کراچی (این این آئی) سندھ کے وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ حکومت سندھ صحت کے شعبے میں لوگوں کو بہترین طبی سہولتیں مہیا کرنا چاہتی ہے، ہمارے پاس نیوروسرجنز کی کمی ہے، نئی خالی اسامیوں پر بھرتی کے بعد یہ قلت ختم ہوجائے گی۔انہوں نے یہ بات پیر وکو سندھ اسمبلی میں محکمہ صحت سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی۔عذرا فضل پیچوہونے بتایا کہ صوبے میں 2024 کے دوران خسرے کے 700 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 2025 میں 3 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ 2018 سے 2023 تک خسرے کی وجہ سے 16 اموات ہوئی ہیں۔ ہم خسرے کی ویکسین لگواتے ہیں۔ اس حوالے سے ڈجیٹل الیکٹرانک سسٹم بنا یا جارہا ہے جس کے تحت خسرے کے مریض بچے کا مکمل ریکارڈہمارے پاس موجود ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی گنجان آبادیوں میں خسرے کے کیسز ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ بچوں کو ویکسین کے لئے نہیں لاتے۔ وزیر صحت نے کہا کہ کراچی میں پولیو اوریچ پی وی ویکسین کے بھی مسائل ہیں،خسرے کے ویکسین کی قیمت چھ سات ہزار روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن کے حوالے سے غریب لوگوں میں ڈس انفارمیشن پھیلائی جاتی ہے پانچ سال کے بچوں کو 37 لاکھ ٹیکے لگائے ہیں۔ ایم آر ٹو میں بھی دس لاکھ بچوں کو ویکسین کروائی گئی ہیں۔ وزیر صحت سندھ نے کہا کہ سندھ میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا بڑا کام ہے۔ ان کے فرائض میں میٹرنٹی میں آگاہی دینا۔ پولیو کے ڈراپس پلانا اورہاتھ دھونے کی آگاہی دینا بھی شامل ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ہمارے پاس اسٹاف کی کمی ہے۔ ہم نے کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کے نام سے ایک پروگرام ڈیزائن کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر صحت نے بتایا کہ ہمارے پاس نیورو سرجنز کی کمی ہے۔ تاہم نئی تقرریوں کے بعد یہ اسامیاں پر کی جائیں گی۔ نئی تقرریوں میں بائیس کے قریب میڈیکل آفسرز،جنرل سرجن اور جنرل فزیشن شامل ہیں۔ قطر ہسپتال سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مریضوں کا ٹرن اوور بہت زیادہ ہے۔ امرجنسی بہتر کریں گے۔ کوشش ہے کہ قطر ہسپتال کے آئی سی یو اور امرجنسی کو الگ کردیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں نیورو سرجن کی بہت کمی ہے،نیورولاجسٹ اور نیورو سرجن پرائیوٹ نوکریوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایوان کی کارروائی کے دوران ارکان کے مختلف توجہ دلا نوٹس بھی زیر بحث آئے رکن اسمبلی نصیر احمد نے اپنے توجہ دلاو نوٹس میں کہا کہ پی ایس 118 منگھو پیر روڈ کی حالت بہت خراب ہے۔ شام میں حادثات ہوتے ہیں لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں۔ تجاوزات بہت زیادہ ہیں کام کرنے والے افسران کے تبادلے کر دیئے جاتے ہیں،سندھ حکومت غیر قانونی سرگرمیاں بند کروائے۔ پارلیمانی سکریٹری بلدیات سراج قاسم سومرو کے ایم سی والوں کو فاضل رکن کے پاس بھیجتا ہوں وہ ان کے پاس بیٹھ کر جگہوں کی نشاندہی کردیں مناسب کاروائی کی جائے گی۔ایم کیو ایم کی رکن کرن مسعود نے اپنے توجہ دلاو نوٹس میں کہا کہ نارتھ ناظم آباد سوئی گیس کا کام ختم ہو گیا ہے مگر ابھی تک سڑکیں تعمیر نہیں ہوئیں،سڑکوں پر ملبہ پڑا ہے جس میں گر کر ایک بچہ جاں بحق ہو گیا۔ سراج قاسم سومرو نے کہا کہ قاسم سومروسڑک کی تعمیر میں انجینئرنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاقے میں بیس فیصد کام ہوا ہے آئندہ برسات سے پہلے سڑکیں بن جائیں گی۔سندھ اسمبلی نے پیر کو سندھ ریونیو بورڈ میں ترمیمی بل کی منظور ی دیدی جس کے بعدجلاس منگل کی دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

