دیس پردیس

تحریر:شاہد شکیل
دُنیا میں کوئی بھی اِنسان اپنی خوشی یا شوق سے اپنا گھر،اپنی پہچان اور اپنا دیس چھوڑ کر کِسی اجنبی سر زمین کو مسکن نہیں بناتا،وطن سے ہجرت ہمیشہ ایک مجبوری ہوتی ہے،اِنتخاب نہیں،اِنسان اپنے گھروں سے تب جدا ہوتے ہیں جب اُن کا اپنا مُلک اُن کے ساتھ اِنصاف نہ کرے جب حالاتِ زندگی تنگ ہو جائیں، تعلیم کے دروازے بند ہوں،روزگار نہ ملے اور مستقبل تاریکی میں ڈوبتا محسوس ہو، ایسی صورت میں مجبوراََ اِنسان کو رِزق کی تلاش میں پردیس کا رُخ کرنا پڑتا ہے،یہ اپنے اندر ایک گہرا المیہ لئے ہو ئے حقیقت ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے لاکھوں لوگ بہتر زِندگی کی تلاش میں سرحدیں پار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، وہ کِسی بھی قیمت پر، کِسی بھی تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے اجنبی سر زمین پر اپنی محنت سے اپنے اور اپنے خاندان کے مستقبل کو سنوارنے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں۔ وطن کے اندر ایک شہر سے دوسرے شہر جانا ہِجرت نہیں کہلاتا، یہ محض بہتر روزگار،بہتر سہولتوں یا بہتر زندگی کی تلاش میں کی جانے والی ایک معمولی نقل و حرکت ہے، ایسے حالات میں اِنسان کے دل میں ایک سُکون ہوتا ہے، یہ اِحساس کہ میں ابھی بھی اپنے وطن میں ہوں۔لیکن جب کسی ملک میں جنگ چھڑ جائے، جب گولیاں اور بارود اِنسانوں کے خوابوں کو جلا ڈالیں جب گھروں کی دیواریں لرز جائیں اور انسان کے پاس زندگی کے لئے کوئی محفوظ گوشہ باقی نہ رہے،تب انسان پر وہ وقت آتا ہے جب وہ اپنی جان بچانے کے لئے اپنا گھر، اپنا شہر، اپنا ملک سب کچھ چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے،کیونکہ جنگ میں اکثر صرف تباہی ہوتی ہے۔موجودہ دور میں ترقی پذیر ممالک کا شاید ہی کوئی ایسا فرد رہ گیا ہو جو اپنے ملک کے بگڑتے ہوئے حالات، معاشی بحران، سماجی مسائل یا مسلط کی ہوئی جنگوں کے باعث ہجرت کے بارے میں نہ سوچتا ہو۔ گزشتہ کئی برسوں میں ایشیا اور افریقہ کے لاکھوں افراد اپنے وطنوں سے نکل کر دنیا کے مختلف خطّوں میں جا بسے ہیں،کہیں روز گار کی تلاش، کہیں امن کی تلاش اور کہیں زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی تلاش میں،یہ ہجرت کا سلسلہ تھما نہیں بلکہ حالات کے دباؤ،معاشرتی ناہمواری، عدمِ تحفظ اور جنگی تباہ کاریوں کے باعث آج بھی پوری شدت سے جاری ہے۔یورپ آج کے دور میں دنیا کا سب سے نمایاں اور مرکزی خطہ بن چکا ہے جہاں لاکھوں افراد بہتر زندگی،امن اور معاشی استحکام کی خاطر ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں تارکین وطن کی تعداد میں غیر معمولی اِضافہ دیکھنے میں آیا ہے،لاکھوں لوگ خوفناک جنگوں،پے درپے تشدد کے واقعات،معاشی بدحالی،روزگار کی کمی اور بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنے دیسوں سے نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔افغانستان کی طویل اور خونریز جنگ، عراق کی تباہ کن لڑائی، شام میں ہونے والی ہولناک جنگی کارروائیاں اور فلسطین میں جاری مسلسل ظلم و ستم،یہ سب وہ سانحات ہیں جنہوں نے لاکھوں انسانوں کو اپنے گھروں اور اپنے وطن سے جدا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔اِسی طرح یورپ کے ملک یوکرین میں چھڑنے والی جنگ نے بھی بے شمار لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر مختلف یورپی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا ہے، یورپ کے تمام ممالک میں تارکین وطن کی تعداد اب ایک تشویش ناک حد تک بڑھ چکی ہے،خصوصاََ ترقی پذیر ممالک کے افراد کی نقل مکانی ایک گہرا اور پیچیدہ عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے یہ ہجرت جغرافیائی نہیں بلکہ معاشی دباؤ،سیاسی عدمِ استحکام، سماجی ناہمواری اور مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال کا دردناک نتیجہ ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق یورپ میں خصوصاََ فرانس،برطانیہ اور جرمنی میں ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد 1950تک جرمنی میں تارکین وطن کی تعدا د نہ ہونے کے برابر تھی مگر 1955میں جب جرمنی کی معیشت تیزی سے ترقی کرنے لگی تو جرمن حکومت نے مزدوری کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اِٹلی کے ساتھ ایک لیبر پالیسی کا معاہدہ کیا، جسے سرکاری طور پر مہمان کارکنان(گیسٹ ورکرز)کے نام سے موسوم کیا گیا، پھر 1961میں ترکی کے ساتھ بھی لیبر معاہدہ طے پایا۔ 1971کے بعد خصوصاََ ترکی سے آنے والے مہمان کارکنان نے جرمنی میں مستقل بنیادوں پر اپنے قدم جما لئے، اگرچہ بعد ازاں نئی جرمن حکومتوں نے مہمان کارکنان کے تمام سرکاری و غیر سرکاری معاہدے ختم کر دئے تھے، لیکن اس کے باوجود تارکین وطن کی آمد کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ تھا۔ وقت کے ساتھ حکومتیں بدلتی رہیں،قوانین میں ترمیم ہوتی رہی،اور انسانی حقوق، خصوصاََ خاندانی قوانین میں نرمی اور وسعت پیدا کی گئی، اِن نئی سہولتوں اور قانونی آسانیوں سے سب زیادہ فائدہ ترک نژاد افراد نے اُٹھایا،جنہوں نے جرمنی میں اپنے خاندانوں سمیت مضبوط بنیادیں قائم کر لیں۔ہر انسان اپنے وطن میں ایک آزاد، بے خوف اور مانوس زندگی گزارنا چاہتا ہے لیکن جب حالات،مسائل، معاشی تنگی یا جنگ و جدل کی بنا پر اُسے اپنا دیس مجبوری میں چھوڑنا پڑے تو ہجرت اُس کے لئے آسان سفر نہیں رہتی،جس ملک میں وہ پناہ لیتا ہے وہاں اُسے نئے ماحول میں ڈھلنے،نئی زبان، نئے قانون، نئی روایات اور نئے معاشرتی ڈھانچے کو سمجھنے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے، اکثر افراد اپنی پرانی عادات، رسم ورواج اور طرزِ زندگی تَرک نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے نئے ملک میں اُنہیں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔لیکن ایک حقیقت ہمیشہ قائم رہتی ہے،جو خوشی،جو آزاد فضا، جو مانوس ماحول اور قلبی سکون انسان کو اپنے وطن میں میسر ہو تا ہے وہ دنیا کے کسی دیس میں نہیں ملتا،وطن کی مٹی کی خوشبو،اپنے لوگوں کا تعلق، اپنی زبان کی مٹھاس اور اپنی زمین کا اعتماد کسی پردیس میں نصیب نہیں ہوتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں