رمضان المبارک نیکیوں کی بہار۔۔۔رحمتوں برکتوں اور مغفرت کا مہینہ

تحریر:بشیر احمد
رمضان المبارک محض ایک مہینہ نہیں بلکہ رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کی وہ بہار ہے جو ہر سال انسان کے باطن کو سنوارنے اور اس کی زندگی کا رخ درست کرنے کے لیے آتی ہے۔ جونہی چاند کی پہلی جھلک نمودار ہوتی ہے تو دلوں میں ایک خاص کیفیت اتر آتی ہے۔ مساجد آباد ہو جاتی ہیں، گھروں میں عبادت کا ذوق بڑھ جاتا ہے اور فضا میں روحانیت کی خوشبو پھیل جاتی ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی رحمتوں کے لیے منتخب فرمایا اور اسی میں قرآن مجید نازل ہوا۔ اسی ماہ کی ایک رات، لیلۃ القدر، کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا جو اس مہینے کی عظمت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔
رمضان کی سب سے نمایاں عبادت روزہ ہے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ نفس کی تربیت اور کردار کی تعمیر کا جامع نظام ہے۔ جب ایک بندہ شدید خواہش کے باوجود کھانے پینے سے رک جاتا ہے تو دراصل وہ اپنے رب کی اطاعت کا عملی ثبوت دے رہا ہوتا ہے۔ روزہ انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرتا ہے، اسے صبر سکھاتا ہے، اس کی زبان کو قابو میں رکھتا ہے اور اس کی نگاہوں کو جھکنا سکھاتا ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جس کے بارے میں حدیث قدسی میں آیا کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ اس سے بڑی عزت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اس کے اجر کا اعلان فرمائے۔
سحری رمضان کا ایک نہایت بابرکت حصہ ہے۔ یہ محض ایک کھانا نہیں بلکہ سنت اور رحمت ہے۔ سحری کو تاخیر سے یعنی فجر کے قریب آخری لمحات میں کرنا سنت ہے اور ان لمحات میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت متوجہ ہوتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب دعائیں قبول ہوتی ہیں اور بندہ اپنے رب کے حضور عاجزی کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔ اگر سحری سے پہلے تہجد ادا کر لی جائے تو اس کی فضیلت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ رات کی تنہائی میں ادا کی جانے والی یہ نماز اخلاص کی علامت ہے۔ انسان جب سب کی نظروں سے اوجھل ہو کر اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، آنسو بہاتا ہے، اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے اور معافی طلب کرتا ہے تو یہی لمحے اس کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
ہمارے گھروں کی وہ مائیں اور بہنیں جو سحری کی تیاری میں مصروف رہتی ہیں ان کا کردار بھی کم اجر والا نہیں۔ اگر وہ اپنی سحری تیار کرنے والی ذمہ داریوں کو شروع کرنے سے قبل کم از کم دو نفل ہی ادا کر لیں تو یہ بھی سعادت میں شمار ہوگا۔ اللہ نیتوں کو دیکھتا ہے اور اخلاص کے ساتھ کیا گیا مختصر عمل بھی اس کے ہاں عظیم ہو جاتا ہے۔افطاری کا وقت بھی رمضان کی روح کا ایک اہم پہلو ہے۔ مغرب کی اذان کے ساتھ فوراً روزہ افطار کرنا سنت ہے اور اس لمحے کی دعا کو رد نہیں کیا جاتا۔ یہ شکر کا وقت ہے، عاجزی کا وقت ہے۔ افسوس کہ بعض اوقات افطاری کو نمود و نمائش کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے حالانکہ اسلام سادگی اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے دسترخوان کو سادہ رکھ کر کسی ضرورت مند کے گھر بھی افطار کا سامان پہنچا دیں تو یہی افطاری کی اصل روح ہے۔
رمضان میں صدقہ و خیرات کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ اس مہینے میں سب سے زیادہ سخی ہو جایا کرتے تھے۔ یہ وہ مہینہ ہے جب دل نرم پڑ جاتے ہیں اور انسان دوسروں کے دکھ درد کو زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔ فطرانہ اسی احساس کا عملی اظہار ہے تاکہ عید کی خوشی میں کوئی غریب مسلمان محروم نہ رہے۔ یہ معاشرتی مساوات کا ایک خوبصورت نظام ہے جو اسلام نے صدیوں پہلے قائم کیا۔
صدقہ صرف مال دینے کا نام نہیں۔ کسی کو معاف کر دینا، کسی کی غلطی کو درگزر کر دینا، کسی کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرنا بھی صدقہ ہے۔ رمضان ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ اگر ہم اللہ سے اپنی مغفرت چاہتے ہیں تو ہمیں بھی بندوں کو معاف کرنا ہوگا۔ غصہ، حسد، کینہ اور نفرت دلوں کو تاریک کر دیتے ہیں جبکہ معافی اور درگزر انہیں روشن کر دیتے ہیں۔رمضان کے آخری عشرے کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہے۔ انہی دنوں میں اعتکاف کی عبادت ادا کی جاتی ہے۔ اعتکاف دراصل دنیاوی مشاغل سے کنارہ کش ہو کر مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ ہو جانے کا نام ہے۔ مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھ کر ذکر و تلاوت میں مشغول رہنا انسان کو اس حقیقت کا شعور دیتا ہے کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے۔
اسی آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر پوشیدہ ہے۔ یہ وہ رات ہے جسے قرآن نے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا۔ اس رات فرشتے نازل ہوتے ہیں، رحمتوں کی بارش ہوتی ہے اور بندے کے لیے مغفرت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ جو شخص ایمان اور احتساب کے جذبے کے ساتھ اس رات کو پا لے اس کی زندگی سنور سکتی ہے۔ یہ رات دراصل انسان کے لیے ایک نیا آغاز ہے۔
رمضان ہمیں صرف عبادات کا پابند نہیں بناتا بلکہ اخلاقیات کا بھی درس دیتا ہے۔ روزہ دار کو حکم ہے کہ وہ لڑائی جھگڑے سے بچے، کسی کی دل آزاری نہ کرے اور اگر کوئی اس سے الجھنے کی کوشش کرے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار
ہوں۔ یہ جملہ دراصل برداشت اور ضبطِ نفس کی علامت ہے۔اگر ہم رمضان کو اس کی اصل روح کے ساتھ گزار لیں، سحری و افطاری کی سنتوں کو زندہ رکھیں، تہجد کی لذت کو محسوس کریں، صدقہ و خیرات کے ذریعے انسانیت سے محبت کا اظہار کریں، اعتکاف کے ذریعے اپنے باطن کو سنواریں اور لیلۃ القدر کی تلاش میں راتوں کو آباد کریں تو یقیناً یہ مہینہ ہماری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ رمضان آتا ہے تاکہ ہمیں بہتر انسان بنا کر جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا اسے محض ایک موسمی عبادت سمجھ کر گزار دیتے ہیں؟اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے، اس کی رحمتوں کو سمیٹنے اور اس کے پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں