لسبیلہ(بیوروچیف ) امیر اہل سنت حضرت علامہ محمد الیاس عطارقادری دامت برکاتہم العالیہ نے کہا ہے کہ پر اثر وہ شخص ہوتا ہے جو بناوٹ نہ کرے، آج معاشرے میں اکثر لوگ خود کو نمایاں کرنے کیلئے بناوٹ اختیار کرتے ہیں، مگر بناوٹ حقیقت نہیں بن سکتی، انسان جیسا ہے ویسا ہی نظر آئے، یہی اصل تاثیر ہے۔ عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ میں ہونےو الے مدنی مذاکرے میں بذریعہ ویڈیو گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریاکار شخص چاہے عبادت میں کتنا ہی اضافہ کر لے، بروز قیامت اس کی حقیقت سب کے سامنے آجائے گی اور اسے رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان محشر میں ریاکار کو دھوکہ باز، مکار اور ریاکار کہہ کر پکارا جائے گا،لہٰذا شخصیت کو نمایاں کرنے کیلئے غیر ضروری تکلفات سے بچیں، سچ بولیں اور جھوٹ سے دور رہیں، پروردگار سچے بندے کو خود ہی مشہور فرما دیتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتا ہے اور جو شخص اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھ کر سادگی اختیار کرتا ہے، دکھاوے سے بچتا ہے اور بے جا تکلفات سے دور رہتا ہے تو اللہ پاک اس کی ذات کو پر اثر بنا دیتا ہے۔ امیر اہل سنت نے کہا کہ اگر کوئی شخص اللہ کی رضا کیلئے عمدہ لباس پہنتا ہے تو یہ بھی کار ثواب ہے،یاد رکھیں اللہ پاک جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے، پیارے آقا ﷺ جب مجلس میں تشریف لاتے تو مخصوص لباس زیب تن فرماتے ،عمدہ لباس پہننا جائز اور باعث ثواب ہے، لیکن اسے زندگی کا مقصد نہیں بنانا چاہئے، موقع کی مناسبت سے اچھا لباس پہنیں اور کبھی سادگی بھی اختیار کریں،البتہ بری نیت سے سادگی اختیار کرنا بھی بڑا گناہ ہے، اگر کوئی اس نیت سے سادہ لباس پہنے کہ لوگ اسے نیک سمجھیں گے تو ایسا شخص وبال کا شکار ہوگا۔ امیر اہل سنت نے کہا کہ سنتوں پر عمل کرنا زندگی میں مثبت تبدیلی لاتا ہے، جو گناہ انسان سے ماضی میں سرزد ہوئے ہوں، سنتوں کی برکت سے ان سے نجات مل جاتی ہے۔

