کراچی(اسٹاف رپورٹر) کراچی میں بدترین بیڈ گورننس، زمینوں پر قبضوں اور جرائم کی شرح میں اضافے روزانہ ہیوی ٹریفک سے شہریوں کے کچلنے کے واقعات، آباد اور دیگراسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کے بعد جماعت اسلامی، ایم کیو ایم نے حق دو کراچی کو، کراچی بچاؤ تحریک کا اعلان کردیا ہے۔ دونوں جماعتیں اقتدار کا حصہ ہیں۔ ایم کیو ایم قومی کی 22اور سندھ اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت ہے۔ جبکہ جماعت اسلامی بلدیاتی سیٹ اپ میں اکثریتی جماعت اوت سات ٹاؤنز چیئرمین کے ساتھ کراچی کا اہم حصہ ہے۔ لیکن دونوں جماعتیں کراچی پر سیاست کر رہی ہیں عملی طور پر انکی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کراچی کے میئر اور ٹاون چیئرمین جنکا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے کرپشن کے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرتضی وہاب ناکام ترین اور بدنام ترین میئر ہیں۔ جنکے دور میں کرپشن سو فیصد ترقی دس فیصد ادارے کی ریکوری پندہ فیصد جیبوں کی ریکوری سو فیصد ہے۔ تینوں جماعتیں چورن بیچنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہیں۔ ایم کیو ایم کی گروپ بندی ڈھکی چھپی نہیں۔ مصطفی کمال کے الطاف حسین سے متعلق بیان کے بعد سانپ سونگھ گیا ہے خفت مٹانے کے لئے کراچی بچاؤ تحریک کا اعلان شعبدہ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ بیک ڈور ڈپلو میسی میں پی پی پی اور ایم کیو ایم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ کراچی میں KMC, KDA, MDA, LDA, KWSC, SBCA, TMC;sکرپشن اور کراچی کی زمینوں پر قبضوں ترقیاتی کاموں کے نام پر دھوکہ دہی کی کھلی مثال ہیں۔سب سے زیادہ کرپشن کے ایم سی میں ہے جہاں جماعت اسلامی فرینڈلی اپوزیشن کر رہی ہے۔ کرپشن کے انکشافات، جعلی آکشن، سزا یافتہ افسر کو تنخواہ کی ادائیگی اور ریٹائرمنٹ، 80لاکھ ہفتہ رشوت لینے والے میونسپل کمشنر کی سرپرستی، نو ہزار ایکڑ زمین منگھو پیر کی بی ایل اے اور سندھو دیش فتنوں کو دینے، بے نظیر کا اسٹیڈیم بیچنے، ذولفقار علی بھٹو کا کراچی سلاٹر ہاؤس کی 40ایکڑ زمین فروخت کرنے الہ دین پارک کی چار ایکڑ زمین، مواچھ گوٹھ کی چھ ایکڑ زمین، 6000گز کراچی کی قیمتی زمین، ہاکس بے ہٹس، پٹرول پمپس، شادی ہال، یو سی ڈی اور اورنگی کی قیمتی زمینیں دکانیں، فلاحی پلاٹوں کی کمرشل لیز، فیصل رضوی کرپٹ ٹیم کے نقشوں کی تبدیلی کے بعد لیزیں، افضل زیدی کے پانچ ایکڑ اسلام آباد مین فارم ہاؤس، ریٹائرڈ ملازمین کو سرکاری راز اور ڈیوٹی کرانے جعلسازیوں، HRMکا مرکزی کرپشن گڑھ، پے رول میں جعلی انٹریز، ڈی پی سیز اور ٹرانسفر اور پوسٹنگ پر رشوت ستانی، ٹھیکوں میں گھپلوں، جعلی بلنگ، گلزر ابڑو، اٖفضل زیدی، سیف عباس، فیصل رضوی، عدنان زیدی، سمیرا حسن اور او پی ایس افسران کی لوٹ مار نے کے ایم سی کو کرپشن کی سب سے بڑی دیوی بنا دیا ہے۔ میئر کی اعلان کردہ 106سڑکیں 25ارب جاری ہونے کے باوجود کہیں نبتی نظر نہیں آتیں۔ اراکین اسمبلی کے فنڈز خرچ ہوتے نظر نہیں آتے۔ اسٹاک ایکسچینج کی اڑان مثبت اعشاریہ ہے لیکن ترقی منفی ہے۔ ڈبل ٹیکر بسیں ہیں لیکن سڑکیں کھنڈرات، بلاول بھٹو کی غفلت پی پی پی کا چیپٹر کراچی سے کلوز کرانے جارہی ہے۔ میئر کی چرب زبانی کو ترقی کی کہانی بنانے کے لئے آصف زرداری کو بلاول بھٹو کو ایکشن میں آنا ہوگا ورنہ بلدیاتی اقتدار کا دی اینڈ اور نیب کا اسٹارٹ یقینی ہے میئر اور سب کا احتساب کریں، جماعت اسلامی دھوکہ نے دے کچھ کرکے دکھائے۔ حافظ نعیم الرحمان کراچی کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ارباب اختیار سے اکثریت ہونے کے باوجود میئر شپ واپس لیں۔ نعمت اللہ خان اور مصطفی کمال کی طرح کام کریں۔ وسیم اختر مرتضی وہاب سے بہتر میئر تھے۔ مقامی افسران اپنے ہی شہر میں بیگانے کردیئے گئے ہیں۔ کونسل افسران کے تبادلوں پر پابندی SCUGمشتبہ افسران کو کھپانے کے لئے ہے۔ جو طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ سندھی مہاجر کی نفرت کی بنیاد ہے۔ ارباب اختیار نوٹس لیں۔ کراچی کو کرپشن فری بنائیں۔

