تحریر: ڈاکٹر صائمہ جبین (اسلام آباد)
14 فروری 2026 کو اسلام آباد میں واقع ادب سرائے انٹرنیشنل علم و وقار کی ایک درخشاں شام کا مرکز بن گیا، جہاں ایک ہی اسٹیج پر اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری کی باوقار تقریب اور نوبل نیویارک پرائز یو ایس اے کی باضابطہ تقریبِ پذیرائی، نئے اعزازات اور تازہ نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا
یہ تقریب اپنے تنوع، وقار اور بین الاقوامی نمائندگی کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی۔ علمی، ادبی اور سماجی خدمات کے اعتراف کا یہ اجتماع درحقیقت پاکستان اور عالمی اداروں کے مابین بڑھتے ہوئے تعلیمی و فکری روابط کی علامت بن کر سامنے آیا۔ تقریب میں شریک شخصیات نے اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ ایسے عالمی اعزازات کا انعقاد پاکستان میں ہونا علمی سفارت کاری کا مثبت اشارہ ہے۔
تقریب میں یونیورسٹی کی نمائندگی ڈاکٹر صائمہ جبین (پارٹنر پریذیڈنٹ)، ڈاکٹر سکندر مرتضیٰ (پروگرام وائس پریذیڈنٹ) اور ڈاکٹر مدیحہ بتول (پروگرام وائس پریذیڈنٹ – این ایم وی) نے کی، جبکہ ادب سرائے انٹرنیشنل کے اعلیٰ عہدیداران ایمان فاروق، نعمانہ فاروق اور احمد فاروق نے انتظامی و ادبی امور سنبھالے۔ مہمانِ اعزازی پروفیسر سجل ملک کی شرکت نے تقریب کو مزید وقار بخشا۔
تقریب کا ماحول باوقار، منظم اور خالصتاً علمی روایت کا آئینہ دار تھا۔ استقبالیہ کلمات میں اس امر کو نمایاں کیا گیا کہ اعزازات کا حقیقی مقصد صرف شخصیات کی تحسین نہیں بلکہ نئی نسل کے لیے فکری و عملی رہنمائی فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ علم، تحقیق، ادب اور خدمتِ انسانیت کے میدان میں اعلیٰ معیار کو اپنا نصب العین بنائیں۔
یہ پروگرام محض اعزازات کی پیشکش تک محدود نہ تھا بلکہ بین الاقوامی علمی روابط اور ادبی وقار کے حسین امتزاج کی عملی تصویر بن کر سامنے آیا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات اور اداروں کی شرکت نے تقریب کو ہمہ جہت وقار اور فکری وسعت عطا کی۔
یہ تقریب پروفیسر ڈاکٹر ٹونی جے کی سرپرستی و رہنمائی میں امریکن یونیورسٹی کے نمائندگان کی طرف سے منعقد ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر ٹونی جے یونی امریکن ایگلز اور نوبل نیویارک پرائز یو ایس اے کے پارٹنر فاؤنڈر و پریذیڈنٹ اور متعدد امریکی جامعات کے چانسلر ہیں۔ وہ یو ایس اے گیٹس کے پلیٹ فارم پر 28 سے زائد امریکی جامعات کے پارٹنر پریذیڈنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مزید برآں وہ ایشین امریکن کلچرل سینٹر اور آر ایم سی جرمنی کی جانب سے اقوام متحدہ نیویارک میں وائس پریذیڈنٹ کے منصب پر بھی فائز ہیں، جو ان کے عالمی علمی و سفارتی کردار کا بین ثبوت ہے۔
ان کی قیادت میں مختلف ممالک میں تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر تعلیمی و ادبی اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ ان کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی یہ تقریب اسی تسلسل کی ایک اہم کڑی تھی۔
