بھارتی فلم دھریندرکے پروڈیوسر اور اداکاروں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی درخواست،ایس ایچ او درخشاں سے رپورٹ طلب

کراچی (این این آئی)کراچی کی مقامی عدالت نے بھارتی فلم دھریندر میں پیپلز پارٹی کی ریلی اور شہید بینظیر بھٹو کی تصاویر دکھانے سے متعلق فلم کے رائٹر، پروڈیوسر اور اداکاروں کیخلاف مقدمہ کے اندراج کے حوالے سے درخواست پر ایس ایچ او درخشاں سے رپورٹ طلب کرلی۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت کے روبرو بھارتی فلم دھریندر میں پیپلز پارٹی کی ریلی اور شہید بینظیر بھٹو کی تصاویر دکھانے سے متعلق فلم کے رائٹر، پروڈیوسر اور اداکاروں کیخلاف مقدمہ اندراج کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ایس ایچ او درخشاں سے رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے 16 دسمبر تک رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیدیا۔ پی پی کارکن عامر کھوسو نے دائر درخواست میں مقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے فلم دھرندھر کا آفیشل ٹریلر سوشل میڈیا پر دیکھا جس میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی تصاویر، پارٹی پرچم اور ریلیوں کے مناظر بلا اجازت شامل کیے گئے۔ ٹریلر میں پیپلز پارٹی کو دہشتگردوں کی حمایت کرنے والی جماعت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو جھوٹ، بد نیتی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا ہے۔ فلم کی تشہیری مہم میں کراچی، خصوصا لیاری کو ٹیررسٹ وار زون قرار دیا گیا ہے جو کہ شہر اور اس کے باسیوں کیخلاف انتہائی اشتعال انگیز، بے بنیاد اور نقصان دہ تاثر ہے، جس سے پاکستان کی ساکھ کو عالمی سطح پر نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ فلم کا ٹریلر عوام میں پیپلز پارٹی، اس کی قیادت اور کارکنوں کیخلاف نفرت، حقارت اور اشتعال پھیلانے کا باعث بن رہا ہے، جو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 499، 500، 502، 504، 505، 153-A اور 109 کے تحت قابلِ دست اندازیِ پولیس جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ پولیس اسٹیشن درخشاں کے ایس ایچ او کو تحریری شکایت جمع کرائی مگر پولیس نے نہ تو مقدمہ درج کیا اور نہ ہی کوئی قانونی کارروائی کی، جس کے باعث وہ عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پولیس کو فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے، ایس ایس پی ساوتھ کو شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی نگرانی کا حکم دیا جائے جبکہ فلم سے متعلق تمام ذمہ داروں کو تفتیش میں نامزد کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں