سانچ : جیل کہانی کے مصنف جاوید راہی،انسان دوستی، صحافت اور کہانی کا روشن نام

تحریر: محمد مظہررشید چودھری

صحافت اور ادب میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود بھلائے نہیں جاتے۔ اوکاڑہ پریس کلب کے سینئر صحافی، کالم نگار اور کہانی نویس جاوید راہی انہی شخصیات میں شامل تھے۔ ان کے انتقال کے بعد موومنٹ اگینسٹ ڈرگ ابیوز (ماڈا) اوکاڑہ رجسٹرڈ کے زیر اہتمام ماڈا آفس میں ایک تعزیتی ریفرنس ہوا۔ اس نشست کی صدارت راقم الحروف (محمد مظہر رشید چودھری) نے کی۔ شہر کے صحافی، ادیب، سماجی کارکن اور سیاسی نمائندے بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ ہر چہرے پر افسوس اور ہر دل میں جاوید راہی کی یاد رچی ہوئی تھی۔مرحوم سے میری پہلی ملاقات جون 1999 میں ہوئی، جب میں ’ماڈا‘اوکاڑہ کی آگاہی واک کے لیے شہر بھر کی صحافتی، مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات سے رابطے کر رہا تھا۔ انہی ملاقاتوں میں پہلی بار جاوید راہی سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان کا انداز ملنسار اور گفتگو میں وقار تھا۔ چند ہی نشستوں میں یہ محسوس ہوا کہ ان کے ساتھ تعلق محض رسمی نہیں رہے گا۔ بعد میں یہ تعلق احترام اور خلوص پر استوار ایک مضبوط رشتہ بن گیا۔’ماڈا‘ کے زیر اہتمام میڈیکل کیمپس ہوں یا آگاہی پروگرام، جاوید راہی ہر مقام پر بطور سینئر صحافی موجود ہوتے۔ وہ سماجی کاموں کو محض خبر کا مواد نہیں سمجھتے تھے، بلکہ دل سے ان اقدامات کو سراہتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے۔ ان کے رویے میں نرمی اور لہجے میں شفقت تھی۔ نئی نسل کے لکھاریوں کو وہ رہنمائی بھی دیتے اور ان کی کوششوں کو سراہتے بھی۔جاوید راہی کی اصل پہچان ان کی سلسلہ وار تحریریں تھیں جن میں سب سے زیادہ مقبولیت ’جیل کہانی‘ کو ملی۔ یہ سیاسی شخصیات کی کہانیاں نہیں تھیں بلکہ ان عام لوگوں کی بازگفت تھیں جو جرائم کے باعث جیلوں میں پہنچے۔ ان کہانیوں میں اصل واقعات تھے اور اصل کردار۔ مجرموں سے سچی باتیں نکلوانا ایک فن ہے،

اور جاوید راہی اس فن کے ماہر تھے۔ ان کی تحریر میں جھوٹ کا گمان نہ آتا۔ کئی واقعات ایسے ہیں جنہیں پڑھ کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ ہر کہانی سماج کے تلخ رویوں، ناانصافی اور عدم برداشت کے انجام کی کھلی تصویر سامنے رکھتی ہے۔ان کی تحریر کے ایک ایک لفظ میں نہ صرف مہارت جھلکتی ہے بلکہ ایک ایسا کرب بھی محسوس ہوتا ہے جو صرف وہی لکھ سکتا ہے جو معاشرتی دکھوں سے جڑا ہوا ہو۔ وہ محب وطن تھے اور سچے ادیب۔ وہ جانتے تھے کہ معاشرے میں کیا ہو رہا ہے اور انجام کس طرف جا رہا ہے۔ پاکستان کی جیلوں میں مجرموں کی تربیت کیسے ہو رہی ہے، انہیں کس ماحول میں رکھا جاتا ہے، یہ سب کچھ انہوں نے اپنی کہانیوں میں بڑی سادگی اور غیر معمولی سمجھ بوجھ کے ساتھ قید کیا۔عام طور پر لوگ بڑے لوگوں کی داستانیں لکھ کر بڑا دکھائی دینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جاوید راہی نے جیلوں میں بند عام لوگوں کی زندگیوں کو موضوع بنایا۔ یہ انسان دوستی کا وہ اظہار ہے جو بہت کم ادیبوں میں ملتا ہے۔ انہوں نے ان کرداروں کی کہانیاں لکھیں جنہیں معاشرہ اکثر بھلا دیتا ہے۔ انہی کہانیوں کی بدولت قارئین کو احساس ہوا کہ ہر مجرم کے پیچھے ایک تلخ سماجی حقیقت، ایک محرومی یا ایک غلط فیصلہ ہوتا ہے جسے سمجھے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔جاوید راہی کی شخصیت کے دوسرے پہلو بھی اتنے ہی قابل ذکر ہیں۔ میں اور میری چھوٹی بہن مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ہائی کورٹ جہاں بھی موجود ہوتے،جاوید راہی ہمیشہ خود چل کر آتے، سلام دعا کرتے اور خیرخواہی کا اظہار کرتے۔ ان کے اس رویے نے ان کے کردار کو مزید نمایاں کر دیا۔ وہ تعلقات کو عزت اور محبت سے نبھاتے تھے۔تعزیتی ریفرنس میں مقررین نے مرحوم کی صحافت، ادبی خدمات اور کردار کی تعریف کی۔ مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ہائی کورٹ،سینئر ٹیچر مس تزئین اعجاز، صدرانجمن قصاباں حاجی سرفراز احمد گوگا،ڈسٹرکٹ آفیسر انڈسٹری پرائس ویٹس اینڈ میرز خالد جاوید بھٹی، مرحوم کے بیٹوں اسسٹنٹ ڈائریکٹر طارق جاوید، صحافی آصف جاوید سمیت کئی اہم شخصیات نے راقم الحروف سے گفتگو میں مرحوم کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کیے۔ ان سب نے جاوید راہی کی صحافتی مہارت، سچائی، انسان دوستی اور نرم خوئی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاوید راہی کا قلم حالات کی سچائی بیان کرتا تھا اور وہ پیشہ ورانہ ذمہ داری کو ہمیشہ وقار کے ساتھ نبھاتے رہے۔ ان کی شخصیت اور خدمات کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ سبھی کا کہنا تھا کہ جاوید راہی نے قلم کے ساتھ بے وفائی نہیں کی۔ وہ سچ لکھتے تھے اور سچ کو ذمہ داری کے ساتھ پیش کرتے تھے۔مرحوم 8 دسمبر 2025 کو انتقال کر گئے۔ وہ تین بیٹے، پانچ بیٹیاں اور تین بیوائیں چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کے جانے سے شہر نے ایک معتبر آواز کھو دی۔ ان کا کام ان کے بعد بھی دیر تک پڑھا جاتا رہے گا۔تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔ فضا گمبھیر تھی۔ یہ احساس واضح تھا کہ جاوید راہی جیسی شخصیات بار بار پیدا نہیں ہوتیں۔ وہ اپنے قلم، اپنے لہجے اور اپنے کردار کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے،

اپنا تبصرہ بھیجیں