تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)
ملک کو درپیش مسائل کی طویل فہرست میں ایک ایسا بحران بھی ہے جو بظاہر شور نہیں مچاتا مگر اندر ہی اندر ہماری اجتماعی پیش رفت کو کھوکھلا کرتا جا رہا ہے۔ یہ بحران ہے آبادی میں بے ہنگم اضافہ۔ یہ محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ وسائل، مواقع اور انسانی وقار سے جڑا ہوا ایک ہمہ جہت چیلنج ہے۔ اگر اس مسئلے کو قومی ترجیح نہ بنایا گیا تو ترقی کے تمام دعوے کاغذی رہ جائیں گے اور عام آدمی کی زندگی مزید دشوار ہو گی۔حال ہی میں ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفس اوکاڑہ کی جانب سے اوکاڑہ میں منعقدہ آگاہی نشست نے اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں پیش کیا کہ آبادی کا مسئلہ اب موخر کیے جانے کے قابل نہیں رہا۔ یہ نشست حکومت پنجاب کے خصوصی پروگرام ’چیف منسٹر پاپولیشن مینجمنٹ اینڈ فیملی پلاننگ‘ کے تحت منعقد ہوئی، جس میں ماہرین صحت، انتظامی افسران اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔ اس مکالمے کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ محدود وسائل کے ساتھ لامحدود آبادی کی رفتار معاشی توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔تقریب کے کلیدی مقرر چودھری عاصم ہدایت نے نہایت سنجیدہ لہجے میں کہا کہ وسائل اور آبادی کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہماری سب سے بڑی کمزوری بنتا جا رہا ہے۔ خوراک، صاف پانی، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی حقوق تبھی یقینی بن سکتے ہیں جب آبادی کی رفتار معقول حدود میں ہو۔ انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی کو محض تعداد گھٹانے کا عمل نہیں بلکہ نسل نو کے لیے بہتر امکانات پیدا کرنے کی حکمت عملی قرار دیا۔ ان کی بات میں ایک اہم انسانی پہلو یہ تھا کہ کم بچے، بہتر نگہداشت اور مضبوط معاشرتی ڈھانچے کی بنیاد رکھتے ہیں۔طبی نقطہ نظر سے گفتگو کرتے ہوئے سی ای اوہیلتھ ڈاکٹر فواد احمد افتخار نے ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے نہایت سادہ مگر فیصلہ کن اصول بیان کیا کہ دو بچوں کی پیدائش کے درمیان کم از کم تین سال کا وقفہ ہونا چاہیے۔ یہ وقفہ ماں کی جسمانی بحالی، نومولود کی غذائی ضروریات اور خاندان کی معاشی منصوبہ بندی تینوں کے لیے مفید ہے۔ انہوں نے اس غلط فہمی کو بھی چیلنج کیا کہ آبادی کے مسئلے کی ذمہ داری صرف خواتین پر عائد ہوتی ہے، حالانکہ مردوں کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی پالیسی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔اس نشست کا ایک اہم پہلو میڈیا کے کردار پر متفقہ زور تھا۔ محکمہ صحت اور آبادی کے پاس اعداد و شمار ضرور ہوتے ہیں، مگر ان اعداد کو عوامی شعور میں تبدیل کرنے کی قوت میڈیا کے پاس ہے۔ خبر جب دلیل کے ساتھ معاشرتی تناظر میں پیش ہوتی ہے تو رویوں میں تبدیلی کا راستہ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی صحافیوں اور کالم نگاروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آبادی کے مسئلے کو وقتی خبر نہیں بلکہ مستقل قومی ایجنڈا بنائیں گے۔سماجی و مذہبی قیادت کی شمولیت بھی اس بیانیے کا لازمی حصہ ہے۔ معاشرے میں پائی جانے والی بہت سی غلط فہمیاں علمی رہنمائی سے دور ہو سکتی ہیں۔ جب ماں اور بچے کی صحت، خاندان کی کفالت اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی کے دینی و اخلاقی پہلو واضح کیے جاتے ہیں تو عوام میں قبولیت بڑھتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ علما، اساتذہ اور سماجی کارکن ایک مربوط پیغام کے ساتھ آگے آئیں۔حقیقت یہ ہے کہ آبادی میں بے قابو اضافہ محض ایک شعبے کا مسئلہ نہیں۔ پانی کی قلت، ماحولیاتی آلودگی، بے روزگاری، شہری دباؤ اور تعلیم کے کم ہوتے معیار سب اسی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ جب شہروں کی گنجائش سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے تو رہائش، ٹرانسپورٹ اور صحت کے نظام لڑکھڑا جاتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں زمین کی تقسیم اور روزگار کے محدود مواقع غربت کو پختہ کرتے ہیں۔ یوں ایک ایسا دائرہ بنتا ہے جس سے نکلنا مشکل ہوتا جاتا ہے۔یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ خاندان کے سائز کے بارے میں فیصلے صرف جذبات سے نہیں بلکہ ذمہ داری کے احساس سے ہونے چاہئیں۔ تعلیم یافتہ اور صحت مند نسل ہی قومی سرمایہ بنتی ہے۔ اس لیے اسکولوں کے نصاب، کمیونٹی پروگرامز اور عوامی مہمات میں ذمہ دارانہ والدینیت کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔میڈیا اس پورے عمل میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ جب صحافت مسئلے کی جڑ تک پہنچ کر حل کی سمت اشارہ کرتی ہے تو عوامی مکالمہ سنجیدہ ہوتا ہے۔ مثبت مثالیں، درست معلومات اور قابلِ عمل رہنمائی لوگوں کو فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اسی شعور کی بدولت ایک چھوٹا مگر مضبوط خاندان معاشی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد رکھتا ہے۔آخرکار، آبادی کا سوال سیاسی یا علاقائی نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال ہے۔ اگر آج سنجیدگی سے قدم نہ اٹھایا گیا تو کل کے امکانات سکڑ جائیں گے۔ امید کی کرن یہی ہے کہ ریاستی ادارے، طبی ماہرین، مذہبی و سماجی قیادت اور میڈیا ایک مشترکہ مقصد پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہ ہم آہنگی برقرار رہی اور پیغام ملک بھر میں پھیلا تو پاکستان اس بے لگام بھنور سے نکل کر متوازن ترقی کی سمت گامزن ہو سکتا ہے


