کوئٹہ (این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پانچ برس تک بند رہنے کے بعد جامشورو پاور پلانٹ کی دوبارہ بحالی کو ملک کے توانائی کے بحران میں کمی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی مداخلت کے بعد فعال کیا گیا، جس کا مقصد غیر استعمال شدہ پیداواری صلاحیت کو قومی گرڈ میں واپس لانا اور توانائی کے شعبے میں مالی دباؤ کم کرنا ہے۔ جامشورو پاور پلانٹ کی بحالی سے بجلی کے شعبے میں اربوں روپے سالانہ کی بچت متوقع ہے۔ یہ بچت طویل المدتی اور مجموعی اصلاحات کے تناظر میں دیکھی جانی چاہیے نہ کہ فوری اور براہِ راست مالی فائدے کے طور پر پلانٹ چیرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ بحالی سے مقامی گیس کے بہتر استعمال، مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی، اور غیر فعال پاور پلانٹس پر دی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹس میں کمی متوقع ہے۔ یہی عوامل ہیں جو ماضی میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے اور مالی خسارے میں اضافے کا باعث بنتے رہے ہیں۔ اگرچہ جامشورو پاور پلانٹ کی بحالی ایک مثبت قدم ہے، لیکن توانائی کے شعبے میں حقیقی اور پائیدار بچت اسی وقت ممکن ہو گی جب پیداواری صلاحیت، ترسیلی نظام اور پالیسی اصلاحات کو یکجا کر کے نافذ کیا جائے۔ محض ایک منصوبے کی بحالی سے اتنے بڑے پیمانے پر مالی فوائد حاصل ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔تاہم، اس پیش رفت کو توانائی شعبے میں اعتماد کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور پالیسی جمود کے خاتمے کی جانب ایک اہم علامتی قدم ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔

