اسٹیفن ہاکنگ: جسمانی قید میں ذہن کی آزادی اور کائنات کے راز

تصویر میں سن 1965 دکھائی دیتا ہے — اسٹیفن ہاکنگ اور اُنکی بیوی جین وائلڈ، ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ ہاکنگ کے چہرے پر سنجیدگی اور اندرونی طوفان، جبکہ جین کے چہرے پر اعتماد اور حوصلہ۔ بظاہر یہ ایک عام جوڑے کی تصویر ہے، مگر درحقیقت یہ ایسے سفر کا آغاز ہے جس میں محبت، بیماری، عظیم سائنس، تکلیف، قربانی اور انسان کی حیرت انگیز ہمت سمٹی ہوئی ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ 8 جنوری 1942 کو آکسفورڈ میں پیدا ہوئے، جبکہ برطانیہ دوسری جنگِ عظیم کے سائے تلے تھا۔ ان کے والد طب کے محقق اور والدہ علمی ذوق رکھنے والی روشن خیال خاتون تھیں۔ گھر میں ٹی وی نہیں تھا، لیکن کتابیں بے شمار تھیں۔ کھانے کی میز پر سیاست نہیں بلکہ علم، کائنات، انسانی ذہن اور مستقبل پر گفتگو ہوتی۔ یہی ماحول ان کے ذہن کو مختلف سمتوں میں کھولتا چلا گیا۔

بچپن میں وہ کلاس کے ٹاپرز میں نہیں تھے۔ بعض اساتذہ سمجھتے تھے کہ وہ سست ہیں — مگر دراصل وہ سوال زیادہ کرتے اور اپنے طریقے سے سیکھتے تھے۔ ان کے دوست کہتے تھے کہ وہ کبھی کبھی پرانی سائیکلیں اور گھڑیاں کھول کر دیکھتے کہ یہ چلتی کیسے ہیں۔ اس تجرباتی عادت نے ان کے اندر “چیزیں کیوں ہیں؟” کا مستقل سوال پیدا کر دیا۔ اسکول کے زمانے میں ہی انہیں اندازہ ہو گیا کہ ریاضی اور طبیعیات محض مضامین نہیں بلکہ کائنات کو سمجھنے کی زبان ہیں۔

سترہ سال کی عمر میں وہ آکسفورڈ یونیورسٹی پہنچ گئے۔ شروع میں انہیں یونیورسٹی کا ماحول بورنگ لگتا تھا، وہ زیادہ محنت بھی نہیں کرتے تھے، لیکن ان کی ذہانت اتنی مضبوط تھی کہ کم محنت کے باوجود اچھے نمبر آتے۔ اپنے آخری سال میں وہ کشتی رانی کی ٹیم میں بھی شامل رہے۔ آکسفورڈ سے گریجویشن کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ صرف پڑھانا کافی نہیں، بلکہ انہیں تحقیق کرنی ہے — بڑے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے ہیں۔ اسی لیے وہ کیمبرج یونیورسٹی چلے گئے۔

یہیں ان کی زندگی نے اچانک رخ بدل لیا۔ ایک دن چلتے ہوئے انہیں محسوس ہوا کہ پیر ڈھیلے پڑ رہے ہیں، ہاتھوں میں کمزوری ہے۔ چند ٹیسٹ ہوئے، پھر مزید ٹیسٹ۔ آخرکار ڈاکٹروں نے فیصلہ سنایا کہ انہیں موٹر نیورون ڈیزیز (ALS) ہے۔ یہ بیماری آہستہ آہستہ جسم کو مفلوج کر دیتی ہے، اور اس وقت ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ شاید دو سے تین سال سے زیادہ نہ جئیں۔ یہ خبر ایسے تھی جیسے زندگی کی کتاب بند ہو گئی ہو۔ کچھ عرصہ وہ شدید مایوسی کا شکار رہے، ڈپریشن میں چلے گئے، لوگوں سے ملنا کم کر دیا۔ لیکن پھر ایک دن انہیں احساس ہوا کہ اگر ان کے پاس وقت کم ہے تو انہیں اسے برباد نہیں کرنا چاہیے۔ یہی لمحہ ان کے اندر ایک نئی قوت بن گیا۔

جین وائلڈ سے ان کی منگنی ہوئی، اور جین نے فیصلہ کیا کہ چاہے بیماری کتنی بھی بڑھ جائے، وہ اسٹیفن کے ساتھ رہیں گی۔ 1965 میں شادی ہوئی۔ جین کے حوصلے نے ہاکنگ کو زندگی کی طرف واپس دھکیلا۔ وہیل چیئر آہستہ آہستہ ان کی ضرورت بنتی گئی، پھر بولنے کی طاقت گئی، لیکن ذہن — پہلے سے زیادہ روشن، پہلے سے زیادہ گہرا ہو گیا۔

تحقیق میں انہوں نے اپنا پورا وجود ڈال دیا۔ انہوں نے کائنات کی ابتدا، بیگ بینگ، وقت کی ماہیت اور بلیک ہولز پر کام کیا۔ ان کا سب سے حیرت انگیز نظریہ یہ تھا کہ بلیک ہول محض اندھی کھائیاں نہیں بلکہ توانائی خارج کرتے ہیں — اسے بعد میں ہاکنگ ریڈی ایشن کہا گیا۔ یہ نظریہ اس قدر طاقتور تھا کہ اس نے طبیعیات کے بڑے بڑے اصولوں کو نئی ترتیب دی۔ انہوں نے ریاضی کی مدد سے یہ دکھایا کہ کائنات محض حادثہ نہیں بلکہ قوانین کے ساتھ چلتی ہے — اور انسان ان قوانین کو سمجھ سکتا ہے۔

وقت کے ساتھ ان کا جسم تقریباً مکمل طور پر معذور ہو گیا۔ سانس لینا مشکل، چلنا ناممکن، لکھنا بھی ممکن نہ رہا۔ ایک سرجری کے بعد ان کی آواز ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ تب انہیں وہ کمپیوٹرائزڈ اسپیچ ڈیوائس ملا، جس کے ذریعے وہ ایک ایک لفظ بنا کر بولتے تھے۔ دنیا کے بڑے بڑے سائنسدان، طلبہ، صحافی — سب ان کے یہ مصنوعی الفاظ سُن کر حیرت میں ڈوب جاتے تھے، کیونکہ وہ لفظ کم ہوتے تھے، لیکن خیال بہت عظیم۔

ان کی کتاب “A Brief History of Time” 1988 میں شائع ہوئی۔ ابتدا میں ناشرین کو لگا کہ شاید عام لوگ اسے نہیں پڑھ سکیں گے، لیکن کتاب دنیا بھر میں مقبول ہو گئی۔ لاکھوں افراد نے پہلی بار سمجھا کہ کائنات کے بارے میں سوچنا صرف سائنس دانوں کا حق نہیں۔

ان کے گھر کے حالات ہمیشہ آسان نہیں رہے۔ بیماری، مسلسل دیکھ بھال، تحقیق کا دباؤ، شہرت — سب ملا کر زندگی مشکل بنتی گئی۔ جین نے طویل عرصہ خدمت کی، قربانیاں دیں، لیکن آخرکار تھک گئیں۔ وقت کے ساتھ دونوں الگ ہو گئے۔ بعد میں ہاکنگ کی دوسری شادی ہوئی، مگر زندگی کے آخری برسوں تک کبھی کبھار تنہائی انہیں گھیر لیتی تھی — پھر بھی وہ کام چھوڑنے کو تیار نہ تھے۔

انہیں بے شمار اعزازی ڈگریاں ملیں، کئی بین الاقوامی اکیڈمیز کے رکن بنے۔ انہیں نوبیل انعام نہ ملا — کیونکہ ان کے نظریات تجرباتی طور پر مکمل ثابت نہ ہو سکے — مگر دنیا کی علمی برادری انہیں اپنے زمانے کے عظیم ترین ذہنوں میں شمار کرتی رہی۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ سائنس مذہب کی دشمن نہیں، بلکہ سچ کی تلاش کا ایک راستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک کائنات کو سمجھنے کے سوال باقی ہیں، انسان کا سفر جاری ہے۔

اس کے باوجود وہ اپنے اوپر ہنستے رہتے۔ مذاق، لطیفہ، خود تنقیدی — یہ سب ان کی شخصیت کا حصہ تھے۔ ایک بار انہوں نے کہا: “میرا جسم قید ہے، لیکن ذہن آزاد ہے — اور یہی میری اصل طاقت ہے۔”

14 مارچ 2018 کو وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ وہیل چیئر خاموش ہو گئی، کمپیوٹر کی آواز رک گئی — مگر ان کے خیالات، کتابیں، لیکچرز اور سائنس کی دنیا میں ان کا اثر ہمیشہ باقی رہ گیا۔

اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی اس حقیقت کا اعلان ہے کہ انسان کو شکست بیماریاں نہیں دیتیں — ہار تب ہوتی ہے جب انسان خود ہتھیار ڈال دے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ اگر مقصد بلند ہو، تو جسمانی کمزوریاں بھی راستہ نہیں روک سکتیں۔ وہ معذور نہیں تھے — وہ ارادے کے فلک پر بلند اڑان بھرنے والے انسان تھے۔ ان کی داستان ہر اس شخص کے لیے امید ہے جو مشکلات میں گھرا ہوا ہو: زندگی شاید سخت ہو، مگر جب سوچ زندہ ہو، سفر ختم نہیں ہوتا۔

عجیب و غریب تاریخ

اپنا تبصرہ بھیجیں