چین اور پاکستان کے درمیان فنی تعلیم کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

بیجنگ (این این آئی)چین اور پاکستانکے درمیان تعاون کی متعدد دستاویزات پر دستخط اور فنی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ پروگراموں کا آغاز ہو گیا، جن کا مقصد صنعتی ضروریات کو ہنر کی تربیت کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔ ان معاہدوں کا اعلان بیجنگ میں منعقدہ چین اور پاکستان کے درمیان فنی تعلیم میں صنعت اور تعلیم کے انضمام پر بین الاقوامی تعاون و تبادلے کے سیمینار کے دوران کیا گیا۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق تقریب میں مجموعی طور پر 21 نکات پر دستخط کیے گئے جبکہ پانچ تعاون پلیٹ فارمز کا افتتاح کیا گیا، جن میں پیشہ ورانہ معیارات، مشترکہ تدریسی وسائل، اساتذہ اور نصاب کی تیاری، اور صنعت سے منسلک تربیتی مراکز شامل ہیں۔ پیشہ ورانہ معیارات اور بین الاقوامی تدریسی وسائل کے ڈیٹا بیس کے تحت، فریقین نے مختلف شعبوں میں معیارات اور وسائل تیار کرنے پر اتفاق کیا، جن میں کْلنری آرٹس اور نیوٹریشن، فیشن اور ملبوسات ڈیزائن، فوڈ انسپیکشن اور ٹیسٹنگ، سپلائی چین آپریشن، فائن کیمیکل ٹیکنالوجی، جدید زرعی پیداوار، اور انفارمیشن سیکیورٹی ٹیکنالوجی ایپلی کیشنز شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں پاکستان کے ادارے، جن میں نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) اور صوبائی فنی تعلیم و تربیت کے ادارے شامل ہیں۔ووکیشنل ایجوکیشن کے دوسرے مرحلے کے تحت برانڈ گوئنگ گلوبل معاہدوں کے ذریعے ترجیحی شعبوں سے ہم آہنگ ورکشاپس اور کالجز قائم کیے جائیں گے۔ ان میں کْلنری تربیت کے لیے سائیشانگ ورکشاپ، نیو انرجی وہیکل ٹیکنالوجی کے لیے چین–پاکستان آٹوموٹیو اوورسیز ورکشاپ (جس میں ہونان آٹوموٹیو انجینئرنگ ووکیشنل یونیورسٹی،این اے وی ٹی ٹی سی اور ایم جی جے ڈبلیو آٹوموبائل پاکستان لمیٹڈ شامل ہیں)، اور ایچ وی اے سی تربیت کے لیے کائی وو ورکشاپ شامل ہیں، جس میں ہیلونگ جیانگ کالج آف کنسٹرکشن اور کارپوریٹ شراکت دار شریک ہیں۔ قلیل مدتی تربیت اور ڈیجیٹل کورسز کے لیے پی وی ٹی سی، آئی ٹی ایم سی اور یو این آئی سروسز انٹرنیشنل کے درمیان سہ فریقی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ یہ تعاون تصوری بحثوں سے آگے بڑھ کر عملی پیش رفت کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ فنی تعلیم میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ نوجوانوں کے خوابوں کو ملازمتوں، مہارتوں اور روزگار میں تبدیل کیا جا سکے۔این اے وی ٹی ٹی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد عامر جان نے سی پیک اور بی آر آئی منصوبوں اور صنعتی زونز کے لیے قابلِ توسیع افرادی قوت کی تیاری پر زور دیا اور کہا کہ تعاون کو روایتی ہنر سے آگے بڑھا کر مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، توانائی اور جدید خدمات کے شعبوں تک وسعت دی جا رہی ہے۔آئی ٹی ایم سی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے میکس ما نے کہا کہ نالج، ہنر اور کامیابیوں کے تبادلے کے ذریعے کمپنی کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کو بامعنی فوائد پہنچانا ہے، تاکہ تعلیم کے ذریعے ان کے مستقبل کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحیح کام کرنے چاہے بیشک وہ مشکل ہی کیوں نہ ہوں کے اصول پر کمپنی کا پختہ عزم نوجوانوں کو اپنے خوابوں کی تکمیل میں مدد دینے کے سفر میں اسے ثابت قدم رکھے ہوئے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں