کوئٹہ (رپورٹر) حبیب جالب بلوچ کا شمار پاکستان کے اُن سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے طلبہ سیاست، ترقی پسند فکر اور جمہوری جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ بلوچ قوم پرستی، سماجی انصاف اور عوامی حقوق کے پُرزور حامی رہے اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ سیاسی بیداری اور تنظیم سازی کے لیے وقف کیا۔
حبیب جالب بلوچ کا تعلق بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO) سے رہا، جہاں انہوں نے چیئرمین کی حیثیت سے طلبہ کو منظم کرنے اور انہیں سیاسی شعور دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی اُن طلبہ تنظیموں میں سے ہے جس نے نہ صرف تعلیمی مسائل بلکہ قومی حقوق، جمہوریت اور وفاقی انصاف جیسے موضوعات کو بھی اجاگر کیا۔ حبیب جالب بلوچ کی قیادت میں یہ تنظیم ایک مضبوط اور نظریاتی پلیٹ فارم کے طور پر ابھری۔
اس کے علاوہ وہ پروگریسیو یوتھ موومنٹ کے سربراہ بھی رہے۔ اس تحریک کا مقصد نوجوانوں کو طبقاتی شعور، جمہوری اقدار اور ترقی پسند سیاست کی طرف راغب کرنا تھا۔ حبیب جالب بلوچ سمجھتے تھے کہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی تبدیلی نوجوانوں کی فکری تربیت اور سیاسی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے نوجوانوں کو منظم کرنے اور انہیں استحصالی نظام کے خلاف آواز اٹھانے کی ترغیب دی۔
تعلیم کے حوالے سے روایات کے مطابق حبیب جالب بلوچ نے اعلیٰ تعلیم سوویت یونین میں حاصل کی، جہاں اس دور میں دنیا بھر کے ترقی پسند اور انقلابی نظریات پروان چڑھ رہے تھے۔ وہاں کے تعلیمی اور سیاسی ماحول نے ان کی سوچ کو مزید وسعت دی اور وہ سامراج مخالف، عوام دوست اور سوشلسٹ نظریات سے متاثر ہوئے۔ یہی نظریاتی بنیاد بعد میں ان کی سیاست میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔
سیاسی زندگی میں وہ سینیٹر بھی منتخب ہوئے، جہاں انہوں نے ایوانِ بالا میں بلوچستان کے عوام، محروم طبقات اور وفاقی اکائیوں کے حقوق کی ترجمانی کی۔ سینیٹ میں ان کی تقاریر اور مؤقف اصولی، بے باک اور عوامی مسائل سے جڑے ہوئے تھے۔ وہ اقتدار کو مقصد نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
مختصر یہ کہ حبیب جالب بلوچ ایک ایسے سیاسی رہنما تھے جن کی سیاست نظریے، جدوجہد اور عوامی وابستگی پر مبنی تھی۔ طلبہ سیاست سے لے کر ایوانِ پارلیمان تک، انہوں نے ہر سطح پر جمہوریت، برابری اور قومی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ ان کی زندگی آج کے نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کے لیے ایک فکری اور عملی مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔

