کوئٹہ(رپورٹر) Reko Diq ریکو ڈک یہاں بلوچستان میں ریکو ڈک (Reko Diq) منصوبے کے بارے میں جنرل معلومات دی جا رہی ہیں۔ یہ معلومات مختلف قابل اعتماد ذرائع سے لی گئی ہیں،
ریکو ڈک منصوبہ: ایک جامع جائزہ
1. تعریف اور محل وقوع:
ریکو ڈک بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر کا نام ہے۔یہ دنیا کے سب سے بڑے غیر دریافت شدہ تانبے اور سونے کے ذخائر میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ “ریکو ڈک” بلوچی زبان کے لفظوں کا مرکب ہے جس کا مطلب ہے “ریتیلی پہاڑی”۔
2. تاریخی پس منظر:
· 1990 کی دہائی: ذخائر کی دریافت ہوئی۔
· 2000 کی دہائی: TCC (Tethyan Copper Company) نے کام کا آغاز کیا۔
· 2011: پاکستان کی سپریم کورٹ نے لائسنس کے طریقہ کار میں خامیوں کے باعث منصوبے کو منسوخ کر دیا۔
· 2019: عالمی ثالثی کے بعد، پاکستان کو TCC کو معاوضہ ادا کرنا پڑا۔
· 2022: پاکستان کی حکومت نے Barrick Gold کے ساتھ نئے معاہدے پر دستخط کیے۔
3. نئے معاہدے کی شرائط (2022):
· Barrick Gold منصوبے کی 50% ملکیت اور انتظام کی ذمہ دار ہے۔
· پاکستان کی طرف سے، صوبائی حکومت (بلوچستان) کے پاس 25% اور وفاقی حکومت کے پاس 25% شیئر ہولڈنگ ہے۔
· منصوبے کی کل متوقع لاگت $7 بلین (7 ارب ڈالر) کے قریب ہے۔
4. عالمی منڈی میں قدر (تخمینہ):
ریکو ڈک کے ذخائر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں:
· تانبے (Copper) کے تقریباً 5.9 بلین ٹن ذخائر ہیں۔
· سونا (Gold) کے ذخائر 41 ملین اونس سے زیادہ ہیں۔
موجودہ عالمی قیمتوں کے مطابق (تانبے کا ریٹ تقریباً $9,500 فی ٹن اور سونے کا ریٹ تقریباً $2,300 فی اونس)، ذخائر کی کل مالیت $500 بلین (500 ارب ڈالر) سے زیادہ بنتی ہے۔ یہ ایک تخمینہ ہے اور حتمی قیمت عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ اور کان کنی کی لاگت پر منحصر ہے۔
5. بلوچستان کے عوام کا حصہ:
نئے معاہدے کے تحت:
· بلوچستان حکومت کی 25% شیئر ہولڈنگ سے ملنے والا تمام منافع براہ راست صوبے کے خزانے میں جائے گا۔
· اس کے علاوہ، روایتی رائلٹی بھی ادا کی جائے گی۔
· منصوبے میں ترجیحی بنیادوں پر مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
· Barrick Gold $3 ملین سالانہ ترقیاتی بجٹ براہ راست مقامی کمیونٹیز پر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
· $7 ملین سالانہ صوبائی حکومت کو بطور عطیہ دیا جائے گا۔
6. اہم نکات اور تحفظات:
· یہ منصوبہ بلوچستان کی معیشت کے لیے تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔
· مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
· تاہم، ماضی میں مقامی آبادی کو وسائل کے منصفانہ حصے داری نہ ملنے کے باعث شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
· ماحولیاتی تحفظ اور پانی کے وسائل پر ممکنہ اثرات بھی اہم مسائل ہیں۔
· یہ منصوبہ کان کنی کے جدید اور محفوظ طریقوں پر انحصار کرے گا۔
7. مستقبل کے امکانات:
اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو:
· پاکستان کی برآمدات میں ہزاروں کروڑ روپے کا اضافہ ہوگا۔
· بلوچستان کے infrastructure (بنیادی ڈھانچے) میں بہتری آئے گی۔
· پورے ملک کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔
8. نتیجہ:
ریکو ڈک منصوبہ بلوچستان اور پورے پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔اس کی کامیابی کا انحصار شفاف انتظام، منصفانہ منافع کی تقسیم، اور مقامی آبادی کے مفادات کے تحفظ پر ہے۔ اگر اس منصوبے کو درست طریقے سے چلایا گیا تو یہ پورے خطے کی معاشی تقدیر بدل سکتا ہے۔

