کوئٹہ (رپورٹر) نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر اسلم بلوچ نے ہے کہ جب بنگالی جئے بنگال کا نعرہ لگارہے تھے اس وقت بلوچ قیادت اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیئے سخت ترین مطالبات بھی منواسکتا تھا لیکن 1973کے آہین میں قوموں کے ساحل وسائل پر اختیار کو تسلیم کرکے قوموں کو کسی حد تک مطمئن کیا گیا اور مظلوم طبقات کو بھی امید کی یہ کرن نظر آئی کہ بنیادی انسانی حقوق تسلیم کیئے جاہینگے اور ان کی آواز کو نہیں دبایا جاہیگا ، گوکہ1973کا آہین بنانے میں بلوچ قیادت کا بہت بڑا ہاتھ تھا لیکن ووت کے ساتھ ساتھ یہ محسوس ہوا کہ 1973کا آہین مظلوم طبقات اور محکوم اقوام کو مطمئن نہیں کررہا تو اٹھارہویں آہینی ترمیم کے ذریعے کمیوں کو پورا کی گئی جس میں میر حاصل خان بزنجو ، ڈاکٹر مالک بلوچ ، رضا ربانی سمیت مثبت سوچ کے حامل پارلیمنٹیرینز کا کلیدی کردار رہا، لیکن اٹھارہویں ترمیم پر عملدرامد کے بجائے اس کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں اگر اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑنے کو کوشش کی گئی تو محکوم قوموں اور مظلوم طبقات کےلیئے نئے عمرانی معائدہ کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہے گا جس میں کوئی قباعت نہیں کوئی نیا پنڈورا بکس کھلنے سے پہلے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جائے لاپتہ افراد کے مسئلے کو انسانی مسئلہ اور بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی مسئلہ تصور کرتے ہوئے گفت وشنید سے حل کیا جائے تمام ادارے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے تجاوزات بند کریں ، اسلم بلوچ نے واضع کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں محکوم اقوام اور مظلوم طبقات کو نئے سرے سے صف بندی کرتے ہوئے مضبوط فرنٹ بنانے کی ضرورت ہے بصورت دیگر مطلق العنانیت ، انارکی پورے معاشرے پر آج کی صورتحال سے بھی بدتر شکل میں حاوی ہوگا۔

