تحریر; محمد صدیق کھیتران
مرکزی سیکریٹری تحقیق و وکالت نیشنل پارٹی
پولساریو فرنٹ ایک صحراوی قوم پرست اور عرب سوشلسٹ تنظیم ہے۔ جس کا بنیادی ہدف مراکش کے قبضے سے مغربی صحارا کی آزادی ہے۔صحراوی پیپلز لبریشن آرمی نے اس سے قبل صحارو ی عرب جمہوریہ ریپبلک کی بنیاد رکھنے سے پہلے پولساریو فرنٹ کے مسلح ونگ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس کا کمانڈر انچیف پولساریو کا سیکرٹری جنرل ہواکرتا تھا۔ لیکن وہ فوج بھی اب صحاروی عرب ڈیموکریٹک ریپبلک کے وزیر دفاع کے ذریعے حکومت میں پولییسارو کے ساتھ مدغم ہو گئی ہے۔ اس کے پاس کوئی بحریہ یا فضائی فوج نہیں ہے۔ صحارا پیپلز آرمی کے مسلح یونٹوں کو آج کل ممکنہ طور پر 20,000-30,000 فعال فوجیوں کی افرادی قوت تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن جنگ کے سالوں کے دوران اس کی طاقت ایک لاکھ افراد تک بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس اس تعداد سے کئی گنا زیادہ ممکنہ افرادی قوت بطور ریزرو موجود ہے۔ کیونکہ آٹھ سال کے عمر کے بچوں کو پناہ گزین کیمپوں میں عسکری تربیت دی جاتی ہے۔ خواتین جنگ کے موقعوں پر کیمپوں کی حفاظت کے لیے معاون یونٹ تشکیل دیتی ہیں۔
ساگویا الحمرا اور وادی الذہاب کی آزادی کی تحریک جسے “تحریک آزادی” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ تحریک آزادی صحارا” ایڈوانسڈ آرگنائزیشن آف دی صحارا پارٹی” ایک صحاروی تحریک تھی۔ جسے 1960 کی دہائی کے آخر میں محمد بصیری نے بنایا ۔وہ خود ایک صحاروی صحافی اور قرآن کے استاد تھے۔ان کا مقصد ہسپانوی نوآبادیاتی حکمرانی کا پُر امن تختہ الٹنا اور مغربی صحارا کے خود ارادیت کا حصول تھا۔ اس نے اپنی تحریک کو ابتدائی طور پر خفیہ طور پر منظم کام کیا۔ لیکن 1970 میں ہسپانوی حکمرانی کے خلاف “لایون ” کے ایک مظاہرے میں اپنے وجود کا انگشاف کیا۔ جس میں ہسپانوی نوآبادیاتی حکمرانوں کو بہتر سلوک اور مغربی صحارا کی آزادی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس احتجاج کو استعماری قوتوں نے جلد ہی خونریز ردعمل سے کچل دیا تھا۔ مظاہرے کی جگہ پر قتل عام اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کو” زیملا انتفادہ” یا بغاوت کا نام دیا گیا ۔ تحریک کے ارکان کی ملک گیر تلاش کے بعد بصیری کو گرفتار کیا گیا جس کو بعد میں ہسپانوی حراست میں “لاپتہ” کر دیا گیا تھا۔ سمجھا جاتا ہے کہ وہ جیلروں کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس قتل کو آج کے دور کی صحاروی قوم پرست اپنے دور کے پہلے شہید کے طور پر شمار کرتے ہیں ۔دوسری طرف مراکش جو کہ مغربی صحارا کو اپنے صوبہ ہونے کی دعویدار بتاتی ہے۔ اس نے بھی اسی طرح اپنی وراثت کو درست ثابت کرنے کی کوشش میں کئی ایک دلیلیں دے رکھی ہیں ۔
حرکت تحریر کو کچلنے کے بعد صحاروی قوم پرستوں نے نوآبادیاتی حکمرانی کے پرامن خاتمے کی امید ترک کردی۔ مئی 1973 میں ایک عسکریت پسند فرنٹ پولیساریو ” ایل اوولی” کی قیادت میں تشکیل دیا گیا۔ جس نے ہسپانوی حکمرانی کے خلاف مسلح جدوجہد کا اعلان کیا۔
ال اولی مصطفٰی سید1948 – 9 جون 1976) ایک صحراوی قوم پرست رہنما و بانی اور FP-Sario کے دوسرے سیکرٹری جنرل تھے۔
