ایران کی سرزمین صدیوں سے مختلف نسلی، لسانی اور ثقافتی گروہوں کا مرکز رہی ہے، جہاں ایرانی، ترکی، عربی، سامی اور دراوڑی اثرات یکجا ہوتے آئے ہیں۔ انہی متنوع گروہوں میں کوروشی قوم ایک چھوٹا مگر منفرد گروہ ہے، جس کی شناخت بنیادی طور پر اس کی زبان، ثقافت اور تاریخی پس منظر کے ذریعے قائم ہے۔ کوروشی قوم ایران کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں میں آباد ہے، بالخصوص صوبہ ہرمزگان، جنوب فارس، اور بعض قریبی علاقے جیسے بوشہر میں۔ اس کے علاوہ چند خاندان صوبہ کرمان کے جنوبی علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ جغرافیائی پھیلاؤ انہیں ایک الگ تھلگ مگر وسیع جغرافیائی دائرے میں رکھتا ہے، جہاں مختلف لسانی اور ثقافتی اثرات ملتے ہیں۔
کوروشی گروہ کے رہائشی علاقے سمندر، پہاڑ اور صحرائی زمینوں پر مشتمل ہیں، جس کی وجہ سے ان کی معیشت اور روزمرہ زندگی بھی جغرافیائی ماحول سے گہرائی سے جڑی ہوئی ہے۔ بندر عباس اور اطراف کے ساحلی علاقوں میں رہنے والے کوروشی زیادہ تر مویشی بانی، مچھلی گیری اور چھوٹے کاروبار میں مصروف ہیں، جبکہ اندرونی دیہاتوں میں زراعت اور مویشی بانی کی زیادہ اہمیت ہے۔ اس طرح، کوروشی قوم نے اپنی زبان، ثقافت اور معاشرتی ڈھانچے کو ایک مخصوص جغرافیائی اور ماحولیاتی تناظر میں ڈھالا ہے، جو انہیں دیگر بلوچ قبائل سے الگ تھلگ مگر بنیادی طور پر بلوچ النسل رکھنے والے گروہ کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔
تاریخی پس منظر:
کوروشی قوم کی اصل کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں، لیکن مستند تاریخی اور لسانی تحقیق اس بات پر متفق ہے کہ یہ قوم دراصل بلوچ قبائل کی ایک شاخ ہے جو وقت کے ساتھ ایران کے جنوبی خطوں میں جا بسی۔ بعض مقامی روایات اس قوم کو کوروشِ کبیر (Cyrus the Great) کی نسل سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن اس دعوے کے حق میں کوئی معتبر تاریخی یا نسلی ثبوت موجود نہیں۔ علمی تحقیقات واضح کرتی ہیں کہ کوروشی قوم کا تعلق براہِ راست کوروشِ کبیر سے نہیں بلکہ بلوچ النسل گروہوں سے ہے۔
بلوچ قبائل کی ہجرتیں مختلف ادوار میں ایران کے جنوب کی طرف ہوئیں۔ خاص طور پر مکران اور بلوچستان سے نکل کر کئی بلوچ خاندان جنوبی ایران کے صوبوں فارس، ہرمزگان اور کرمان تک پہنچے۔ ان میں سے کچھ قبائل قشقائی کنفیڈریسی (Qashqai Confederacy) میں ضم ہو گئے، جو اگرچہ بنیادی طور پر ترک النسل اتحاد تھا مگر اس میں لُر، بلوچ اور عرب النسل گروہ بھی شامل تھے۔ کوروشی انہی بلوچ قبائل کی شاخ تھے جنہوں نے قشقائی کنفیڈریسی میں شمولیت اختیار کی اور وقت کے ساتھ ایک الگ شناخت بنائی۔
کوروشی قوم کی یہ شناخت بنیادی طور پر بلوچ قبائل سے منسلک رہنے کے باوجود مقامی ماحول کے اثرات سے بھی بدلتی رہی۔ فارسی زبان کے بولنے والے پڑوسی گروہوں، قشقائی ترک قبائل اور لُری قوموں کے ساتھ صدیوں کی قربت نے ان کی زبان اور ثقافت پر واضح اثرات ڈالے۔ تاہم ان کی اصل جڑ بلوچ قبائل میں ہی پیوست رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ آج کوروشی اپنی ایک مخصوص شناخت رکھتے ہیں، لیکن ان کی تاریخ، لسانیات اور رسوم و رواج سبھی انہیں بلوچ قوم کے وسیع دائرے کے اندر رکھتے ہیں۔
لسانی محققین جیسے Carina Jahani اور Maryam Nourzaei نے اس بات کو اجاگر کیا کہ کوروشی گروہ کی زبان اور طرزِ زندگی بلوچوں کے ساتھ براہِ راست رشتہ رکھتا ہے۔ Encyclopaedia Iranica بھی کوروشی کو بلوچ قبائل کی شاخ قرار دیتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوروشی محض ایک “مقامی قبیلہ” نہیں بلکہ بلوچ قوم کے تاریخی پھیلاؤ کا حصہ ہیں جو بلوچستان سے نکل کر ایران کے جنوبی خطوں میں آباد ہوئے اور وہاں صدیوں سے اپنی زبان و ثقافت کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔
