ملائیشیا کو گوشت کی برآمد میں اضافہ کیا جائے گا، ہارون اختر

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہاہے کہ ملائیشیا کو گوشت کی برآمد میں اضافہ کیا جائے گا،ملائیشیا کو گوشت کی برآمد بڑھانے کے لیے ایک جامع بزنس ماڈل تیار کر کے وزیراعظم کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ بدھ کو وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، مسٹر ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت ملائیشیا کو گوشت کی برآمد سے متعلق وزیراعظم کی کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں کمیٹی کے تحت قائم چار ورکنگ گروپس نے اپنی رپورٹس پیش کیں۔ اجلاس میں وزارتِ تجارت، صنعت، خوراک کے سینئر حکام کے علاوہ نجی و سرکاری شعبے کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کے پاس مضبوط لائیو اسٹاک بیس اور حلال گوشت کے حوالے سے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ساکھ موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گوشت کی برآمدات کے فروغ کے لیے معیار، تسلسل اور مسابقت میں بہتری لانا نہایت ضروری ہے۔کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو اس شعبے میں اب بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں چھوٹے جانوروں کی کمی، فیڈ لاٹ فنشنگ کا فقدان، اور کولڈ چین نظام کی کمزوری شامل ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ جانوروں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، جدید سلاٹرنگ اور پراسیسنگ ٹیکنالوجی کا استعمال، مستحکم حلال سرٹیفکیشن نظام، اور لاجسٹکس کو عالمی معیار کے مطابق مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ لائیو اسٹاک کا شعبہ دیہی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور ملک بھر میں 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد گھرانے مویشی پالنے سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق دیہی خاندان اپنی آمدنی کا 35 سے 40 فیصد حصہ مویشیوں سے حاصل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی برآمد کنندگان زیادہ تر منجمد (فروزن) گوشت برآمد کرتے ہیں، جس سے لاگت کم اور منڈیوں تک رسائی زیادہ ہوتی ہے، تاہم پاکستان کے جانوروں کی جسامت اور پیداوار بڑے برآمد کنندگان کے مقابلے میں کم ہے۔ہارون اختر خان نے بتایا کہ پاکستان میں فروزن اور ڈیبونڈ بیف کی پراسیسنگ کی صلاحیت محدود ہے، اس لیے پراسیسنگ، کولڈ چین، اور ایکسپورٹ ریڈی سسٹمز میں بہتری لانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بھینس کے گوشت کی برآمد کے فروغ کے لیے مراعات دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ہارون اختر خان نے اعلان کیا کہ ملائیشیا کو گوشت کی برآمد بڑھانے کے لیے ایک جامع بزنس ماڈل تیار کر کے وزیراعظم کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں