کوئٹہ /اسلام آباد(این این آئی)وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل خان کی زیرِ صدارت چمن ضلع کے سیاسی رہنماؤں، تاجروں اور مقامی کمیونٹی کے نمائندوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں پاک۔افغان سرحدی گزرگاہ چمن پر بار بار اور طویل بندش کے باعث پیدا ہونے والے مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے بتایا کہ سرحدی بندشوں کے نتیجے میں تاجروں کو شدید مالی نقصان، قابلِ خراب اشیاء کی برآمدات میں رکاوٹ، بے روزگاری میں اضافہ اور سرحد پار تجارت پر انحصار کرنے والی مقامی آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ غیر یقینی سرحدی انتظامات نے کاروباری اعتماد اور روزمرہ معاشی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔رانا احسان افضل خان نے شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چمن کے تاجر برادری اور مقامی آبادی کو درپیش مسائل کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ان معاملات کو متعلقہ قومی اور دوطرفہ فورمز پر اٹھایا جائے گا تاکہ پائیدار اور دیرپا حل تلاش کیے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے موثر، شفاف اور قابلِ پیش گوئی سرحدی انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو سکیورٹی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ قانونی تجارت کو بھی فروغ دے۔وزیرِاعظم کے کوآرڈینیٹر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت سرحدی تجارت کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے گی تاکہ مقامی کمیونٹیز کے روزگار کا تحفظ ہو اور وہ ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں

