وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت

منامہ (این این آئی)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور بحرین کے مضبوط تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار اور بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے،زراعت،آئی ٹی،معدنیات، توانائی اور دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلے ہیں، بحرین کے سرمایہ کار پاکستان آئیں اور ہمارے ساتھ شراکت داری کریں،ہم سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور کاروباری تعاون کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے،پاکستان کے پاس افرادی قوت،وسائل، ابھرتی منڈی،سٹرٹیجک محل وقوع اور نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے،پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، یہ معاہدہ تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچائے گا۔وہ جمعرات کو یہاں کاروباری برادری کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انتہائی فیاضی اور گرمجوشی سے خوش آمدید کہنے پر بحرین کی حکومت اور عوام کا شکر گزار ہوں،ہم اپنے بحرینی بھائیوں خاص طور پر شاہ بحرین اور ولی عہد و وزیراعظم کی مہمان نوازی سے مستفید ہوئے ہیں جس انداز میں ہمارا استقبال کیا گیا وہ ہمیشہ ہمیں یاد رہے گا،بحرین ا ٓکر ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہم اپنے ہی گھر آئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بحرین اور پاکستان دو برادر ملک ہیں اور ہمارے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں،یہ تعلقات ثقافتی،مذہبی، باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں اور یہی ہمارے تعلقات کے ستون ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کئی دہائیوں سے موجود ہے لیکن آج وہ ان تعلقات کو مزید وسعت دینے کیلئے آئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ اور ولی عہد و وزیراعظم سے کہا ہے کہ پاکستان برادر ملک بحرین کے ساتھ زراعت، آئی ٹی، اے آئی، فن ٹیک اور دیگر تمام شعبوں سمیت اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے،ہم ان شعبوں میں اپنی کوششوں، علم،تجربے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے عزم کے ذریعے ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ا ن کے دورے کا مقصد اقتصادی شعبوں میں نئی پیش رفت لانا ہے، شاہ بحرین اور ولی عہد و وزیراعظم کی پاکستان کے ساتھ غیرمتزلزل وابستگی پر ان کا انتہائی شکر گزار ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری ملاقاتوں کا ماحول بالکل ایک خاندان کے مل بیٹھنے جیسا تھا اور یہ ملاقاتیں انتہائی با مقصد اور نتیخہ خیز رہی ہیں، اسی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ میں یہاں مہمان نہیں ہوں بلکہ اپنے خاندان کے افراد، اپنے بحرینی بھائیوں اور بہنوں سے ملنے آیا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے، نوجوان ہماری طاقت ہیں ہمارے 60 فیصد نوجوانوں کی عمر15 سے 30 سال کے درمیان ہے،نوجوان آبادی ایک چیلنج،بڑی نعمت اور ایک موقع بھی ہے، چینی کہاوت کے مطابق یہ ایک چیلنج بھی ہے اور ایک زبردست موقع بھی ہے ہم اپنے نوجوانوں کو بااختیار بنا کر اس چیلنج کو عظیم موقع میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، انہیں آئی ٹی،اے آئی،فنی و پیشہ ورانہ مہارت اور دیگر شعبوں میں تربیت دے کر اس چیلنج کو موقع میں بدلیں گے اور اپنے بحرینی کاروباری بھائیوں کے ساتھ مل کر ہم ان شعبوں میں ایک زبردست قوت بنیں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ یہی وقت ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے کیونکہ وقت اور لہر کسی کا انتظار نہیں کرتی،یہ دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے کہ بحرین میں ہماری متحرک پاکستانی کمیونٹی ایک لاکھ سے زائد کی تعداد میں موجود ہے، یہ کمیونٹی ہمارے لئے باعث فخر ہے، جس ملک کا بھی میں نے دورہ کیا ہے میں نے پاکستانی کمیونٹی سے بات چیت کی ہے اور میں نے وہاں پاکستانیوں کی داستانیں سنی ہیں جن کی پاکستان سے محبت کبھی کم نہیں ہوئی اگرچہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں اور محنت کو دوسرے ممالک اور ثقافتوں کی ترقی کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی شناخت کسی جغرافیہ کی پابند نہیں ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں یہ شناخت ان پاکستانیوں کے دلوں میں موجود ہوتی ہے،یہاں بحرین میں بھی یہی جذبہ کسی شک و شبہ سے بالاتر واضح طور پر نظر آتا ہے، عظیم پاکستانیوں کو بحرین اور پاکستان دونوں کے لیے خدمات پر سلام پیش کرتا ہوں، یہ پاکستان کے عظیم سفیر ہیں اور پاکستان کی قومی معاشی ترقی میں حصہ ڈالنے پر ان پر فخر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بحرین میں مقیم پاکستانیوں کی محنت