فارم ورس: دو بھائیوں کی بنائی پاکستانی گیم جو روزانہ 11 کروڑ افراد کھیلتے ہیں

جب اس سال پاکستان میں بڑے پیمانے پر سیلاب آیا، تو اندازہ ہوا کہ ہماری خوراک کا نظام کتنا کمزور ہے۔ اسی ضرورت کو دیکھتے ہوئے دو بھائیوں، نبہان اور کنان خان نے جو NiK&KIN ڈیزائن سٹوڈیوز کے بانی ہیں، فارم ورس کے نام سے ایک حل نکالا۔

روبلوکس کے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ تقریباً 11 کروڑ سے زائد لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ایشیا سے ہے اور تقریباً نصف تعداد خواتین کی ہے۔ فارم ورس اسی بڑے پلیٹ فارم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مشن کو دنیا بھر میں پھیلا رہی ہے۔

کمپنی کے بیان کے مطابق ان بھائیوں نے پہلے بھی صحت اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے کئی کام کیے ہیں، جس میں عوامی صحت کی مشہور گیم STOP the SPREAD. جو کوویڈ 19 پر دنیا کی پہلی گیم تھی۔ اردو اور انگریزی زبان میں کام کرنے والا democratisation ٹول National AI Policy GPT، اورTECH desiNATION PAKISTAN شامل ہیں۔ یہ تمام کام ٹیکنالوجی کو سماجی بھلائی کے لیے استعمال کرنے کے ان کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔

فارم ورس کیا ہے؟

یہ مشہور گیمنگ پلیٹ فارم روبلوکس پر ایک ایسی گیم ہے، جسے ’گیمز فار گڈ‘ یعنی  سماجی اثر ڈالنے والے گیمز میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ فارم ورس کا مشن چھوٹے پیمانے پر کاشت کاری اور کچن گارڈننگ کو فروغ دینا ہے۔

اس گیم میں آپ ورچوئل (ڈیجیٹل) فارمنگ یعنی کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے گھروں کی چھتوں یا چھوٹے صحنوں میں سبزیاں اگانا سیکھیں تاکہ مہنگائی اور خوراک کی کمی کا مقابلہ کیا جا سکے۔

نبہان اور کنان نے خود اپنی چھت پر سبزیاں اگا کر یہ تجربہ کیا کہ شہروں میں بھی تھوڑی سی جگہ پر خوراک یا سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں۔ اسی تجربے کو انہوں نے گیم کی شکل دے دی تاکہ نوجوان، خواتین اور بچے کھیل ہی کھیل میں خود کفیل ہونا سیکھیں۔

فارم ورس اقوامِ متحدہ کے اہم اہداف کو سامنے رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ جن میں بھوک کا خاتمہ، غربت کا خاتمہ، معیاری تعلیم اور ماحولیاتی تحفظ شامل ہیں۔ ان کا وژن یہ ہے کہ لوگوں، خصوصاً نوجوانوں، خواتین اور بچوں کو خود اعتمادی دی جائے تاکہ وہ گھروں میں باغیچہ بنا کر اپنی خوراک خود پیدا کر سکیں۔ فارم ورس ایک ورچوئل ٹریننگ گراؤنڈ کے طور پر کام کرتا ہے، جہاں کھلاڑیوں کو کھیتی باڑی اور کچن گارڈننگ کے متعلق مختلف مہارتیں سکھائی جاتی ہیں۔

دھیمی گیم: صبر کا پھل میٹھا ہے

کسی بھی سماجی مشن والی گیم کے کامیاب ہونے کے لیے اس کا دلچسپ ہونا ضروری ہے۔ فارم ورس کھلاڑیوں کو اپنی بہترین ڈیزائننگ اور مثبت کمیونٹی کے ذریعے جوڑتی ہے۔ زمین حاصل کرنے کے بعد کھلاڑی بیج بونے، جانور پالنے اور ورچوئل مارکیٹ میں سامان بیچ کر اپنا فارم بڑھانے جیسے فیصلے کرتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس گیم کی سب سے منفرد بات اس کی فطری رفتار ہے۔ عام ڈیجیٹل گیمز کے برعکس، فارم ورس میں فصلیں بالکل اصلی دنیا کے وقت کے مطابق اگتی ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ آپ کے بیج بونے کے بعد پودے تب بھی بڑھتے رہتے ہیں جب آپ گیم بند کر کے اپنی اصل زندگی کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی غیر موجودگی میں بھی بڑھتے رہتے ہیں۔ یہ دھیمی رفتار دانستہ طور پر رکھی گئی ہے تاکہ کھلاڑیوں میں صبر، مستقل مزاجی اور بہتر منصوبہ بندی کی عادت پیدا ہو۔