تقریب کا اولین مرحلہ ڈاکٹر شہناز مزمل کی اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری کی پیشکش تھا، جسے نہایت احترام اور وقار کے ساتھ انجام دیا گیا۔ ڈاکٹر شہناز مزمل اردو ادب کی عہد ساز اور درخشاں شخصیت ہیں، جو مادرِ دبستانِ لاہور اور نازِ پاکستان کے اعزازات سے سرفراز ہو چکی ہیں۔ ان کی ساٹھ سے زائد تصانیف میں شاعری، حمد و نعت، تحقیق اور دیگر ادبی اصناف شامل ہیں جبکہ قرآنِ کریم کا منظوم مفہوم“نورِ فرقان”ان کا منفرد اور تاریخی کارنامہ ہے۔ 1987ء سے بطور چیئرپرسن ادب سرائے انٹرنیشنل ہزاروں ادبی پروگرامز منعقد کر کے انہوں نے پاکستان کی علمی و ثقافتی نمائندگی عالمی سطح پر کی۔ انہی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں رائل امریکن یونیورسٹی کی طرف سے اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری پیش کی گئی۔ اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری کا شمار دنیا کے اعلیٰ ترین علمی اعزازات میں ہوتا ہے اور اس روایت کا باقاعدہ آغاز 1470ء میں یونیورسٹی آف آکسفورڈ سے ہوا، جس کے بعد یہ اعزاز عالمی علمی عظمت کی علامت بن گیا۔
اس موقع پر مقررین نے اس امر کو سراہا کہ ڈاکٹر شہناز مزمل کی ادبی خدمات نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کی جا رہی ہیں۔ ان کی قیادت میں ادب سرائے انٹرنیشنل نے ادبی سفارت کاری کا جو کردار ادا کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔
تقریب کے دوسرے اہم مرحلے میں نوبل نیویارک پرائز یو ایس اے کی باضابطہ تقریبِ پذیرائی، عالمی تعارف اور اعزاز یافتگان و نامزد شخصیات کا ذکر کیا گیا۔ اس عالمی اعزاز کی افتتاحی تقریب 2 مئی 2025 کو اقوام متحدہ نیویارک میں منعقد ہوئی، جہاں ڈاکٹر علی ریکبی (28 امریکن یونیورسٹیز کے پارٹنر اونر) نے صدارت کی اور اسے عالمی سطح پر متعارف کروایا گیا۔
یہ اعزاز ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جنہوں نے سماجی، تعلیمی، سیاسی یا انسانی خدمت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہو۔ اس کے دائرہ کار میں مختلف ممالک کے رہنما، ماہرین تعلیم، سماجی کارکن اور پالیسی ساز شامل رہے ہیں۔
جن عالمی شخصیات کو اس اعزاز سے نوازا جا چکا ہے ان میں عزت مآب ڈونلڈجیٹرمپ (جن کا ایوارڈ قیصر مصطفیٰ بھٹہ صدر پاکستانی ری پبلک پارٹی، نے وصول کیا)، کینیڈا کے وزیر اعظم عزت مآب مارک کارنے، امریکی کانگریس کے رکن گرے گوری میکس، برامپٹن کینیڈا کے میئر پیٹرک براؤن، یونی امریکن ایگلز کی پارٹنر پریذیڈنٹس ڈاکٹر صائمہ جبین اور ڈاکٹر ثناء رشید، ہابرٹ براؤنسٹینز کینیڈین امیگریشن فرم اور اس کے سی ای او نک ولسن، کینیڈین امیگریشن کنسلٹنٹ ڈاکٹر کرشمہ شرما کے نام شامل ہیں۔
پروگرام میں نیویارک سٹی کے نئے تعینات میئر زہران ممدانی کے لیے جاری نوبل نیویارک پرائز یو ایس اے اعزاز کا اعلان، ڈاکٹر لیلتہ القدر کی نوبل نیویارک پرائز یو ایس اے کے لیے نامزدگی، اور پاکستانی اسکالر ڈاکٹر سبیل اکرام کو ڈاکٹر میمونہ شاہین احمد کی نامزدگی پر دیا گیا نوبل نیویارک پرائز یو ایس اے کا اعزاز بھی نمایاں رہا۔

