تحریر: رشید احمد نعیم
عالمی یومِ انسدادِ بدعنوانی دراصل ایک آئینہ ہے جس میں اقوام اپنی اخلاقی اور ریاستی کمزوریوں کو صاف دیکھ سکتی ہیں۔ یہ دن ہر سال اس حقیقت کو ازسرِ نو اجاگر کرتا ہے کہ قوموں کا زوال ہمیشہ کسی بیرونی یلغار سے نہیں ہوتا بلکہ اکثر اوقات وہ اندرونی بیماریوں سے شروع ہوتا ہے جو بتدریج پورے سماج کی روح کو کھوکھلا کرتی رہتی ہیں۔ اخلاقی بوسیدگی، ادارہ جاتی کمزوریاں اور قانون کا امتیازی نفاذ ایسے عوامل ہیں جو جب بدعنوانی سے مل کر ایک نظام کا حصہ بن جائیں تو معاشرے کے اعصاب مفلوج ہونے لگتے ہیں۔بدعنوانی محض مالی ہیرا پھیری یا رشوت ستانی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی ذہنیت ہے جو اصولوں، اقدار، دیانت اور شفافیت کی اساس کو کھا جاتی ہے۔ یہ ذہنیت جب کسی ریاست کے ایوانوں، اس کی بیوروکریسی، سیاسی ڈھانچے یا کاروباری حلقوں میں جگہ بنا لیتی ہے تو پھر انصاف کا ترازو ڈگمگانے لگتا ہے اور اعتماد کا رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں نہ میرٹ قائم رہتا ہے، نہ شفافیت، نہ جواب دہی اور نہ ہی وہ اعتماد جو ریاست و شہری کے درمیان لازم و ملزوم ہوتا ہے۔بدعنوانی معاشرے کے سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچے پر براہِ راست وار کرتی ہے۔ جب رشوت قابلیت کا نعم البدل بن جائے تو ادارے نااہل افراد کے رحم و کرم پر آ جاتے ہیں۔ جب سفارش دیانت اور پیشہ ورانہ معیار پر غالب آ جائے تو نظامِ ریاست اپنی سمت کھو بیٹھتا ہے۔ جب قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقت ور کے لیے نرم پڑ جائے تو انصاف اپنی توقیر کھو دیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرے میں غیر یقینی، بے اعتمادی اور بے حسی جنم لیتی ہے۔ عوام جب دیکھتے ہیں کہ احتساب محض ایک نعرہ ہے، قانون محض ایک کتاب میں درج الفاظ ہیں اور شفافیت صرف تقریروں میں زندہ ہے تو ان کے دلوں میں ریاستی ڈھانچے پر اعتماد تیزی سے کم ہونے لگتا ہے۔کرپشن کا حقیقی نقصان صرف مالی نہیں ہوتا۔ یہ پورے معاشرے کے اخلاقی وجود کو کھا جاتا ہے۔ یہ ملک کے اجتماعی وژن، اجتماعی شعور اور اجتماعی رفتار کو متاثر کرتا ہے۔ بدعنوانی کے باعث عوامی وسائل چند مخصوص طبقات کے ہاتھوں میں مرتکز ہو جاتے ہیں اور عدم مساوات میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ یہی عدم مساوات سماجی بے چینی، جرائم، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام اور معاشی جمود کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ یوں بدعنوانی اپنے ساتھ کئی اور امراض کو جڑ سے پھوٹنے کا موقع دیتی ہے۔دنیا کے وہ ممالک جو آج ترقی یافتہ کہلاتے ہیں انہوں نے محض وسائل کے بل بوتے پر یہ مقام حاصل نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنے اداروں کو شفافیت، قانون کی بالادستی اور سخت احتساب کی بنیاد پر مستحکم کیا۔ ترقی کا پہلا قدم اسی وقت اٹھایا جا سکتا ہے جب ریاست کے تمام اداروں میں دیانت کو معیار اور شفافیت کو اصول بنا دیا جائے۔ قانون تب ہی مؤثر ہوتا ہے جب اس کے نفاذ میں امتیاز نہ ہو۔ معیشت تب مضبوط ہوتی ہے جب سرمایہ کاری محفوظ ماحول میں پروان چڑھے۔ انسانی صلاحیت تب کھلتی ہے جب میرٹ کو فوقیت ملے اور نوجوانوں کو یقین ہو کہ ان کی محنت ایک شفاف نظام میں راستہ ضرور بنا لے گی۔