لاہور(این این آئی)ایک اہم پیشرفت کے تحت پاکستان میں کام کرنے والی چینی کمپنی نے جدید آئی وی ایف ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیے گئے بھینسوں کے ایمبریوز کی پاکستان میں کمرشل بنیادوں پر فروخت شروع کر دی۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے تعاون سے یہ ایمبریوز پاکستان کی مقامی منڈیوں میں مناسب قیمت 30 ہزار روپے فی ایمبریوکے حساب سے دستیاب ہیں۔رائل سیل بائیوٹیکنالوجی (پاکستان)کمپنی لمیٹڈ کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر قیصر شہزادنے بتایا کہ کمپنی کے پاس 7 ہزار سے زائد تیار شدہ ایمبریوز موجود ہیں جو فوری طور پر مارکیٹ میں فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ چینی آئی وی ایف ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں ابراہیم فارم اور ایچ اے ایس فارم میں تقریباً 20 بھینسوں کے بچے پیدا ہو چکے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہم 10 ہزار ایمبریوز چین کو ستمبر میں برآمد کر چکے ہیں جن کی مالیت 20 لاکھ ڈالرہے۔ لاہور میں قائم آر سی بی (پاکستان) جو چین کے رائل گروپ کی ملکیت ہے نے پاکستان کے جے ڈبلیو گروپ کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے تاکہ پاکستان کی اعلی نسل کی بھینسوں کے ایمبریوز جدید چینی آئی وی ایف ٹیکنالوجی سے تیار اور منتقل کیے جا سکیں۔اگست 2023 میں پاکستان نے آر سی بی (پاکستان)کو بھینسوں کے ایمبریوز اووا اور منجمد نر کے مادے چین کو برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ ڈاکٹر قیصر شہزاد کے مطابق پہلا کنسائنمنٹ 5 ہزار ایمبریوز پر مشتمل تھا جو 8 جون 2024 کو چین بھیجا گیا جبکہ حال ہی میں دوسرا کنسائنمنٹ بھی 5 ہزار ایمبریوز پر مشتمل چین کو برآمد کیا گیا۔یہ ایمبریوز لاہور میں واقع رائل جے ڈبلیو بفیلو انڈسٹری کمپنی لیبارٹری میں موجود بھینسوں کے اووسائٹس سے تیار کیے گئے تھے۔رائل سیل ایک چینی کمپنی ہے جو لاہور میں پاکستانی بھینسوں کی ان ویٹرو فرٹیلائزیشن پر کام کر رہی ہے۔ یہ کمپنی پاکستانی اعلی نسل کی بھینسوں کی افزائش کے لیے ان کے جینیاتی ذخائر بھی محفوظ کر رہی ہے تاکہ دودھ کی پیداوار بڑھائی جا سکے اور اعلی معیاری نسلوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے۔