لسانی پہلو:
کوروشی زبان کو عالمی سطح پر بلوچ زبان کی ایک بولی (dialect) مانا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر جنوبی بلوچی سے قریب ہے، اور اس کے صوتی و صرفی ڈھانچے اسی زبان کی جڑوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کوروشی میں ضمیروں، فعلوں اور اسماء کی ساخت جنوبی بلوچی کے ساتھ واضح مماثلت رکھتی ہے۔ البتہ، صدیوں سے فارسی، قشقائی ترکی اور لُری زبانوں کے زیرِ اثر رہنے کی وجہ سے اس میں متعدد دخیل الفاظ شامل ہوگئے ہیں۔
کوروشی زیادہ تر ایران کے صوبہ ہرمزگان میں بولی جاتی ہے، اور اس کے بولنے والے کچھ خاندان صوبہ فارس اور بوشہر میں بھی آباد ہیں۔ جغرافیائی طور پر الگ تھلگ ہونے کے باعث یہ دیگر بلوچی بولیوں سے قدرے منفرد شکل اختیار کر گئی ہے۔ کوروشی بولی کے اندر مزید دو ذیلی
لہجے (sub-dialects) بھی پائے جاتے ہیں:
1. کلاتی
2. سرحدی
یہ دونوں لہجے دراصل کوروشی بولنے والوں کے مختلف گروہوں میں رائج ہیں اور ان میں صوتیات اور الفاظ کے استعمال میں معمولی فرق پایا جاتا ہے۔ تاہم، ان کی بنیادی ساخت بدستور بلوچی زبان ہی ہے۔ اسی تقسیم نے کوروشی کے اندرونی تنوع کو مزید نمایاں کیا ہے اور اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ یہ بولی اگرچہ محدود علاقے میں بولی جاتی ہے مگر اپنے اندر ایک داخلی رنگا رنگی بھی رکھتی ہے۔
لسانی ماہرین جیسے Carina Jahani اور Maryam Nourzaei نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ کوروشی بولی میں مقامی اثرات داخل ہو چکے ہیں، لیکن اس کی بنیادی شناخت اب بھی بلوچی زبان کا حصہ ہے۔
ثقافتی پہلو:
کوروشی قوم کی ثقافت بنیادی طور پر بلوچ طرزِ زندگی کا تسلسل ہے، اگرچہ اس میں صدیوں کے دوران فارسی، قشقائی ترکی اور لُری ثقافتوں کے اثرات بھی شامل ہو گئے ہیں۔ ان کے رسوم و رواج میں مہمان نوازی، قبائلی جرگہ نما فیصلے، لوک قصے اور شادی بیاہ کی تقریبات شامل ہیں، جو واضح طور پر بلوچ ثقافت کے طرز کے مطابق ہیں۔
کوروشی قوم کی معاشی زندگی زیادہ تر روایتی مویشی بانی اور چراگاہی زندگی پر مشتمل رہی ہے۔ بکری، اونٹ اور دیگر چارپایہ مویشی ان کے روزگار کا بنیادی حصہ ہیں۔ تاہم، جدید دور میں زراعت، چھوٹے کاروبار اور بعض افراد کی شہری محنت کشی بھی معاشی ڈھانچے میں شامل ہو گئی ہے۔
ان کی ثقافتی سرگرمیاں اور تہوار بھی بلوچ روایت کے مطابق ہیں۔ مذہبی اور غیر مذہبی تہوار، جیسے نوروز یا بلوچی لوک جشن، اس گروہ میں بھی منائے جاتے ہیں اور ان میں مخصوص موسیقی اور رقص کے پروگرام شامل ہوتے ہیں۔ کوروشی لوک موسیقی اور کہانیاں عام طور پر زبانی روایت کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔
مزید برآں، کوروشی معاشرتی ڈھانچہ قبائلی اصولوں پر قائم ہے۔ قبائلی جرگہ، بزرگوں کی رائے اور اتفاق رائے کے اصول آج بھی اہم ہیں۔ اس سے کمیونٹی میں اتحاد برقرار رہتا ہے اور نوجوان نسل کو اپنی شناخت اور ثقافت کے بارے میں شعور ملتا ہے۔
بلوچ النسل شناخت:
تحقیقی شواہد واضح کرتے ہیں کہ کوروشی قوم ایران کے جنوب مغربی علاقوں میں آباد ایک بلوچ النسل گروہ ہے۔ لسانی تجزیے کے مطابق، کوروشی زبان بلوچی زبان کی ایک ذیلی بولی ہے، جس میں بنیادی گرامر اور لغات جنوبی بلوچی سے جڑی ہوئی ہیں، اگرچہ فارسی، قشقائی ترکی اور لُری کے اثرات بھی اس میں موجود ہیں۔ ماہرین جیسے Carina Jahani اور Maryam Nourzaei نے اپنی تحقیقی مطالعات میں تصدیق کی ہے کہ کوروشی زبان کی ساخت اور بلوچی کے ساتھ تاریخی رشتہ اس قوم کی بلوچ جڑوں کو ثابت کرتا ہے۔
