سر حد چیمبر کی ا یگز یکٹو کمیٹی کو طو یل با ر ڈز بند ش کی وجہ سے تاجروں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان پر تشو یش

پشاور(این این آئی)سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایگزیکٹو کمیٹی نے کہا ہے کہ طو رخم سمیت چا ر با ر ڈرکراسنگ پوائنٹس کی طویل بندش کی وجہ سے دو طرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ بری طرح متاثر ہوئی ہے جس سے بڑے پیمانے دونو ں جا نب سے تا جر و ں، ایکسپور ٹر ز اور امپورٹرز کو مالی نقصان ہوا ہے اور بے روزگاری بھی اضا فہ ہو ا ہے۔تفصیلا ت کے مطابق سر حد چیمبر کی ایگز یکٹو کمیٹی کا اجلاس چیمبر کے صدر صدر جنید الطاف کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں پاک افغان سرحد اور چار دیگر کراسنگ پوائنٹس کی بندش پر تفصیلی بحث ہوئی اور اس اہم معاملے پر متفقہ موقف اختیار کرتے ہوئے تما م مسا ئل کو با ت چیت / مذاکرات کے ذریعے حل کر نے اور با ہمی تجا رت اور ٹر ا نز ٹ ٹر یڈ کو فور ی بحا ل کر نے مطا لبہ کیا تا کہ تجارتی برادری کو مزید مالی نقصان سے بچا یا جا سکے اور و ا ضح کیا کسی قسم کی مز ید تا خیر سے صو ر تحال گھمبیر ہو سکتی ہے۔ایگز یکٹو کمیٹی نے و ا ضح مو قف ا ختیا ر کر تے ہو ئے کہا کہ بز نس کمیو نٹی اندرو نی و بیر ونی سیکور ٹی کی مخد و ش صو رتحا ل کامکمل ا در ک ہے اور پا کستا ن سلامتی و امن پر کسی قسم کا سمجھتا نہیں کیا جا سکتا ہے تا ہم فور م نے کہاکہ دو طر فہ تجا رت کا بحا لی و فروغ بھی ملکی معیشت کے ا ستحکا م، کارو با رو معا شی سر گر میو ں اور صنعتی تر قی کیلئے ا شد ضر ورت ہے۔ اجلاس میں سر حد چیمبر کے سینئر نائب صدر محمد ندیم، نائب صدر صابر احمد بنگش، گروپ لیڈر اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر غضنفر بلور، چیمبر کے سابق صدور فواد اسحاق، حا جی محمد ا فضل، فضل مقیم خان، ذوالفقار علی خان، سابق سینئر نائب صدر اور سر حد چیمبر کی اسٹینڈ نگ کمیٹی برائے پاک افغان با ہمی تجارت اور وسطحی ا یشیا ء ر یا ستو ں کے چیئرمین شا ہد حسین،اور سر حد چیمبر کی اسٹینڈ نگ کمیٹی بر ائے ٹرانز ٹ ٹر یڈ کے چیر مین اور سابق صدر سر حد چیمبر فیضی محمد فیضی، سابق سینئر نائب صدر عبدالجلیل جان، سابق نائب صدر حارث مفتی اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ا ر اکین سجاد ظہیر، آفتاب اقبال، عدنان ناصر، شمس الرحیم، گل زمان اور ضیاء الحق سر حد ی، اور سیف اللہ خان، اور سیکر ٹر ی جنر ل سر حد چیمبر مقتصد احسن، صدر گل، فہد امین، اشتیا ق پر ا چہ، سھیل جا و ید اور دیگر بھی مو جو دتھے۔صدر جنید الطاف نے ایوان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاک افغان اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے 12 ہزار سے زائد کنٹینرز کراچی پورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں اور تاجروں کو بھاری ڈ یمز ج اور ڈیٹنش چارجز ادا کر نے پر مجبورہیں جبکہ تاجروں کے ہزاروں کنٹینرز خصوصاً خراب ہونے والی اشیاء سے لدے غلام، اسپن بولدک، خرلاچی اور طورخم بارڈر پر بھی پھنسے ہوئے تھے جس سے تجارتی برادری کو خوراک اور خراب ہونے والی اشیاء کے نقصان کی وجہ سے بھاری مالی نقصان پہنچا۔سر حد چیمبر کے صدر جنید الطاف نے کہا کہ طورخم کراسنگ بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں تاجروں کیلئے لائف لائن کی حیثیت سمجھا جاتا ہے لیکن خیبر پختو نخوا کے تاجر برادری کازیا دہ تر انحصار افغانستان اور وسطحی ایشیا ء کے ممالک کیساتھ تجارت پر ہے اور بار ڈز کی بند ش کی وجہ سے دو نو ں ممالک کے تا جر و ں انتہا ئی مشکل صو رتحا ل سے دو چا ر کر رکھا ہے اور انھیں اربوں روپے کے مالی نقصان ہو چکا ہے اور با ہمی تجا رت اور ٹر ا نز ٹ ٹر یڈ بھی بر ی متا ثر ہو ئی ہے اور تجا رت اور کمر شل گر میو ں نا پید ہو نے کیو جہ سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو اہے۔ان کاکہنا تھا سرحد پار تجارت پر انحصار کرنے والی سرحدی برادریوں کو شدید سماجی و اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرنے پر زور دیا اور اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ اسٹیک ہولڈرز کنٹینر ز کی ڈیٹنش اور بینک گارنٹی اور کنٹینر سیکیورٹی ڈپازٹس کی مد ہونے والے اربوں ڈالرز کے نقصانات ہو ا ہے۔سر حد چیمبر کے صدر جنید الطاف نے کہا کہ کلیئرنگ ایجنٹس اور بانڈڈ کیریئرز کی لیکویڈیٹی ختم ہو چکی ہے، جبکہ غیر ملکی شپنگ لائنز چارجز وصول کرتی رہتی ہیں۔ا یگز یکٹو کمیٹی ا جلاس سے گر وپ لیڈ ر غضنفر بلور، سا بق صدور اور کمیٹی کے ا راکین نے بھی خطا ب کیا اور ایو ان کو پا ک ا فغا ن با ر ڈز کی بندش کے حوا لے سے بزنس کمیو نٹی کے خد شا ت اور تحفظات سے تفصیلی طو ر پر ا ٓگا ہ کیا اور تما م مسا ئل کو با ت چیت اور مذاکر ات کے زر یعے حل کر نے اور فور ی با رڈز کو کھو لنے کا مطا لبہ کیا۔سر حد چیمبر کے صدر جنیدا لطا ف نے کہا خطے میں پا کستا ن کی جیو ا سٹر یجک با لخصو ص افغا نستا ن اور و سطحی ا یشیا ء کی ر یا ستو ں کے سا تھ تجا رت کا یہی و احد ر استہ ہے اسلئے اس تجا رتی روٹس کی بند ش پر فور ی نظر ثا نی کی جا ئے اور انھیں فور ی کھلا جا ئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں