لینن کی بیوی انقلاب کی دھار میں ایک عظیم خاتون۔ نادیژدا کروپسکایا
روس کے انقلابی دور کی دھندلی تصاویر میں جب بھی ولادیمیر لینن کا ذکر ہوتا ہے، ایک پُرعزم، سادہ لباس میں ملبوس خاتون کی شبیہ بھی سامنے آتی ہے۔ یہ ہیں نادیژدا کونستانتینوونا کروپسکایا—نہ صرف لینن کی رفیقہ حیات بلکہ ایک مستقل مارکسی انقلابی، نظریہ دان، اور سوویت تعلیمی نظام کی معمار۔
محبت اور انقلاب کا سنگم
کروپسکایا کی زندگی محبت اور انقلاب کے انمٹ رشتے کی داستان ہے۔وہ 1890 کی دہائی میں سینٹ پیٹرزبرگ کے مارکسی حلقوں میں سرگرم رہیں، جہاں ان کی ملاقات ایک نوجوان انقلابی، ولادیمیر الیچ الیانوف (لینن) سے ہوئی۔ یہ محض ذاتی رفاقت نہ تھی؛ یہ نظریاتی ہم آہنگی اور ایک مشترکہ خواب کی ابتدا تھی۔ دونوں نے جلاوطنی کے ایام سائبیریا میں گزارے، جہاں انہوں نے نہ صرف شادی کی بلکہ روسی انقلاب کے لیے بنیادی تحریریں بھی تیار کیں۔
تنظیم ساز اور رہنما
1905 کے انقلاب کے دوران وہ بالشویک پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی جنرل سیکرٹری مقرر ہوئیں۔یہ ایک انتہائی اہم ذمہ داری تھی، جس میں پارٹی کے داخلی رابطوں، ریکارڈز اور خفیہ خط و کتابت کا نظام ان کے ہاتھ میں تھا۔ ان کی تنظیمی صلاحیتوں نے پارٹی کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
تعلیم کی انقلابی معمار
اکتوبر انقلاب کے بعد کروپسکایا کا اصل کردار سامنے آیا۔وہ نئی سوویت ریاست میں تعلیم کی نائب وزیر اعظم (کمیسر) بنائی گئیں۔ انہوں نے پرانے زار شاہی تعلیمی ڈھانچے کو مکمل طور پر بدل کر ایک جدید، سیکولر، مفت اور عام تعلیم کا نظام متعارف کرایا۔ ان کا ماننا تھا کہ “تعلیم ہر شہری کا حق ہے، چاہے وہ کسی بھی عمر، صنف یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔”
خواتین کی ترقی کی علمبردار
کروپسکایا نے خواتین کے حقوق اور ان کی سیاسی و سماجی شمولیت کے لیے انتھک کام کیا۔انہوں نے خواتین مزدوروں کے لیے تعلیمی پروگرام شروع کیے، کنڈرگارٹن کا نظام متعارف کرایا تاکہ ماؤں کو کام کرنے کا موقع مل سکے، اور خواتین کو سیاسی تعلیم دینے پر زور دیا۔ وہ کہتی تھیں: “خواتین کی مکمل آزادی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک وہ معاشی طور پر غلام ہیں۔”
ورثہ
نادیژدا کروپسکایا کو اکثر لینن کی بیوی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے،لیکن حقیقت میں وہ خود ایک آزاد اور بااثر سیاسی شخصیت تھیں۔ انہوں نے سوویت یونین میں نہ صرف تعلیم بلکہ ثقافت، لائبریری سائنس اور نوجوانوں کی تنظیم سازی میں گہرے نقوش چھوڑے۔ ان کی تحریریں آج بھی تعلیمی نظریہ اور سماجی انصاف پر بحث کا حصہ ہیں۔
وہ ایک ایسی خاتون تھیں جس نے اپنی پہچان کو کبھی کسی کے سائے میں نہیں چھپنے دیا۔ وہ انقلاب کی دھار میں خود ایک روشن ستارہ تھیں—ایک ایسی شمع جو تعلیم اور مساوات کے راستے کو روشن کرتی رہی۔