ال اولی سید مصطفی 1948 میں مشرقی ہسپانوی صحارا یا شمالی موریطانیہ کے ہماڈا صحرائی میدانوں میں کہیں ایک صحاروی خانہ بدوش ڈیرے میں پیدا ہوئے تھے۔ اس کے والدین غریب تھے جبکہ والد معذور تھا۔ صحارا پر شدید خشک سالی اور جنگ کی وجہ سے اس کے خاندان کو صحرا کے روایتی بدوانہ طرز زندگی کو ترک کرنا پڑا۔ وہ 1962 میں “ٹین ٹین” کے پرائمری اسکول میں داخل ہوئے اور پھر 1966 میں تروداننٹ میں اسلامی انسٹیٹیوٹ داخل ہو گئے ۔ بعد میں انہوں نے 1970 میں رباط یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکالرشپ حاصلِ کیا۔ وہاں اس نے قانون اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کی۔ ادھر ان کی صحاروی غیر ملکی نژاد نوجوانوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جو ان کی طرح 1970 کی دہائی کے اوائل میں مراکش کی یونیورسٹیوں میں شدت پسندی سے متاثر تھے۔ ال اولئ مراکشی یونیورسٹیوں کی تاریخ میں آئینی قانون میں 20 میں سے 19 اوقاف حاصل کرنے والے پہلے سابق طالب علم تھے۔ اس نے اپنی زندگی میں صرف ایک دفعہ یورپ کا سفر کیا تھا۔جہاں وہ ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم اور فرانس کے شہر پیرس میں کچھ دن رہے ۔ ال اولیٰ مصطفیٰ سید کا تعلق الہ الامام سے تھا۔ جو ایک خفیہ مارکسسٹ گروپ تھا۔ جس نے صحاروی عوام کے حق خود ارادیت کے حق میں واضح موقف اختیار کیا ہوا تھا۔ال اولی اس وقت ہسپانوی صحارا کے نام سے جانے والی جابرانہ ہسپانوی نوآبادیاتی حکمرانی کی وجہ سے پریشان تھا۔ اگرچے وہ حرکت تحریر کے ساتھ کبھی عملی شکل میں شامل نہیں ہوا۔مگر” زیملا انتفادہ ” کی خبروں نے اس پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ 1972 میں وہ Tan-Tan یعنی سابقہ ہسپانوی صحارا واپس آیا۔ جہاں اس نے ایک گروہ کو منظم کرنا شروع کیا جس کا نام ایبریونک موومنٹ فار دی لبریشن آف ساگویا الحمرا اور ریو ڈی اورو رکھا۔جون 1972 میں ٹین ٹین میں صحاروی مظاہرے کے بعد 20 شرکاء کے ایک گروپ کو بشمول ال اولی کے مراکشی پولیس نے حراست میں لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ آگے چل کر اس نے مغربی صحارا، الجیریا اور موریطانیہ کے اندر سے صحارائیوں کے دوسرے گروہوں سے ملاقات کی اور 1973 میں ان کے ساتھ” پولساریو فرنٹ” کی بنیاد رکھی۔ پولساریو کی بنیاد رکھنے کے چند روز بعد ال اولی اور براہیم غالی نے 20 مئی 1973 کے ال-کھنگا چھاپے میں چھ مسلح گوریلوں کے ساتھ ایک گروپ کی قیادت کی۔ پولیساریو فرنٹ کی پہلی مسلح کارروائی ایل کھنگا صحرا کے اندر ہسپانوی فوجی چوکی پر حملہ تھا۔ اس دوران ال اولی اور ایک دوسرے جنگجو کو تھوڑے وقت کے لیے گرفتار کیا گیا۔ لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ال کھنگا ہڑتال کے بعد الگ تھلگ اہداف پر اسی طرح کے حملے کیے گئے ۔ جس میں پولساریو کے جنگجووں نے ہتھیار اور سازوسامان اکٹھا کیا۔ جس سے آخر کار وہ بڑے پیمانے پر گوریلا جنگ میں داخل ہونے کے قابل ہوئے۔ اپریل 1974 میں ال اولی نے پولساریو کے وفد کی سربراہی کی۔ جس نے لیبیا کے شہر بن غازی میں پین افریقن یوتھ موومنٹ کے اجلاس میں شرکت کی۔ اگست 1974 میں ال اولی پولساریو کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ 1974-75 میں پولساریو فرنٹ نے آہستہ آہستہ صحارائی دیہی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اور تیزی سے ملک کی سب سے اہم قوم پرست عسکری سیاسی تنظیم بن گئی۔ اس تنظیم نے 1975 تک اسپین کو بڑے ساحلی شہروں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ۔ اسپین نے ہچکچاتے ہوئے اقتدار حوالے کرنے پر مذاکرات کو قبول کیا۔ اس وقت پولساریو صرف 800 جنگجوؤں اور کارکنوں کے حوالے سے ایک چھوٹی سی تنظیم تھی۔تاہم ہمدردوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کی ان کو حمایت حاصل تھی۔
