ایک نئے تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ 2025 میں موسمیاتی آفات کے نتیجے میں دنیا کو 120 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا، تاہم حقیقی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ غریب ممالک میں مہلک ترین واقعات کی بڑی حد تک انشورنس نہیں تھی اور انہیں شمار بھی کم کیا گیا۔
رواں برس شدید موسمی واقعات کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ 2025 کی چھ مہنگی ترین موسمیاتی آفات میں سے چار کا تعلق ایشیا سے تھا۔ دیگر خطوں میں ہونے والی کئی مہلک ترین آفات مہنگے ترین واقعات کی فہرست میں شامل نہیں ہو سکیں کیونکہ مالی نقصانات کی انشورنس نہیں تھی۔
فلاحی تنظیم ’کرسچین ایڈ‘ کی جانب سے کیے گئے اس تجزیے میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق 10 ایسی آفات کی نشاندہی کی گئی جن میں سے ہر ایک نے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچایا، اور ان کا مجموعی نقصان 122 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ زیادہ تر اعداد و شمار کا انحصار انشورنس شدہ نقصانات پر ہے، جو ان امیر ممالک میں زیادہ ہوتے ہیں جہاں جائیداد کی قیمتیں زیادہ ہیں اور انشورنس کوریج وسیع ہے۔
امریکہ میں، کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے 60 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچایا اور اس کا تعلق 400 سے زیادہ اموات سے جوڑا گیا، جس سے یہ سال کی واحد مہنگی ترین آفت بن گئی۔ تاہم مجموعی طور پر فہرست میں ایشیا کا غلبہ رہا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نومبر میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں سمندری طوفانوں اور سیلاب نے اندازاً 25 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا اور تھائی لینڈ، انڈونیشیا، سری لنکا، ویت نام اور ملائیشیا میں 1,750 سے زیادہ اموات ہوئیں۔
چین میں سیلاب نے 11.7 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا اور کم از کم 30 اموات ہوئیں، جبکہ انڈیا اور پاکستان میں سیلاب اور تودے گرنے سے 1,860 سے زیادہ اموات ہوئیں اور لاکھوں متاثر ہوئے۔
فلپائن میں سمندری طوفانوں نے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچایا اور 14 لاکھ سے زیادہ افراد بےگھر ہوئے۔
کئی غریب ممالک میں شدید انسانی تکالیف کی حامل آفات عالمی لاگت کی درجہ بندی میں سرے سے شامل ہی نہیں ہو سکیں۔ نائیجیریا اور ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو میں سیلاب نے سینکڑوں لوگوں کی جان لی، جبکہ ایران اور مغربی ایشیا میں طویل خشک سالی نے تہران میں ایک کروڑ تک لوگوں کو پانی کی قلت کی وجہ سے انخلا کے خدشے سے دوچار کر دیا ہے۔
نیروبی میں قائم کلائمیٹ تھنک ٹینک ’پاور شفٹ افریقہ‘ کے ڈائریکٹر محمد ادو نے کہا، ’جہاں امیر قومیں آفات کی مالی لاگت کا حساب لگا رہی ہیں، وہیں افریقہ، ایشیا اور کیریبین کے لاکھوں لوگ کھوئی ہوئی جانوں، گھروں اور مستقبل کا شمار کر رہے ہیں۔‘
امپیریل کالج لندن کی ایمریٹس پروفیسر برائے ایٹموسفیرک فزکس، جوانا ہیگ نے کہا، ’یہ آفات ’قدرتی‘ نہیں ہیں، یہ فوسل فیول کے مسلسل پھیلاؤ اور سیاسی تاخیر کا ناگزیر نتیجہ ہیں۔ اگرچہ نقصانات اربوں میں ہیں، لیکن سب سے بھاری بوجھ ان کمیونٹیز پر پڑتا ہے جن کے پاس بحالی کے لیے سب سے کم وسائل ہیں۔‘
یہ نتائج اس ماہ یورپی یونین کی کلائمیٹ اور سپیس ایجنسی ’کوپرنیکس‘ کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ 2025 ریکارڈ پر دنیا کا دوسرا یا تیسرا گرم ترین سال ہو گا، جسے ممکنہ طور پر صرف 2024 کی ریکارڈ توڑ گرمی ہی پیچھے چھوڑ سکی ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق، ریکارڈز کے آغاز سے اب تک گذشتہ 10 سال گرم ترین 10 سال رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں تیزی سے اضافے کے باوجود، کوئلہ، تیل اور گیس جلانے کی وجہ سے عالمی اخراج میں اضافہ جاری ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق وہ اضافی گرمی شدید موسم میں شدت پیدا کر رہی ہے۔ اس سال کی بیشتر بڑی آفات کے بارے میں پایا گیا کہ موسمیاتی بحران نے ان کی شدت میں اضافہ کیا۔ گرم فضا میں نمی برقرار رکھنے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے، جس سے شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ زیادہ گرم اور خشک حالات ہیٹ ویوز، خشک سالی اور جنگلات میں آگ لگنے کے موسم کو بدتر بنا رہے ہیں۔
سمندر بھی غیر معمولی طور پر گرم رہے ہیں، جس سے طاقتور طوفان اور مرجان کی چٹانوں کے رنگ اڑنے (کورل بلیچنگ) کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
سپین اور پرتگال میں جنگلات کی آگ طویل اور ریکارڈ توڑ گرمی کے بعد لگی، جبکہ جنوبی ایشیا اور چین میں سیلاب غیر معمولی طور پر شدید مون سون بارشوں کے بعد آیا۔ سکاٹ لینڈ میں، شدید درجہ حرارت نے ہائی لینڈز میں جنگلات کی آگ کو ہوا دی، جس سے 47,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبہ جل گیا۔
کرسچین ایڈ کے چیف ایگزیکٹو پیٹرک واٹ نے کہا، ’خطرناک طوفان، تباہ کن سیلاب اور طویل خشک سالی زندگیوں اور روزگار کو درہم برہم کر رہے ہیں۔ غریب ترین کمیونٹیز سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’موسمیاتی بحران سے ہونے والی تکالیف ایک سیاسی انتخاب ہے۔ یہ فوسل فیول جلانے کا عمل جاری رکھنے، اخراج بڑھنے دینے، اور کلائمیٹ فنانس پر وعدے توڑنے کے فیصلوں کا نتیجہ ہے۔‘

