تنول،ایک تاریخی شناخت، انتظامی محرومی اور ضلع بننے کی جدوجہد

سیدسفیر حسین شاہ

ہزارہ ڈویژن کی سرسبز و شاداب وادیوں میں واقع تنول محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک مکمل تاریخی، قبائلی اور تہذیبی شناخت رکھتا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو صدیوں سے تنوولی قبیلے کا مسکن چلا آ رہا ہے، مگر بدقسمتی سے آج بھی انتظامی سطح پر اپنی پہچان اور حقوق کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہے۔تنول ہزارہ ڈویژن کا ایک تاریخی علاقہ ہے، جو جغرافیائی طور پر اپر تنول (Upper Tanol) اور لوئر تنول (Lower Tanol) میں تقسیم سمجھا جاتا ہے۔ اپر تنول کا مرکزی علاقہ لاسن نواب جبکہ لوئر تنول کا نمایاں علاقہ شرون ہے۔ یہ دونوں علاقے پہاڑی سلسلوں، وادیوں اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں اور ہزارہ ڈویژن کے قلب میں واقع ہیں۔تنول کا محلِ وقوع اسے ایبٹ آباد، ہری پور اور مانسہرہ جیسے اہم اضلاع کے قریب لے آتا ہے، مگر اس کے باوجود یہ علاقہ انتظامی پسماندگی کا شکار ہے۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو تنول کے عوام کے احساسِ محرومی کو جنم دیتا ہے۔ وسائل موجود ہیں، آبادی موجود ہے، جغرافیائی وسعت بھی ہے، مگر فیصلہ سازی میں مؤثر نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔
تنول کے نوجوان صلاحیتوں سے بھرپور ہیں، مگر انہیں بہتر تعلیمی ادارے، صحت کی معیاری سہولیات اور روزگار کے مواقع میسر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تنول میں یہ شعور پروان چڑھ رہا ہے کہ ضلع کا درجہ محض ایک مطالبہ نہیں بلکہ بنیادی انسانی اور آئینی حق ہے۔ ضلع بننے کی صورت میں نہ صرف مقامی سطح پر انتظامی خودمختاری بڑھے گی بلکہ ترقیاتی فنڈز، ادارہ جاتی ڈھانچے اور عوامی سہولیات تک براہِ راست رسائی ممکن ہو سکے گی۔ اسی پس منظر میں تنول کو ضلع کا درجہ دلوانے کی تحریک زور پکڑ رہی ہے، جسے مقامی قیادت کے ساتھ ساتھ اوورسیز کمیونٹی کی بھرپور حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم تنوولی برادری نہ صرف اس تحریک کی آواز بن رہی ہے بلکہ یہ واضح پیغام دے رہی ہے کہ تنول کے عوام اب مزید نظرانداز ہونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
تنول کی جدوجہد دراصل پاکستان کے ان تمام علاقوں کی کہانی ہے جو وسائل اور صلاحیتوں کے باوجود انتظامی محرومی کا شکار ہیں۔ یہ جدوجہد کسی تصادم کی نہیں بلکہ اتحاد، نظم و ضبط اور پرامن سیاسی عمل کے ذریعے اپنے جائز حق کے حصول کی علامت ہے۔
ضلع کا درجہ محض ایک مطالبہ نہیں بلکہ بنیادی انسانی اور آئینی حق ہے۔ ضلع بننے کی صورت میں مقامی سطح پر انتظامی خودمختاری بڑھے گی۔ترقیاتی فنڈز اور ادارہ جاتی ڈھانچے تک رسائی ممکن ہوگی۔تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر میں حقیقی ترقی ممکن ہوگی
اسی پس منظر میں تنول کو ضلع کا درجہ دلوانے کی تحریک زور پکڑ رہی ہے، جسے مقامی قیادت کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک مقیم تنوولی کمیونٹی کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ تحریک ابتدا میں مقامی سطح تک محدود تھی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کا دائرہ اوورسیز کمیونٹی تک پھیل چکا ہے، جو اس مطالبے کی وسعت اور عوامی تائید کا واضح ثبوت ہے۔
چنانچہ سرور ز یب کو پریزیڈنٹ اوورسیز قومی تحریک برائے ضلع تنول مقرر کیا گیا ہے۔ تاکہ ان کی قیادت میں اوورسیز کمیونٹی نے تحریک کو عالمی سطح پر منظم انداز میں اجاگر کرنے، پالیسی ساز اداروں تک مقدمہ پہنچانے اور پرامن، جمہوری جدوجہد کو مؤثر بنانے کا کردار ادا کیا ہے۔
تنول کی جدوجہد کسی تصادم کی نہیں بلکہ اتحاد، نظم و ضبط اور پرامن سیاسی عمل کے ذریعے اپنے جائز حق کے حصول کی علامت ہے۔ ریاست کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ انتظامی انصاف ہی قومی یکجہتی اور ترقی کی بنیاد ہے۔ تنول کو ضلع کا درجہ دینا نہ صرف تاریخی ناانصافی کا ازالہ ہوگا بلکہ ہزارہ ڈویژن کی مجموعی ترقی میں بھی سنگِ میل ثابت ہوگا۔ضلع تنول، مطالبہ نہیں، حق۔ خاموشی اب جرم۔

اپنا تبصرہ بھیجیں