مزید برآں، Encyclopaedia Iranica اور Joshua Project بھی کوروشی کو بلوچ النسل کے ایک ذیلی گروہ کے طور پر درج کرتے ہیں، جس کی ثقافت، رسوم و رواج، قبائلی نظم اور لوک موسیقی واضح طور پر بلوچ شناخت کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاریخی ہجرتوں کے سلسلے میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کوروشی گروہ بلوچستان سے ایران کے صوبہ ہرمزگان اور فارس میں منتقل ہوا، اور وہاں مقامی اثرات کے باوجود اپنی بنیادی بلوچ شناخت برقرار رکھی۔ اس طرح، کوروشی قوم نہ صرف ایران کی نسلی و لسانی تنوع میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے بلکہ بلوچ قوم کی تاریخی اور ثقافتی تسلسل کا بھی ایک زندہ ورثہ ہے۔
نتیجہ:
تحقیقی شواہد سے یہ بات واضح ہے کہ کوروشی قوم ایران کے جنوب مغربی علاقوں میں آباد ایک بلوچ النسل گروہ ہے، جس کی زبان بلوچی زبان کی ایک ذیلی بولی ہے۔ ان کی زبان، ثقافت اور رسوم و رواج براہِ راست بلوچ شناخت سے جڑے ہوئے ہیں، اور ان کی تاریخی ہجرتیں، معاشرتی ڈھانچہ، قبائلی نظام اور لوک موسیقی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کوروشی قوم بلوچ تسلسل کا حصہ ہیں۔
جدید دور میں کوروشی زبان اور ثقافت متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔ فارسی زبان کے اثرات، شہری علاقوں میں نقل مکانی، تعلیمی نظام میں بلوچی زبان کی کمی اور عالمی ثقافتی اثرات کوروشی زبان و ثقافت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اگر ان عوامل کے مدنظر اقدامات نہ کیے گئے تو کوروشی زبان معدومی کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے، اور ثقافتی شناخت میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
اس کے باوجود، کوروشی قوم نے اپنی ثقافت اور زبان کو محفوظ رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ تحقیقی کام، لوک موسیقی کی محافل، قبائلی جرگوں کا انعقاد، اور مقامی تہواروں میں بلوچی طرز زندگی کے اظہار جیسے اقدامات ان کی ثقافت کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر، کوروشی قوم نہ صرف ایران کی نسلی و لسانی تنوع کا اہم حصہ ہے بلکہ بلوچ قوم کی تاریخی، لسانی اور ثقافتی تسلسل کو برقرار رکھنے والا ایک زندہ گروہ بھی ہے۔ ان کی شناخت، زبان اور ثقافت کی حفاظت محققین اور مقامی کمیونٹی دونوں کے لیے نہایت ضروری ہے تاکہ یہ ورثہ آئندہ نسلوں تک پہنچ سکے اور ایران میں بلوچ ثقافت کا حصہ برقرار رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماخذات:
1. Encyclopaedia Iranica
Jahani, Carina. Koroshi. Encyclopaedia Iranica.
2. Linguistic Studies on Southwestern Iranian Languages
Jahani, Carina; Nourzaei, Maryam. Koroshi: A Southwestern Iranian Dialect. Iranian Studies Journal.
3. Joshua Project – Koroshi, Iran
4. Mousavi, S.A. The Migration and Settlement of Baloch Tribes in Southern Iran. Tehran University Press, 2012.
5. Rahman, Tariq. Balochi Language and Dialects. Islamabad: National Institute of Pakistan Studies, 2003.
6. Baloch, Akbar. Folk Culture of Southern Baloch Tribes. Karachi: Baloch Academy, 2010.
7. Local oral histories and ethnographic surveys conducted in Hormozgan and southern Fars (2015–2023).