صرف یہی نہیں، فارم ورس آپ کو ایک مہذب کمیونٹی کا حصہ بناتی ہے۔ یہاں پھول خریدنے اور دوسروں کو تحفے میں دینے جیسے فیچرز شامل کیے گئے ہیں تاکہ انٹرنیٹ پر پھیلی منفی سوچ کا مقابلہ کیا جا سکے اور کھلاڑیوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت اور ہمدردی پیدا ہو۔

اردو زبان کی حامل روبلوکس پر پہلی گیمز میں سے ایک

نبہان اور کنان خان کی اولین ترجیح یہ تھی کہ پاکستان کے وہ بچے اور نوجوان جو انگریزی نہیں سمجھ سکتے، انہیں بھی اس گیم کو کھیل کر سیکھنے کا موقع ملے کیونکہ روبلوکس پر زیادہ تر مواد انگریزی میں ہوتا ہے۔

نبہان نے اس مقصد کے لیے آنے والی تکنیکی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا: ’ہم نے سوچا کہ چلو، کوئی اور راستہ نکالتے ہیں اور ہم ایک ایسا کوڈنگ سکرپٹ تیار کریں گے جو حقیقت میں گیم کی تمام ہدایات، معلومات اور خصوصیات کو اردو میں بدل دے گا۔‘

چنانچہ انہوں نے گیم میں ایک ایسا نظام بنایا جو صرف ایک کلک پر تمام انگلش تحریروں کو اردو میں بدل دیتا ہے۔ فارم ورس دنیا کے ان پہلے روبلوکس گیمز میں سے ایک ہے جو مکمل طور پر اردو زبان کو سپورٹ کرتی ہے۔ اس سے نہ صرف کھیل آسان ہو جاتا ہے بلکہ کھلاڑیوں کو انگریزی کے نئے الفاظ سیکھنے میں بھی مدد ملتی ہے، جو والدین کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔

ڈیجیٹل نیکی

گیم میں جمع ہونے والے عطیات براہ راست فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیے جائیں گے، تاکہ ضرورت مند لوگوں کو وہ ضروری اوزار، ہنر اور مہارتیں فراہم کی جا سکیں جو گیم میں دکھائے گئے ہیں اور جن کی مدد سے وہ اپنی خوراک خود پیدا کر کے خود کفیل بن سکیں۔ اس طرح کھلاڑی صرف گیم نہیں کھیلتے بلکہ عملی طور پر انسانیت کی مدد کرتے ہیں۔

ورلڈ بینک اور ایف اے ڈبلیو کے ساتھ اشتراک

اس گیم کو عالمی سطح پر لے جانے کے لیے ڈیزائنرز ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے ڈبلیو جیسے بڑے اداروں سے رابطے کر رہے ہیں۔ کنان کا کہنا ہے کہ: ’ہم نے اس گیم پر اپنا وقت اور توانائی لگائی ہے، اب آپ کے تعاون سے ہم ان بچوں کو ضروری ہنر فراہم کر سکتے ہیں۔ ہم نے اپنا کردار ادا کر دیا ہے، اب آپ ایف اے ڈبلیو کھیل کر اور اسے سپورٹ کر کے اپنا حصہ ڈالیں۔‘

گیم کے اندر وسائل کو استعمال کرنے کا طریقہ ہمیں حقیقت میں فائدہ پہنچانے والی عادتیں سکھاتا ہے، جیسے بارش کے پانی کو بچانا اور زمین کا صحیح استعمال کرنا۔ یہ گیم ماحولیاتی تحفظ کے وہ طریقے سکھاتی ہے جنہیں ہم اپنی اصل زندگی میں بھی اپنا سکتے ہیں۔ فارم ورس اقوامِ متحدہ کے اہم اہداف (SDGs) کو پورا کرنے کے لیے ایک تعلیمی آلے کا کام کرتی ہے، جس کا مقصد بھوک کا خاتمہ، غربت میں کمی اور موسم کی تبدیلیوں سے نمٹنا ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ فارم ورس کے ذریعے معاشرے پر پڑنے والے مثبت اثرات کو ناپا جا سکے اور نیکی کے کاموں کے لیے ایک نیا معیار قائم کیا جا سکے۔

ذہنی صحت اور ڈیجیٹل سکون

ٹیکنالوجی کے علاوہ فارم ورس ذہنی صحت پر بھی توجہ دیتی ہے۔ گیم کی دھیمی رفتار اور باغبانی کا تصور دورِ حاضر کی تیز رفتار زندگی کے تناؤ سے نجات دلاتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ باغبانی کی سرگرمیوں میں مصروف ہونا انسان کو پرسکون کرتا ہے۔ فارم ورس کھلاڑیوں کو اس کا محفوظ موقع فراہم کرتی ہے۔ تعلیمی ادارے بھی اس گیم کو مفت اپنا سکتے ہیں تاکہ بچوں کو ماحول دوستی کا سبق عملی طور پر دیا جا سکے۔

فارم ورس اب روبلوکس پر بالکل مفت دستیاب ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں