کوئٹہ (رپورٹر) حکمران جماعتوں کی جانب سے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کا ملتوی کیا جانا آئینی تقاضوں کی صریحا خلاف ورزی ہے عبدالرشید غلامانی سابقہ لیبر سیکریٹری نیشنل پارٹی خضدار
حکمران جماعتوں کی جانب سے کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کا ملتوی کیا جانا آئینی تقاضوں کی صریحا خلاف ورزی ہے
بلکہ یہ عمل جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں، عوامی نمائندوں اور بالخصوص کوئٹہ کے باشعور عوام کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔ بلدیاتی نظام کسی بھی جمہوری ریاست کی بنیاد ہوتا ہے، جہاں سے عوامی مسائل کا فوری اور مؤثر حل ممکن بنایا جاتا ہے، مگر افسوس کہ بلوچستان کے دارالحکومت میں یہی بنیادی جمہوری حق مسلسل سلب کیا جا رہا ہے۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بلدیاتی انتخابات سے فرار دراصل عوامی احتساب سے فرار ہے۔ حکمران جماعتیں اس خوف میں مبتلا نظر آتی ہیں کہ اگر اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل ہوئے تو ان کی ناقص کارکردگی اور عوام دشمن پالیسیاں بے نقاب ہو جائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی سیکیورٹی کا بہانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی انتظامی کمزوریوں کا، حالانکہ اصل مسئلہ سیاسی عدمِ دلچسپی اور اقتدار کو چند ہاتھوں تک محدود رکھنے کی خواہش ہے۔
کوئٹہ جیسے بڑے اور حساس شہر میں بلدیاتی اداروں کی عدم موجودگی نے مسائل کو گھمبیر بنا دیا ہے۔ صفائی، پانی، صحت، تعلیم، ٹریفک اور بنیادی شہری سہولیات بدترین زبوں حالی کا شکار ہیں، مگر کوئی ایسا منتخب فورم موجود نہیں جو عوام کی آواز بن سکے۔ بیوروکریسی کے ذریعے شہر چلانے کا تجربہ بارہا ناکام ثابت ہو چکا ہے، اس کے باوجود منتخب نمائندوں سے اختیارات چھین کر غیر منتخب عناصر کے سپرد کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
جمہوریت پسند جماعتیں مسلسل یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140-A کے مطابق بااختیار بلدیاتی نظام فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ یہ رویہ اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ موجودہ حکمران طبقہ جمہوریت کو صرف اقتدار کے حصول کا ذریعہ سمجھتا ہے، عوام کی شراکت اور نچلی سطح پر فیصلہ سازی پر یقین نہیں رکھتا۔
اگر بلدیاتی انتخابات مزید ملتوی کرنا نہ صرف سیاسی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آئیں گے بلکہ عوام کا جمہوری عمل سے اعتماد بھی متزلزل ہو جائے گا۔ کوئٹہ کے عوام اب باشعور ہیں اور وہ اپنے حقِ رائے دہی اور حقِ نمائندگی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکمران جماعتیں ضد، خوف اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر بلدیاتی انتخابات تو مقررہ تاریخ پر کریں، تاکہ جمہوریت کو مضبوط اور عوام کو بااختیار بنایا جا سکے۔ بصورت دیگر تاریخ گواہ رہے گی کہ جمہوریت کو کمزور کرنے والوں نے دراصل ریاستی ڈھانچے کو ہی کھوکھلا

