تربت(رپورٹر) ممبر صوبائی اسمبلی اور سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کمشنر مکران قادر بخش پرکانی اور دیگر متعلقہ افسران کے ہمراہ گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی اسکول تربت اور گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کا تفصیلی دورہ کیا۔
اس موقع پر ڈویژنل ڈائریکٹر محکمہ تعلیم عبدالغفور دشتی، ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر تربت سٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ بہرام گچکی، پروجیکٹ انجینئر تربت ڈویلپمنٹ پروجیکٹ قاسم گچکی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات آصف بلوچ ، پی ایس کمشنر مکران ناصر حسن، نیشنل پارٹی کے میڈیا سیکرٹری حفیظ علی بخش، جمال بلوچ سمیت دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔
اس دوران گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی اسکول پہنچنے پر اسکول کی وائس پرنسپل سمینہ رحمان نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور کمشنر مکران کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر وائس پرنسپل نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ضلع کیچ کا خواتین کے لیے سب سے بڑا سرکاری تعلیمی ادارہ ہے، جہاں ضلع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی طالبات تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسکول میں 82 کے قریب اساتذہ تعینات ہیں جبکہ طالبات کی تعداد تقریباً 820 ہے۔ انہوں نے امتحان ہال کی مرمت، اسکول کے صحن میں ٹف ٹائل لگانے، اسکول کی سولرائزیشن اور ایندھن کے بجٹ میں اضافے کے مطالبات بھی پیش کیے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے ہدایت دی کہ تمام ضروریات کی فہرست تحریری صورت میں بھی فراہم کی جائے تاکہ وہ انہیں تربت سٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ اور صوبائی پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جا سکے۔
اس دوران انہوں نے اسکول کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے کمشنر مکران اور ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹی س ڈی پی سے بھی صلاح ومشورہ کیا
بعد ازاں انہوں نے اسکول کی لیبارٹری، کمپیوٹر روم، امتحان ہال اور کلاس رومز کا دورہ کیا اور طالبات سے تعلیم کے حوالے سے گفتگو بھی کی۔ اس موقع پر ٹریننگ مکمل کرنے والی اساتذہ میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے۔
بعد ازاں سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت کا بھی دورہ کیا، جہاں اسکول کے پرنسپل اکبر اسماعیل، اساتذہ اور طلبہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
اس دوران پرنسپل نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ضلع کیچ کا سب سے قدیم تعلیمی ادارہ ہے، جس کی بنیاد 1945 کے قریب رکھی گئی جبکہ موجودہ عمارت 1954 سے قائم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول میں اس وقت تقریباً 1507 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں جبکہ تدریسی عملے کی تعداد 54 ہے۔ پرنسپل نے پارکنگ شیڈ کی تعمیر، بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے ٹرانسفارمر کی فراہمی اور طلبہ کے لیے واٹر ڈسپنسر کی فراہمی کے مطالبات بھی رکھے۔
دریں اثناء ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بوائز اسکول میں قائم لیبارٹری، امتحان ہال، کمپیوٹر لیب اور زیرِ تعمیر فٹ سال گراؤنڈ کا بھی معائنہ کیا۔
اس موقع پر انہوں نے ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر بہرام گچکی سے کلاس رومز، واش رومز کی مرمت اور اسکول میں پانی کی فراہمی کے لیے انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک کی تعمیر پر تبادلۂ خیال کیا۔
انہوں نے اسکول میں قائم ڈسپنسری کا بھی دورہ کیا اور عملے سے ملاقات کر کے ان کے مسائل دریافت کیے۔
دورے کے اختتام پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ گورنمنٹ گرلز اور بوائز ماڈل ہائی اسکول تربت نے ضلع کیچ میں تعلیم کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ادارے آئندہ بھی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے دونوں اسکولوں کی انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ درپیش مسائل کے حل کے لیے وہ ذاتی طور پر اپنی کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ ضلع کیچ سمیت پورے بلوچستان میں تعلیم کا شعبہ مزید ترقی کر سکے۔

