گیسٹروانٹرولوجی کیلئے منظور شدہ عمارت کو ٹراما سینٹر بنانے کا فیصلہ غیر سائنسی، غیر قانونی و عوامی صحت کے مفاد کے خلاف ہے، پی ایم اے کوئٹہ

کوئٹہ(این این آئی)پی ایم اے کوئٹہ محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے کوئٹہ میں ادارہ امراضِ معدہ، جگر و آنت کی نئی تعمیر شدہ عمارت کو توڑ پھوڑ کر دوبارہ مرمت کے بعد، بغیر کسی جامع پالیسی، باقاعدہ سروس اسٹرکچر، واضح طریقہ کار، تربیت یافتہ عملے اور بنیادی سہولیات کے، ٹراما سینٹر کے طور پر افتتاح کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات اور گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔پی ایم اے کوئٹہ کے ترجمان کے بیان کے مطابق، مذکورہ عمارت گیسٹروانٹرولوجی کے لیے باقاعدہ طور پر منظور شدہ، منصوبہ بند اور تعمیر شدہ ہے۔ اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا ادارہ جاتی منصوبہ بندی، طویل المدتی وژن اور صوبے کے صحت کے نظام کی بنیادی حکمتِ عملی کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معیار اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کے رہنما اصولوں کے مطابق، مؤثر ٹراما اور ایمرجنسی سروسز کا قیام صرف ترشری کیئر ہسپتالوں جیسے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال (BMCH) یا سول ہسپتال کوئٹہ (SPH) کے اندر یا ان کے توسیعی نظام کے طور پر ہی قابلِ عمل اور محفوظ ہوتا ہے۔ ہسپتالوں سے دور، بغیر انفراسٹرکچر، انسانی وسائل اور سروس اسٹرکچر کے قائم کیے گئے ٹراما سینٹر نہ صرف غیر مؤثر بلکہ مریضوں کی جان کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ نے کہا کہ کوئٹہ میں ایک مزید ٹراما و ایمرجنسی سینٹر کے قیام کی باقاعدہ منظوری پہلے ہی شیخ خلیفہ بن زاید النہیان ہسپتال میں دی جا چکی ہے، مگر بدقسمتی سے محکمہ صحت کی عدم دلچسپی، ناقص ترجیحات اور سنجیدگی کے فقدان کے باعث اس منصوبے پر تاحال عملی پیش رفت صفر ہے۔ترجمان کے مطابق، کوئٹہ جیسے بڑے اور حساس شہر میں کم از کم دو مکمل فعال ٹراما و ایمرجنسی سینٹرز کی اشد ضرورت ہے، تاہم یہ امر انتہائی ضروری ہے کہ ان مراکز کا قیام واضح معیار (Criteria)، معیاری SOPs، باقاعدہ سروس اسٹرکچر اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ عمل میں لایا جائے، نہ کہ عجلت، بدنظمی اور نمائشی اقدامات کے تحت۔پی ایم اے کوئٹہ نے اس امر پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا کہ محکمہ صحت میں پالیسی سازی کے عمل میں تکنیکی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بشمول پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان کے صحت کے اشاریے پہلے ہی پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں نہایت تشویشناک اور بعض حوالوں سے عالمی معیار سے بھی کم ہیں، مگر اس کے باوجود موجودہ حکام کی توجہ بنیادی صحت سہولیات، ادویات، آلات، تربیت یافتہ عملے اور مؤثر انتظامی نظام کی بجائے صرف غیر ضروری تعمیرات، مرمت اور تزئین و آرائش تک محدود ہے۔ عمارتیں نہیں، بلکہ نظام صحت کو بہتر بناتے ہیں۔افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو سرنج، کینولا اور ایمرجنسی ادویات جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں، جبکہ دوسری جانب تعمیراتی منصوبوں کو ذاتی مفادات اور کاروباری فوائد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو ایک ناکام، غیر شفاف اور کرپٹ نظامِ صحت کی عکاسی کرتا ہے۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ اس امر پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ بلوچستان میں 80 فیصد سے زائد انتظامی و مینیجریل عہدے اضافی یا قائم مقام (Acting / Additional Charge) بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں، جو ادارہ جاتی کمزوری، ناقص گورننس اور غیر سنجیدہ طرزِ حکمرانی کا واضح ثبوت ہے۔ یہ صورتحال وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور موجودہ حکومت کے دعوؤں کے صریحاً منافی ہے۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتی ہے کہ صحت کے شعبے سے متعلق کوئی بھی پالیسی، منصوبہ یا انتظامی فیصلہ اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہوگا جب تک پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ اور YDA بلوچستان کو باقاعدہ، بامعنی اور مؤثر مشاورت کے عمل میں شامل نہیں کیا جاتا۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، چیف سیکریٹری بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ محکمہ? صحت میں ہر سطح پر میرٹ کے قتل کا سنجیدہ نوٹس لیا جائے،غیر ضروری، غیر سائنسی اور غیر مؤثر فیصلوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے،ٹراما و ایمرجنسی سروسز سمیت تمام اہم منصوبے مشاورت، معیار اور اتفاقِ رائے سے مکمل کیے جائیں تاکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی پیدا ہو اور عوام کو حقیقی معنوں میں معیاری صحت سہولیات میسر آ سکیں۔بصورتِ دیگر، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ صوبے کی دیگر ڈاکٹر تنظیموں اور ہیلتھ پروفیشنل ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر اور سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں