لاہور(این این آئی)انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی 41ویں برسی 20نومبر کو منائی جائے گی۔فیض جنہیں بیسویں صدی کے سب سے بڑے انقلابی شعرا ء میں شمار کیا جاتا ہے، اپنی شاعری کے ذریعے محبت، انقلاب اور انسانی حقوق کے پیغام کو عام کرنے میں کامیاب رہے۔فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے،ان کا کلام ایک منفرد امتزاج پیش کرتا ہے، جہاں محبت اور حسن کے نازک جذبات سماجی انصاف اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے ساتھ یکجا نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہے بلکہ مظلوموں کے حقوق کی آواز بھی ہے۔فیض کی زندگی جدوجہد اور قربانیوں کی ایک داستان ہے وہ ترقی پسند تحریک کے رہنما تھے اور ان کی شاعری نے معاشرتی برائیوں، استحصال، اور آمریت کے خلاف لوگوں کو بیدار کیا۔ ان کا کلام جیسے ”دستِ صبا“،زنداں نامہ“اور”نقشِ فریادی“ظلم کے خلاف جدوجہد اور امید کی شمع بنے۔”ہم دیکھیں گے“جیسی نظم آج بھی مظلوموں کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہے اور دنیا بھر میں آزادی اور انصاف کے لیے ہونے والے مظاہروں میں گونجتی ہے۔ فیض احمد فیض کو ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی اعزازات ملے، فیض احمد فیض ایشیاء کے وہ پہلے شاعرتھے جنہیں روس کی جانب سے لینن امن ایوارڈ سے نوازا گیا ان کی وفات سے قبل انہیں نوبل پرائز کیلئے بھی منتخب کیا گیا تھا علاوہ ازیں انہیں بیش بہا ملکی و غیر ملکی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کی شاعری کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا جو آج بھی دنیا بھر میں مقبول ہیں۔فیض احمد فیض 20 نومبر 1984 کو 73 برس کی عمر میں مداحوں سے بچھڑ گئے۔