الیگزینڈر مہدی بینونہ کی اپنی کتاب” ہیروس سانز گلوئیر ” کے دعوے کے مطابق ال اولئ مراکش کی آزادی کی فوج کے ایک کارکن کا بیٹا تھا۔ مبینہ طور پر وہ مراکش میں طلبہ یونین یونین نیشنل ڈیس ایٹیوڈینٹس ماروکینز (UNEM) کا رکن تھا اور اسے محمد بینونہ نے “تنظیم” میں شامل کیا تھا ۔ جو ایک عربی قوم پرست اور سوشلسٹ تنظیم تھی۔ جس کا حدف شاہ دوئم کی حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔خیال کیا جاتا ہے کہ ال اولی لیبیا سے تربیت یافتہ تھا اور اس کا سرپرست “نمری” نامی شخص تھا۔ تنظیم کے اندرونی اختلافات اور الجزائر کے درمیان اتار چڑھاؤ والے تعلقات ، پولساریو فرنٹ کی تشکیل کا باعث بنے۔
9 جون 1976 کو موریطانیہ کے دارالحکومت نواکشوٹ پر پولساریو کے ایک بڑے حملے سے واپس آتے ہوئے ال اولی کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس حملے میں انہوں نے صدارتی محل پر بمباری کی تھی۔ حملے کی ناکامی پر پسپائی اختیار کی۔اس پر موریطانیہ کے فوج، بکتر بند گاڑیوں اور ہوائی جہازوں نے تعاقب کیا۔ جس پر ال اولی کا ایک گروپ بڑے عسکری جتھے سے الگ ہو کر بینیچاب نواکشوٹ سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال کی طرف فرار ہوا۔ بظاہر ال اولی کا حدف دارالحکومت کو پانی فراہم کرنے والی پائپ لائن کو تباہ کرنا تھا۔ مگر انہیں موریطانیہ کے فوج نے گھیر لیا اور پھر سب کچھ تباہ کر دیا گیا۔ال اولی کی لاش کو نواکشوٹ بھیجا گیا اور اسے خفیہ طور پر ایک فوجی علاقے میں دفن کیا گیا۔ 1996 میں اس کی موت کے 20 سال بعد اس کی قبر کا پتہ چلا۔ جہاں پر اب بھی اس کا مقبرہ بنا ہوا ہے۔
دو خطوط اور ال اولئ کی ایک تقریر پر مشتمل ایک کتاب 1978 میں “تین متن، دو خطوط اور ایک تقریر” کے عنوان سے شائع ہوئی ۔جسے 2010 میں دوسری دفعہ مرتب کیا گیا ۔ 1997 میں یونیورسٹی آف ایلیکینٹ نے کتاب “ال اولی: اب یا کبھی نہیں، آزادی” شائع کی، جو ہسپانوی مصنف اور پراسیکیوٹر “فیلیپ برائنس” اور صحاروی مصنفین “محمد لیمام محمد علی” اور “مہایوب سالک” کی مشترکہ کوششوں سے مرتب ہوئی ۔ جو دراصل ال اولئ کی زندگی اور اس کی تاریخ کے بارے میں پہلی شائع شدہ سوانح عمری ہے۔ ان کے نام سے ال اولی مصطفیٰ سید اسپیشل اسکول کیوبا کا ایک عوامی تعلیمی ادارہ ” ماریاناو، ہوانا” میں قائم ہے۔ شہید ال اولی مصطفٰی ملٹری اسکول، صحاروی ملٹری انسٹیٹیوشن، صحاروی پناہ گزین کیمپوں میں واقع، صوبہ طندوف، الجزائر میں قائم ہے۔
ان کے چند اقوال زریں کافی مشہور تھے۔مثلا” “زبردستی سے چھینے جانے والی چیز کو طاقت کے ذریعے ہی واپس لیا جا سکتا ہے” یہ کہ
“اگر تم اپنا حق چاہتے ہو تو اپنا خون قربان کرنا ضروری ہے”اور یہ بھی “ناخواندگی کے مقابلے میں مراکش اور موریطانیہ چھوٹے دشمن ہیں”
وہ کہا کرتے تھے کہ “اپنی سرزمین کی واپسی تک ساتھ کھڑے رہیں گے”
دوغلے پن کے بارے میں کہا کرتے تھے۔”مراکش کی انقلابی تنظیمیں خود نظام کی خدمت میں مصروف ہیں اور انقلابی رہنما بادشاہ سلامت کے لئے سوٹ کیس اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ وہ مغربی صحارا پر حملے اور قبضے میں حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے لوگوں کو ان کے اپنے وطن سے بے دخل کرنے کی وہ حمایت کرتے ہیں۔”
ان کی موت پر صحاروی روایتی میوزک گروپ “شاہد الحفید بویما” نے لڑائی میں اس کی موت کے خبر سن کراپنا نام بدل کر “شاہد ال اولئ” رکھ دیا تھا۔صحاروی پناہ گزینوں کی طرف سے ال اولئ کو بابائے قوم کے طور پر احترام دیا جاتا ہے اور صحارا میں ان کے اعزاز کے لیے پتھر کی ایک سادہ یادگار بنائی گئی ہے۔ ان کی وفات کے دن کی مناسبت سے 9 جون کو یوم شہداء قرار دیا گیا ہے۔ اس دن جمہوریہ میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس دن آزادی کی جنگ میں تمام صحاروی متاثرین کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
مگر دوسری طرف 9 جون کو کہ ال اولئ کی شہادت کے کو موریطانیہ کے صدر مختار اولددادہ نے موریطانیہ کی مسلح افواج کی فتح کا دن قرار دے رکھا ہے۔