اقوام متحدہ نے بدعنوانی کے خلاف عالمی دن اسی لیے منانے کی ضرورت محسوس کی کہ یہ مسئلہ محض کسی ایک خطے یا کسی ایک قوم کا مسئلہ نہیں رہا۔ بدعنوانی عالمگیریت کا وہ تاریک پہلو ہے جو سرحدوں کا پابند نہیں۔ یہ سرمایہ کاری کو روک دیتی ہے، عالمی تجارت میں شفافیت کو متاثر کرتی ہے، غربت میں اضافہ کرتی ہے اور امن کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اقوام متحدہ کا مؤقف ہے کہ جب تک عالمی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار نہیں کی جائے گی تب تک یہ بیماری کسی ایک ملک کو بھی ترقی کی شاہراہ پر پائیدار سفر کی اجازت نہیں دے گی۔بدعنوانی کے خاتمے کی ضرورت محض اخلاقی نہیں بلکہ ایک ناگزیر قومی تقاضا ہے۔ جب قوموں کے نوجوان یہ محسوس کرنے لگیں کہ محنت کم اور تعلق زیادہ اہم ہے، قابلیت کم اور سفارش زیادہ وزنی ہے، تو ان کے اندر سے امید کا اجالا مدہم ہونے لگتا ہے۔ بدعنوانی ذہنوں کو جمود میں مبتلا کرتی ہے، ہمت و حوصلے کو مار دیتی ہے اور اداروں کو محض عمارتوں میں بدل دیتی ہے جہاں پیشہ ورانہ روح دم توڑ دیتی ہے۔ اس کے مقابلے میں جب کسی ریاست میں احتساب مضبوط ہو تو عوام کا اعتماد بڑھتا ہے، سرمایہ کار مطمئن ہوتے ہیں اور ادارے اپنی اصل توانائی کے ساتھ کام کرنے لگتے ہیں۔معاشرہ اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب انصاف اس کے بنیادی اصولوں میں شامل ہو۔ کوئی ریاست فقط جغرافیے سے نہیں بنتی بلکہ انصاف، دیانت، اعتماد اور شفافیت کے ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ بدعنوانی ان تمام ستونوں کو کھوکھلا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ کو قومی بقا کی جنگ کہا جاتا ہے۔ اگر ریاستیں مستقبل کو روشن دیکھنا چاہتی ہیں تو انہیں بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ ذمہ داری صرف حکومت، اداروں یا عدالتوں کی نہیں بلکہ ہر شہری کی ہے۔ جب ایک قوم اجتماعی طور پر بدعنوانی کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے تو پھر کوئی طاقت اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔عالمی یومِ انسدادِ بدعنوانی ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ترقی کے خواب صرف وہی قومیں حقیقت میں بدل سکتی ہیں جو اپنے نظام کو دیانت، انصاف اور شفافیت کی بنیاد پر استوار کریں۔ کرپشن کے خلاف جدوجہد ایک تہذیبی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے اور ایک معاشی ناگزیرضرورت بھی۔ یہ دن اس امر کی یاد دہانی ہے کہ مستقبل انہی کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو آج اپنے اصولوں کی حفاظت کرتے ہیں۔یہ سوچ کہ بدعنوانی کا خاتمہ ہی روشن مستقبل کی بنیاد ہے محض سلوگن نہیں بلکہ وہ حقیقت ہے جو تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے۔ قومیں انصاف پر چلتی ہیں، کردار سے پہچانی جاتی ہیں اور دیانت سے پروان چڑھتی ہیں اگر ہم ایک مستحکم، مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو شفافیت کو اپنی اجتماعی تہذیب اور دیانت کو اپنی قومی پہچان بنانا ہوگا۔ بدعنوانی کے خلاف کھڑا ہونا دراصل ایک روشن اور باوقار مستقبل کی طرف قدم بڑھانا ہے۔ وہ مستقبل جس کی بنیاد دیانت، انصاف اور قومی ذمہ داری کے احساس پر استوار ہو۔
رشیداحمدنعیم
کالم چشمِ نم
rasheednaeem786@gmail.com
03014033622