و کوششوں سے کمائی ہوئی رقم قیمتی ترسیلات زر کی شکل میں گزشتہ مالی سال کے دوران 48 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک رہی، یہ انتہائی قابل قدر ہے،شاہ بحرین کی پاکستانیوں کے لیے فراخدالانہ حمایت پر ان کا شکر گزار ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی بھائیوں اور بہنوں سے گزارش کروں گا کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ بحرین کے بھی عظیم سفیر بنیں کیونکہ پاکستان اور بحرین یک جان دو قالب ہیں اور ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی زبردست خدمات سے اپنے بحرینی بھائیوں اور بہنوں کو خود پر فخر کرنے پر مجبور کر دیں گے، آپ کیلئے پاکستان اور میرے دروازیہمیشہ کھلے رہیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ کی بصیرت افروز، متحرک اور دانشمندانہ قیادت اور بحرین کے ولی عہد و وزیراعظم کی عظیم قیادت اور رہنمائی میں بحرین معاشی ترقی، مالیاتی جدت اور انسانی مرکزیت پر مبنی ترقی کی ایک مشعل کے طور پر ابھرا ہے، پاکستان بحرین کی ترقی کے ماڈل سے بہت متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسیع مواقع، ہنرمندی، وسائل اور صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد والی مارکیٹ کا حامل ملک ہے جو تزویراتی محل وقوع رکھتا ہے ،بحرین کی مالیاتی مہارت،کاروباری بصیرت اور عالمی نقطہ نظر کا اشتراک ہو جائے تو پاکستانی منڈیاں وسیع امکانات کی حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے عمل سے گزر رہا ہے جو معاشی اصلاحات، ڈیجیٹل جدیدیت اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے لیے فیصلہ کن کردار کا حامل ہو چکا ہے، ہم نے سرخ فیتے کی رکاوٹوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے، اپنے ضوابط کو مضبوط بنایا ہے، زرعی کاروبار، آئی ٹی،معدنیات، توانائی اور سیاحت جیسے نئے شعبوں میں طویل مدت شرکت داری کے لیے کھول دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بحرین کے نائب وزیراعظم، وزیر خزانہ،وزیر صنعت، وزیر خارجہ اور بحرین کے کاروباری اداروں کے سرمایہ کار پاکستان آئیں ہم آپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، آپ کے عظیم تجربے اور مہارت سے ہم سیکھیں گے، آپ اپنے مشورے اور علم سیپاکستان کی صنعت اور زراعت کو متحرک بنائیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے جس پر جلد دستخط ہونے کی توقع ہے،اس معاہدے سے پاکستان اور جی سی سی ممالک بالخصوص بحرین کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم کیطور پر ہی نہیں بلکہ ایک ایسی ایک قوم کے سی ای او کے طور پر مخاطب ہیں جو بحرینی کاروباری افراد کے ساتھ شراکت کی خواہاں اور مشترکہ منصوبوں کے لیے ہر طرح کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے اور بحرین کی سرمایہ کاری کے منصوبوں میں سہولت فراہم کرنے اور باہمی طور پرمفید سفر میں تعاون کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے ایک مشہور کہاوت ہے کہ اگر آپ جلدی پہنچنا چاہتے ہیں تو اکیلے جائیں اور اگر اپ دور جانا چاہتے ہیں تو اکٹھے سفر کریں، ہم پاکستان اور بحرین کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں چاہے آپ ایک بحرینی سرمایہ کار ہوں جو پاکستان میں امکانات دیکھ رہے ہوں یا ایک پاکستانی کاروباری شخص ہوں جو بحرین کی عظیم ترقی میں حصہ ڈال رہا ہو، دعا ہے کہ یہ لمحہ ایک جرات مندانہ اور معنی خیز تعاون کا نقطہ آغاز ثابت ہو۔بحرین کے وزیر خزانہ شیخ سلمان بن خلیفہ الخلیفہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی موجودگی ہمارے تعلقات کی تجدید ہے،نسل در نسل پاکستانی شہریوں نے بحرین کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور آج بہت سے پاکستانی مملکت بحرین کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حبیب بنک،یونائٹڈبنک اور نیشنل بنک جیسے پاکستانی مالیاتی ادارے نصف صدی سے زیادہ عرصے سے ہمارے مالیاتی شعبے میں اہم کردار ادا کرتے ا ٓرہے ہیں،پاکستان اور بحرین کے رشتے تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہورہی ہے، یہ خطہ جدت، پائیداری اور تکنیکی برتری کا مرکز بنتا جارہا ہے،مملکت بحرین کو اس تبدیلی میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر فخر ہے، بحرین ایک ایسا ماحول تشکیل دے رہا ہے جہاں تخلیقی صلاحیت، کاروباری جذبہ اور جرات مندانہ خیالات خوشحال مستقبل کی بنیاد بنے ہیں۔مالیاتی خدمات کیلئے بحرین کا جدید نظام بہترین افرادی قوت اور ابھرتا ہوا فن ٹیک موجود ہے، بحرین کا جدید نظام پاکستانی بنکوں اور جدت کاروں کیلئیعلاقائی اورعالمی سطح پر بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرین وژن 2030ء کو اگے بڑھاتے ہوئے وژن 2050ء کی بنیاد رکھ رہا ہے،ہم پاکستان کو ایک مشترکہ معاشی مستقبل کے حامل شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں