اسلام آباد(این این آئی) وزیر اعظم شہبازشریف نے تیل و گیس سپلائی چین کو درآمد ہونے سے لے کر صارفین کے استعمال تک ترجیحی بنیادوں پر ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت ہماری ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے،تیل و گیس کی ترسیل کی سپلائی چین کی ڈیجیٹائز یشن سے ان مصنوعات کی سمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوگی اور قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گا۔ جمعرات کو جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم ڈویڑن کے امور پر اہم اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کی شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت ہماری ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی مد میں خرچ ہونے والا زر مبادلہ بچایا جا سکے۔ انہوں نے وزیراعظم کی تیل و گیس سپلائی چین کو درآمد ہونے سے لے کر صارفین کے استعمال تک ترجیحی بنیادوں پر ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تیل و گیس کی ترسیل کی سپلائی چین کی ڈیجیٹائز یشن سے ان مصنوعات کی سمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوگی اور قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گا۔اجلاس کو پیٹرولیم و گیس سیکٹر کے روڈمیپ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) نے ضلع کوہاٹ میں ناشپا بلاک میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر دریافت کر لئے ہیں۔ وزیراعظم کی ناشپا بلاک میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر کی دریافت پر قوم کو مبارکباد اور اس حوالے سے متعلقہ اداروں کے کام کی تعریف کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان ذخائر سے یومیہ 4100 بیرل تیل نکالا جا سکے گا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس سال سردی کے موسم میں گھریلو صارفین کو پچھلے سال کی نسبت بہتر پریشر کے ساتھ گیس مہیا کی جا رہی ہے۔آر ایل این جی کے کنکشنز پر تیزی سے کام جاری ہے اور جون 2026 تک 350،000 کنکشنز کا ٹارگٹ مکمل کرلیا جائے گا.شیوا گیس فیلڈ اور بٹانی گیس فیلڈ کے لئے پائیپ لائینز کو کمیشن کیا جا چکا ہے جبکہ کوٹ پالک گیس فیلڈ سے پائپ لائن پر کام جاری ہے۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پیٹرولیم ڈویڑن علی پرویز ملک اور متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