14 فروری کو منعقدہ اس باوقار تقریب میں ڈاکٹر صائمہ جبین نے بطور پارٹنر پریذیڈنٹ نوبل نیویارک پرائز یو ایس اے کے اعلی حکام کی طرف سے ڈاکٹر سکندر مرتضیٰ
(پروگرام وائس پریذیڈنٹ، یونی امریکن ایگلز)
کے لیے ان کی تین دہائیوں پر محیط سماجی و علمی خدمات اور یونیورسٹی کے بورڈ آف ممبرز میں نمایاں کردار کے اعتراف میں نوبل نیویارک پرائز یو ایس اے ایوارڈ اور ڈاکٹر مدیحہ بتول کے لیے نوبل نیویارک پرائز یو ایس اے کی باضابطہ نامزدگی کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر مدیحہ بتول، جو“UNSINKABLE SOUL”کے اعزاز سے معروف ہیں، ایک فعال سماجی کارکن ہیں۔ وہ قومی و بین الاقوامی سطح پر بے شمار اعزازات حاصل کر چکی ہیں، متعدد امریکی یونیورسٹیز کے پروگرامز منعقد کروا چکی ہیں، اور انہیں امریکن اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگری سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر مدیحہ بتول نے امریکی یونیورسٹیز کے vision کو بیان کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر شہناز مزمل اور ڈاکٹر سکندر مرتضی کو ان کے اعزازات پر مبارکباد دی اور نوبل نیویارک پرائز یو ایس اے کی نامزدگی پر یونیورسٹی کا شکریہ ادا کیا۔
ان اعزازات کے سلسلے میں امریکہ، کینیڈا اور ایشیا میں منفرد پروگرامز منعقد کیے جا چکے ہیں۔ اسی تسلسل میں 2024ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی انڈیا میں تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکن اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگریوں کی تقریب منعقد ہوئی، جس کی نمائندگی ڈاکٹر انا دہلوی نے کی۔
اس عظیم سلسلے میں امریکن ایگلز یونیورسٹی کی جانب سے وائس پریذیڈنٹس
ڈاکٹر شاہینہ کشور، ڈاکٹر ہیلیا بائیگان، ڈاکٹر نورین اکرم راٹھور، ڈاکٹر کے بی رفیق، ڈاکٹر مستقیم مکی، ڈاکٹر لیلتہ القدر، ڈاکٹر سکندر مرتضی، ڈاکٹر مدیحہ بتول، ڈاکٹر سدرہ اشرف، ڈاکٹر میمونہ شاہین احمد، ڈاکٹر مریم احمد اور ڈاکٹر بلال ملک،
اور پارٹنر پریذیڈنٹس ڈاکٹر صائمہ جبین اور ڈاکٹر ثناء رشید نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اس پروگرام کی کامیابی مکمل طور پر ایک مربوط ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔
تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر شہناز مزمل نے رائل امریکن یونیورسٹی کے پارٹنر پریذیڈنٹ ڈاکٹر ٹونی جے اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور اس اعزاز پر دلی مسرت کا اظہار کیا۔
اختتامی کلمات میں ڈاکٹر صائمہ جبین نے اس امر پر زور دیا کہ آج کی یہ تقریب عالمی وژن کی توسیع اور علم و ادب کے فروغ کا مظہر ہے۔ پاکستان میں نوبل نیویارک پرائز یو ایس اے کا پیش کیا جانے والا یہ پروگرام اپنی نوعیت کا پہلا باوقار علمی اجتماع ہے، جس کے انعقاد کا اعزاز ادب سرائے انٹرنیشنل کی چیئرپرسن ڈاکٹر شہناز مزمل کو حاصل ہوا۔
یہ اعزاز اُن شخصیات کے لیے ہے جو اوجِ ثریا تک رسائی کے باوجود خدمتِ انسانیت کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں اور جن کی خدمات وقت اور سرحدوں سے ماورا ہو کر انسانیت کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہو رہی ہیں۔

