افغان وزیر صحت کا دورہ انڈیا: ادویات، علاج کی فراہمی پر گفتگو

افغانستان میں طالبان وزرا ایک ایک کر کے آج کل انڈیا کے دورے کر رہے ہیں اور تازہ دورہ وزیر صحت نے کیا ہے جس میں حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان معیاری ادویات کی درآمد اور کینسر کے علاج میں تعاون پر گفتگو ہوئی۔

باختر نیوز کے مطابق افغانستان کے وزیرِ صحتِ عامہ مولوی نورجلال جلالی نے انڈیا کے سرکاری دورے کے دوران میزبان وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جگت پرکاش ندا سے ملاقات کی۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارت سرحد کی بندش کی وجہ سے دو ماہ سے بند ہے۔ افغانستان کا ماضی میں پاکستان پر ادویات اور علاج کے سلسلے میں انحصار کافی بڑھا تھا۔

تاہم گذشتہ دنوں افغان حکام نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں مبینہ طور پر پاکستان سے آنے والی جعلی ادویات کی شناخت کی گئی تھی۔

سب سے پہلے انڈیا اور افغان طالبان میں برف اس وقت بگھلی جب طالبان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے انڈیا کا دورہ کیا۔ اس کے بعد طالبان کے وزیر تجارت الحاج نو الدین عزیزی بھی انڈیا گئے۔

وزارتِ صحتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں فریقین نے صحت کے شعبے میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، طبی عملے کے مابین تجربات کے تبادلے، افغان طبی عملے کی استعداد بڑھانے، افغانستان کو معیاری ادویات کی فراہمی، کینسر کے علاج کے لیے ادویات اور استعداد سازی میں تعاون، افغان مریضوں کے لیے ویزا کے عمل میں سہولت، بھارت میں علاج کی سہولیات، افغانستان کے طبی مراکز کو جدید آلات سے لیس کرنے اور دیگر متعلقہ امور پر گفتگو ہوئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مولوی نورجلال جلالی نے صحت کے شعبے میں انڈیا کے حالیہ تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے افغانستان کے صحت کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، اور اس سلسلے میں مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

انڈین وزیرِ صحت جگت پرکاش ندا نے گفتگو کے دوران کہا کہ دہلی افغانستان کے عوام کے ساتھ ادویات، ویکسین اور دیگر طبی ضروریات کے شعبے میں تعاون جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جلد ہی ایک سی ٹی سکین مشین، ادویات اور ویکسین کی ایک کھیپ کابل کے چلڈرن ہیلتھ ہسپتال کو فراہم کی جائے گی۔

اس موقع پر کینسر کی ادویات اور ویکسینز کی علامتی حوالگی کی گئی۔ ادویات، ویکسینز اور 128 سلائس سی ٹی سکینر کی ایک بڑی کھیپ بھی افغانستان بھیجی جا رہی ہے۔

انہوں نے افغان مریضوں کے علاج کے حوالے سے مزید سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی اور ہر ممکن تعاون پر آمادگی ظاہر کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں