حیاتیاتی گھڑی کی خود مختاری

تحریر:پروفیسر ڈاکٹر صائمہ جبین مہک

میشل سیفر کی کہانی پڑھتے ہوئے مجھے ہمیشہ لگتا ہے کہ وہ زمین کے نیچے نہیں اترا تھا، بلکہ انسانی ذہن کے اندر چھپے وقت کے سب سے گہرے سوال میں اُتر گیا تھا۔ یہ وہ شخص تھا جسے سائنس کی دنیا آج بھی کرونوبائیولوجی کا انقلابی محقق مانتی ہے۔ 1960 کی دہائی میں جب وقت کے حیاتیاتی تصور پر تحقیق محدود تھی، سیفر نے وہ قدم اٹھایا جسے بعد میں نیند کے تحقیقاتی اداروں، ناسا اور یورپی نیورو سائنس کمیونٹی نے بنیاد کے طور پر اپنایا۔1972 میں ٹیکساس کے Midnight Cave میں کیے گئے اس کے تجربے کا ذکر اکثر سائنسی مباحث میں ہوتا ہے، کیونکہ یہ وہ تجربہ تھا جس میں وہ 205 دن مکمل تنہائی میں رہا—ایک ایسا ریکارڈ جسے آج تک کرونو بائیولوجی کی تاریخ میں بنیادی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ اس تحقیقی قیام کا تفصیلی ریکارڈ بعد میں امریکہ کی Cave Research Foundation اور مختلف یورپی سلیپ لیبارٹریز نے شائع کیا، جن میں اس کے روزمرہ مشاہدات، جسمانی ردعمل اور نفسیاتی کیفیت کی تبدیلیاں درج ہیں۔زمین کے 440 فٹ نیچے، جہاں سورج کی روشنی کا کوئی وجود نہیں تھا، سیفر نے خود کو دنیا کے وقت سے الگ کرلیا۔ اس کا مقصد وہی تھا جو اس نے اپنے پہلے تجربے 1962 میں الپس کی Scarasson Glacier Cave میں کیا تھا—یعنی یہ جاننا کہ اگر انسان سے دن اور رات کے تمام اشارے چھین لیے جائیں تو اس کا جسم کس رفتار سے اپنے وقت کو ترتیب دیتا ہے۔ Scarasson میں گزارے گئے 63 دن کا ریکارڈ بعد میں فرانسیسی نیورو سائنس جرائد میں“Temporal Isolation Studies”کے عنوان سے شائع ہوا، اور آج بھی وقت کے ادراک (Time Perception Studies) میں بنیادی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔ٹیکساس کے تجربے نے اس تحقیق کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا۔ وہ نیچے اترتے ہی وقت کے بیرونی اشاروں سے بالکل محروم ہوگیا۔ یہی وہ ماحول تھا جسے بعد میں تحقیقاتی رپورٹس میں Total Temporal Isolation کہا گیا۔ چند ہفتوں بعد اس کے جسم نے اپنا اندرونی وقت خود تخلیق کرنا شروع کر دیا—وہ 36 گھنٹے بیدار رہتا اور تقریباً 12 گھنٹے سوتا۔ یہ وہی نتیجہ تھا جسے بعد میں یورپی سلیپ ریسرچ سوسائٹی نے“Siffre Cycle”کا نام دیا اور اسے حیاتیاتی گھڑی کے نظریے میں ایک فیصلہ کن شواہد کے طور پر شامل کیا۔لیکن اصل دھچکا اس کی نفسیاتی کیفیت میں آیا۔ Cave Research Foundation کی رپورٹس میں درج ہے کہ سیفر کو اندھیرے میں سائے دکھائی دینے لگے، کبھی اسے آوازیں محسوس ہوئیں، کبھی ایسا لگا جیسے کوئی اس کے پیچھے موجود ہو۔ اس کی یادداشت میں وقفے آنے لگے، گفتگو کی روانی متاثر ہوئی، اور جب آخر میں اسے غار سے نکالا گیا تو وہ بیرونی وقت سے کئی دن پیچھے تھا۔ یعنی اس کے ذہن نے وقت کے 20 سے 30 دن اپنی یادداشت سے گم کر دیے تھے—یہ نتیجہ بعد میں نیورو سائنسدانوں نے“Time Compression Phenomenon”کا نام دیا۔یہ نتائج محض دلچسپ نہیں تھے، انسانی ذہن کو سمجھنے میں بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے اس کے تجربات کو بعد میں NASA نے اپنے طویل مدتی خلائی مشنوں کی نفسیاتی تحقیق میں شامل کیا۔ روسی اور امریکی دونوں خلانوردوں کی تنہائی پر سٹڈیز میں سیفر کے ڈیٹا کے گراف اور مشاہدات براہِ راست استعمال کیے گئے۔ یہی نہیں، یورپ کی جدید سلیپ لیبارٹریز—خاص طور پر جرمنی کی Max Planck Institute for Psychiatry—نے بھی وقت کی اندرونی تشکیل کو سمجھنے کے لیے سیفر کی تحقیق کو بنیادی حوالہ بنایا۔یہ سب پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچتی ہوں کہ سیفر نے صرف یہ نہیں بتایا کہ وقت کیا کرتا ہے، بلکہ یہ کہ وقت انسان کے ذہن کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ انسان وقت کو محسوس کرتا ہے، ترتیب دیتا ہے، اور کبھی کبھی خود اپنے ہاتھوں سے کھو بھی دیتا ہے۔ اس کی تحقیق نے ثابت کیا کہ تنہائی صرف جسم کو نہیں، ذہن کی ساخت کو بھی بدل دیتی ہے۔ اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ جب انسان سے روشنی، آواز اور سماجی زندگی چھین لی جائے تو وقت کا دھاگا ٹوٹنے لگتا ہے—اور انسان اپنی ہی ذہنی خلا میں بہنے لگتا ہے۔آج، جب میں میشل سیفر کی رپورٹس، اس کے اپنے لکھیے گئے سائنسی نوٹس اور اس پر کی گئی تحقیقاتی تحریریں پڑھتی ہوں، تو مجھے صاف محسوس ہوتا ہے کہ وقت کہیں باہر گھڑیوں میں بند نہیں، بلکہ ہمارے اندر دھڑکتا ہے۔ اور اگر انسان اپنے اندر کے وقت سے جدائی اختیار کر لے، تو وہ اپنے ہی وجود میں کھو جاتا ہے۔یہی سبق سیفر نے ہمیں دیا—ایک ایسا سبق جو زمین کے نیچے لکھا گیا، مگر پوری دنیا کے لیے ایک روشنی بن گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں