتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں