لاہور (این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کے پراپرٹی سے متعلق بنائے گئے قانون پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی آنر شپ آرڈیننس کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ایڈووکیٹ قمرالزماں اعوان سمیت دیگر کی جانب سے درخواستیں دائرکی گئی تھیں۔درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب حکومت نے نیا قانون بنایا ہے جس کے تحت ڈی سی اے سی کو پراپرٹی تنازعات سے متعلق اختیار دیا ہے، فیصل آباد میں پراپرٹی 50سال لیز پر لی تھی، کیس سپریم کورٹ میں زیرالتوا تھا، دوسرے فریق نے نئے قانون کے تحت ڈی سی کو درخواست دی، ڈی سی فیصل آباد نے درخواست پر پراپرٹی سیل کر دی، استدعا ہے کہ عدالت ڈی سی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسارکیا کہ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے، یہ پٹواری اور اے سی کو جج بننے کا شوق چڑھا ہے، ایک معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہے تو پٹواری کیسے کارروائی کرسکتا ہے، کیا پاکستان اب جنگل بن گیا ہے، جو پٹواری اور تحصیل دار جعلی دستاویزات تیار کرتا ہے وہی جائیدادوں کا فیصلہ کرے گا؟۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہ ظلم نہیں ہونے دیں گے، اے سی اور پٹواری کو جج بننے کا اتنا شوق ہے تو امتحان دے کر سسٹم کا حصہ بنیں، آپ کا پیرا کیا کر رہا ہے کیا اب پیرا لوگوں کو ڈگریاں دے گا، یہ قانون کس نے بنایا ہے؟ کیا کسی قانونی دماغ سے مشاورت کی؟ آپ نے ٹریبونلز بنائے مگر وہ بھی صرف آنکھوں کا دھوکہ ہے۔عدالت نے پنجاب حکومت کے پراپرٹی سے متعلق بنائے گئے قانون پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 6درخواستوں پر اعترضات ختم کر دیئے۔بعدازاں عدالت نے درخواستوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 22دسمبر کو جواب طلب کر لیا۔

