تحریر: اقرا منیر
شہرِ قائد میں جرائم کی نئی لہر
کراچی، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، اب بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کی وجہ سے خوف و اضطراب کا شکار ہے۔ موبائل فون چھیننے سے لے کر موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی چوری تک، جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ شہریوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر لوٹ مار کے درجنوں واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، جبکہ بہت سے کیسز تو خوف یا بے اعتمادی کی وجہ سے درج ہی نہیں ہوتے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اب شام ڈھلتے ہی بلاوجہ گھر سے نکلنے سے گھبراتے ہیں۔ سڑکوں پر تیز رفتار موٹر سائیکلوں پر گھومتے مسلح افراد لمحوں میں لوگوں سے موبائل، نقدی اور دیگر قیمتی اشیا چھین کر فرار ہو جاتے ہیں۔ کئی جگہوں پر مزاحمت پر فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں، جو نہ صرف املاک بلکہ قیمتی انسانی جانوں کے لیے بھی بڑا خطرہ ہیں۔
اگرچہ پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں، مگر شہریوں کی بڑی تعداد ان دعوؤں سے مطمئن نظر نہیں آتی۔ گشت میں کمی، شفاف تفتیش کا فقدان اور ملزمان کا بار بار گرفتار ہو کر آزاد ہوجانا عوام کی بے اعتمادی میں اضافے کا باعث ہے۔ کئی شہریوں نے شکایت کی کہ واردات کے بعد ایف آئی آر درج کروانا بھی ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی نے بھی جرائم میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایسے افراد جو پہلے معمولی کام کر کے روزی کماتے تھے، اب مالی دباؤ کے باعث غلط راستے اختیار کرنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی جرائم پیشہ گروہوں کا حصہ بن رہی ہے۔
اسٹریٹ کرائم کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ماہرین شہریوں کو خود بھی زیادہ محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ غیر ضروری قیمتی اشیا ساتھ نہ رکھنا، سنسان علاقوں سے بچنا، اور ایمرجنسی نمبرز ہاتھ میں رکھنا ایسی چھوٹی احتیاطیں ہیں جو بعض صورتحال میں بڑی پریشانی سے بچا سکتی ہیں۔
بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ پولیس کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے، اور سڑکوں پر گشت بڑھایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالتوں میں تیز رفتار انصاف اور سخت سزاؤں کا نظام بھی مجرموں کے حوصلے پست کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
کراچی جیسے بڑے شہر کے امن کے لیے حکومت، پولیس اور عوام تینوں کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔
کراچی کی سڑکیں اس وقت خوف اور غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہیں، مگر مؤثر حکمتِ عملی اور اجتماعی کوششیں اس صورتحال کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ امید ہے کہ وہ دن جلد آئے جب شہرِ قائد دوبارہ سکون، امن اور روشنیوں کی پہچان بنے۔

