تمام معاشروں کے ’کُول‘ لوگوں میں چھ اوصاف مشترک ہوتے ہیں: تحقیق

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ’کُول‘ (پرکشش اور پراثر) سمجھے جانے والے افراد میں تمام ثقافتوں میں حیرت انگیز طور پر چھ مشترکہ اوصاف پائے جاتے ہیں۔ یہ تحقیق اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ اس اصطلاح کے معنی کو عالمی سطح پر یکساں بنانے میں ذرائع ابلاغ نے اہم کردار ادا کیا۔

مطالعے کے مطابق ثقافتوں کے مختلف ہونے کے باوجود مشرقی اور مغربی سماجی حلقوں میں ‘کول‘ انسان کی تعریف بظاہر ایک جیسی معلوم ہوتی ہے۔ یہ تحقیق جرنل آف ایکسپیریمنٹل سائیکالوجی میں شائع ہوئی ہے۔

یہ مطالعہ 2018 سے 2022 تک کیے گئے نفسیاتی تجربات پر مبنی ہے جن میں تقریباً 6000 بالغ شرکا نے حصہ لیا جن کا تعلق امریکہ، آسٹریلیا، چلی، چین، ہانگ کانگ، جرمنی، انڈیا، میکسیکو، نائجیریا، اسپین، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا اور ترکی سے تھا۔

تحقیق میں شامل ہر فرد سے کہا گیا کہ وہ ایسے کسی شخص کے بارے میں سوچیں جسے وہ ’کول‘، ’کول نہیں‘، ’اچھا‘ یا ’اچھا نہیں‘ سمجھتے ہوں، اور پھر اس فرد کی شخصیت اور اقدار کی درجہ بندی کریں۔

اس ڈیٹا کی بنیاد پر محققین نے اندازہ لگایا کہ ’کول‘ لوگ ’کول نہیں‘ اور ’اچھے‘ لوگوں سے کیسے مختلف ہیں۔ ’ہر کوئی ’کول‘ بننا چاہتا ہے، یا کم از کم ’کول نہیں‘ ہونے کے داغ سے بچنا چاہتا ہے، اور معاشرے کو ’کول‘ لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ وہ روایات کو چیلنج کرتے، تبدیلی کی تحریک دیتے، اور ثقافت کو آگے بڑھاتے ہیں۔‘ 

مطالعے کے شریک محقق ٹوڈ پیزوٹی نے کہا کہ ’کول ہونے کا تصور چھوٹی باغی ذیلی ثقافتوں میں شروع ہوا۔ مثلاً 1940 کی دہائی میں بلیک جاز موسیقار اور 1950 کی دہائی میں بیٹ نکس۔ جیسے جیسے معاشرہ تیزی سے آگے بڑھتا ہے اور تخلیقی عمل اور تبدیلی کو زیادہ اہمیت دیتا ہے، ’کول‘ لوگ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوتے جا رہے ہیں۔‘

امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے محققین نے دریافت کیا کہ ثقافتی تفاوت کے باوجود ’کول‘ لوگوں کو عالم گیر طور پر زیادہ ملنسار، لذت پرست، طاقتور، مہم جو، کھلے ذہن کے مالک اور خودمختار سمجھا گیا۔

جب کہ اس کے مقابلے میں ’اچھے‘ لوگوں کو زیادہ قواعد و روایات کا پابند، روایتی، محفوظ، گرم جوش، خوش مزاج، عالم گیر سوچ رکھنے والے، ضمیر سے کام لینے والے اور پرسکون سمجھا گیا۔

اگرچہ کچھ خصوصیات مشترک ہیں تاہم محققین نے نشاندہی کی ہے کہ کہ ’کول‘ ہونا اخلاقی لحاظ سے لازمی طور پر ’اچھا‘ سمجھا نہیں جاتا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مطالعے میں دیکھا کیا گیا کہ فیشن، موسیقی اور فلمی صنعت کی عالمی سطح پر ترقی نے’کول‘ کے معنی کو دنیا بھر میں ایک ہی نوعیت کی اقدار اور خصوصیات پر مرتکز کر دیا ہے اور یہ ’تجارتی لحاظ سے زیادہ موافق‘ بن چکا ہے۔

ڈاکٹر پیزوٹی کہتے ہیں کہ ’کول ہونا یقینی طور پر وقت کے ساتھ ارتقا پذیر ہوا ہے مگر میرے خیال میں اس نے اپنی تیزروی کھوئی نہیں ہے۔ یہ بس زیادہ کارآمد ہو گیا ہے۔‘

محققین نے کہا کہ ان کے نتائج اس بات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ ’کول ہونا‘ سماجی درجہ بندی قائم کرنے اور سماجی و ثقافتی روایات اور ضوابط کو بدلنے میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔

 انہوں نے لکھا کہ ’اس بات سے کہ دنیا بھر میں ’کول‘ لوگوں کو ایک ہی نوعیت کے اوصاف کا حامل سمجھا جاتا ہے اور یہ اوصاف عمومی طور پر ’اچھا‘ کی بجائے مخصوص طور پر ’کول‘ سمجھے جاتے ہیں، ایک مضبوط دلیل بنتی ہے کہ ’کول ہونا‘ بامعنی تصور ہے جو یہ سمجھانے میں مدد دے سکتا ہے کہ لوگ اپنے سماجی عالم کو کیسے سمجھتے، ترتیب اور ساخت دیتے ہیں۔

اگر ’کول ہونا‘ اس حیثیت کے طور پر ابھرا ہے جو ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو ثقافتی تبدیلیوں کو تحریک دیتے اور انہیں ممکن بناتے ہیں، تو شاید ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ سان فرانسسکو اور سانتیاگو سے لے کر سڈنی اور سیؤل تک کے ’کول‘ لوگ ایسے اوصاف ظاہر کرتے ہیں جو انہیں رواج پر سوال اٹھانے، جدت لانے، اور دوسروں کو تبدیلی کے لیے قائل کرنے کے زیادہ قابل بناتے ہیں۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں